صرف حضرت جبرائیل علیہ السلام کو موت کا فرشتہ کیوں مقرر کیا گیا انتہائی دلچسپ واقعہ

حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر سے ایک مشت خاک لاؤ..بحکم الہٰی جبرائیل علیہ السلام آسمان کی بلندی سے فوراً اس زمین پر آئے کہ اب جہاں خانہ کعبہ ہے اور چاہا کہ ایک مشت خاک لیں..لیکن اسی وقت زمین نے ان کو قسم دی کہ اے جبرائیل خدا کے نام پہ مجھ سے خاک مت لے کہ اس سے وہ خلیفہ پیدا ہو گا جس کی اولاد بہت عاصی، گنہگار و مستوجب عذاب ہو گی.. میں مسکین خاک پاء ہوں طاقت و تحمل عذاب خدا کا نہیں رکھتی ہوں…اس بات کو سن کر حضرت جبرائیل علیہ السلام خاک سے باز آئے۔غرض اسی طرح سے جبرائیل زمین سے خالی ہاتھ لوٹ گئے ۔جاری ہے ۔

جس کے بعد خدائے باری تعالی کے حکم سے میکائیل اور اسرافیل علیہما السلام کو بھی بھیجا گیا لیکن یہ کام ان سے بھی نہ ہو سکاتب عزرائیل کو بھیجا گیا، ان کو بھی زمین نے منع کیا لیکن انہوں نے نہ مانا اور کہا کہ جس کی قسم دیتی ہے میں اس کے حکم سے آیا ہوں میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا تجھ کو لے ہی جاؤں گا۔پس عزرائیل نے ہاتھ نکال کر ایک مٹھی بھر خاک اسی سرزمین سے لے کر عالم بالا پر چلے گئے اور عرض کی کہ خداوند تو دانا و بینا ہے ۔جاری ہے ۔

میں نے یہ حاصل کیا ہے..تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عزرائیل علیہ السلام میں اس خاک سے زمین پر ایک خلیفہ پیدا کروں گا اور اس کی جان قبض کرنے کے لئے تجھی کو مقرر کروں گا۔تب عزرائیل علیہ السلام نے معذرت کی کہ یا رب تیرے بندے مجھے دشمن جانیں گے اور گالیاں دیں گے۔باری تعالی نے فرمایا اے عزرائیل تو غم مت کر میں خالق مخلوقات کا ہوں ہر ایک موت کا سبب گردانوں گا اور ہر شخص اپنے اپنے مرض میں گرفتار رہے گا۔ تب دشمن تجھ کو نہ جانے گا۔ کسی کو درد میں مبتلا کروں گا اور کسی کو تپ دق میں اور کسی کو پانی میں غرق کروں گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں