توہین رسالت کے الزام میں مردان یونیورسٹی کے طالبعلم کا قتل امام کعبہ بھی میدان میں آگئے

امام کعبہ شیخ صالح بن محمد بن ابراہیم کا کہنا ہے کہ جب بھی کسی توہین کا مرتکب ہونے کا الزام عائد ہوتا ہے تو دو اقسام کے لوگ سامنے آتے ہیں ایک وہ جوان پڑھ ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو اس کا اپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں تاہم دوسری قسم کے لوگوں کے لیئے مذہب میں کوئی گنجائش نہیں کیونکہ یہ گناہ کبیرہ کے مرتکب ہیں ۔جاری ہے۔

اور انکا یہ فعل اسلام اور انسانیت ہی کیخلاف ہے گزشتہ روزنجی ٹی وی سے گفتگو میں انکا کہنا تھا کہ ان پڑھ افراد کو اس ضمن میں تعلیمات دینے کی ضرورت ہے کہ دراصل گستاخی ہے کیا تاکہ وہ آئندہ کسی کے بہکاوے میں نہ آسکیں جبکہ جو جان بوجھ کرنا موس رسالت کو اپنے مفادات کے لیئے استعمال کرتے ہیں ۔جاری ہے۔

ایسے لوگ گنا ہ کیبرہ کے مرتکب ہوتے ہیں انکا کہنا تھا کہ یہ علمائ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوگوں کو انتہائ پسندی اور دہچت گردی سے دور رکھیں جب کہ  سکالز اسلام کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کی زیادہ سے زیادہ سعی کریں کیونہ اسلام امن ،درگزر اور عدم تشدد پر مبنی دین ہے امام کعبہ

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں