صحت کے اصول اور خاتون خانہ ۔۔۔ کہ کیسے خاتون خانہ صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر اپنی فیملی کو صحت مند اور بیماریوں سے محضوظ بنا سکتی ہے

گھر میں خاتونِ خانہ جس قدر سمجھ دار ،حفطان ِصحت کے اصولوں سے واقف اور خورد ونوش کے لوازمات کی سوجھ بوجھ رکھنے والی ہوتی ہیں اسی قدر گھر کے افرا دصحت مند،توانا اور تندرست ہوتے ہیں۔ خواتین ہی خاندان بھر کی صحت کی ضامن ہوا کرتی ہیں۔بچے سے لیکر بوڑھے تک اور نابالغ سے لیکر نو جوان تک کی غذائی ضروریات کو مد ِ نظر رکھ کر پکوان تیار کرنا خاتونِ خانہ کی ذمے داری ہوتی ہے۔اس سلسلے میں ایک مثل بھی مشہور ہے کہ ’’ ایک صحت مند ماں ہی صحت مند معاشرے کو پروان چڑھاتی ہے‘‘۔لیکن یہاںہم اس مثل کو وسیع معنوں میں لیتے ہوئے کہیں گے کہ ایک صحت مند عورت ہی صحت مند معاشرے کی ذمہ دار ہوتی ہے کیونکہ خاتونِ خانہ میں ماں،بہن،بیٹی اور بیوی کے علاوہ کام کرنے والی خاتون بھی ہوسکتی ہے۔ یوں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ خاتونِ خانہ کا خواندہ،حفظانِ صحت کے اصولوں سے واقف اور خورد و نوش کی اشیا کے خواص،مزاج اوراثرات کے بارے میں ضروری معلومات رکھنا انتہائی لازمی ہے۔ چٹخارے،چسکے ،لذت اور ذائقے کے چکر میں پڑ کر ہم بیماریوں کو خود خرید کر اپنے گھر لاتے ہیں۔چسکے اور چٹخارے کے رسیا افراد بہ نسبت سادہ خور افراد کے بیماریوں کے نرغے میں جلد پھنس جاتے ہیں۔ ہماری صحت کادارو مدارکھائی جانے والی غذا پر ہوتا ہے۔یعنی ہماری صحت ہمارے اپنے اختیار میں ہے۔ہم جیسی غذائیں کھائیں گے ویسے ہی اثرات ہمارے بدنپر پڑیں گے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ ہماری خوراک میں شامل کون سے اجزا ہمارے لیے پیغامِ صحت اور کونسی اشیا بیماری کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔ہم کچن میں کون سے طریقے اپنا کر صحت و تندرستی سے بہرہ مند اور بیماری سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔جاری ہے ۔

۔باورچی خانہ اور خاتونِ خانہ خاندان بھر کی صحت کے ضامن ہوا کرتے ہیں۔ خورد و نوش کی اشیا کی خریداری کے وقت لازم ہے کہ گھر میں موجود افراد کی جسمانی ضروریات کو ملحوظ رکھا جائے۔بیمار اور تن درست افراد کے طبعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے پکوانوں کے لوازمات خریدے جائیں۔آج کل ہائی بلڈ پریشر،کولیسٹرول،یورک ایسڈ ،شوگر اور ہیپا ٹائٹس جیسے موذی امراض عام پائے جاتے ہیں۔لہٰذا اسی مناسبت سے غذائیں لائی جائیں۔ کچن درست تو معدہ درست،معدہ درست تو تن درست۔کچن کی درستگی کا مطلب غذائوں کا عمدہ اور بہتر انتخاب ہے۔جس گھر میں ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہوں تو خاتونِ خانہ کی ذمے داری ہے کہ کچن سے نمک،تیز مصالحہ جات،چکنائی اورچٹخارے دار غذائوں کو حتی المقدور دور رکھے۔کولیسٹرول اور یورک ایسڈ میں مبتلا مریضوں کو گوشت ،انڈا ،مکھن،پنیر،گردے،کلیجی ،چاول ،بیگن، دالیں اور بیکری مصنوعات و کولا مشروبات سے دور رکھا جائے۔ہاں البتہ معالج کے مشورے سے ممنوعہ غذائوں کی مخصوص مقدار دینے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔اسی طرح شوگر میں گرفتار مریضوں کی خوراک میں سادہ گلو کوز والی غذائوں کو شامل رکھا جائے اور مصنوعی طریقے سے تیار کردہ میٹھی اشیا کو کچن سے باہر رکھنا ہی مریض کے لیے مفید ہوا کرتا ہے۔سفید زہر( جسے ہم چینی یا ولائتی کھانڈ کے نام سے موسوم کرتے ہیں )اور اس سے بنے تمام پکوان شوگر کے مریضوں کے لیے زہر کا درجہ رکھتے ہیں۔لہٰذا مریض کی جسمانی ضرورت پورا کرنے کے لیے دیسی کھانڈ،شکر اورگڑ کی مخصوص مقدار استعمال کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح بعد از غذا پھلوں کا استعمال بھی جسم کو مطلوبہ شوگر مہیا کرتا ہے۔موسمی پھلوں میں انگور، خربوزہ، انناس، سیب، کھجور، امرود، فالسہ اور دیگر پھل مناسب مقدار میں دینا مفید ہوتا ہے۔ مناسب مقدار بارے مریض کے معالج سے مشورہ کریں تاکہ مرض پر قابو پانے میں آسانی ہو سکے۔بعض مصنوعات میں سکرین کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ چینی سے گئی گنا زیادہ مٹھاس کی حامل ہوتی ہے۔ سکرین دل کے پٹھو ں کو کمزور کرتی ہے اور شریانو ں کے سکڑائو کا باعث بنتی ہے لہٰذا ان مصنوعات سے بچیں جن میں سکرین استعمال ہوتی ہے۔ ہیپاٹائٹس میں مبتلا افراد کے لیے سبزیاں زیادہ سے زیادہ استعمال کی جائیں۔بناسپتی،دیسی گھی ،چکنائیاں،تلی اور بھنی ہوئی اشیا،تیز مصالحہ جات ،نمکین اور چٹخارے دار غذائیں دور رکھی جائیں۔بڑا گوشت،بیگن،دال مسور اور گرم خشک مزاج کی حامل اشیا سے ورمِ جگر کے مریضوں کو پر ہیز کرایا جائے۔ بیکری مصنوعات اور کولا مشروبات بھی امراضِ جگر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں لہٰذا انہیں بھی گھر سے باہر رکھنے میں ہی مریض کی عافیت ہے۔ اسی طرح جوڑوں کا مسئلہ آج کل عام ہوچکا ہے۔بزرگ تو بزرگ ادھیڑ عمر افراد میں سے کوئی خوش نصیب ہی اس مرض کی اذیت سے محفوظ ہوگا۔جس گھر کے بوڑھے افراد جوڑوںکے مرض میں مبتلا ہوں تو خاتونِ خانہ کو چاہیے کہ۔جاری ہے ۔

گوشت،دالیں،اناج،چاول اور بادی اشیا کو کچن سے باہر رکھے۔قبض کشا اور جوڑوں کی تکالیف سے نجات دلانے والی غذا ئیں زیادہ سے زیادہ پکائی جائیں ۔تاکہ غذا دوا کا کام بھی دے اور جسمانی توانائی کا ذریعہ بھی بنے۔سبزیوں میں کریلے، گھیا، ٹینڈے، گھیا توری، پیٹھا، شلجم، گاجر،مولی ،بند گو بھی اور سہانجنے کی مولی وسہانجنے کے پھول وغیرہ جوڑوں کے عوارض میں افاقے کا باعث ثابت ہوتے ہیں۔سالن پکاتے وقت ادرک،لہسن،پیاز،زیرہ سفید اور ہلدی کا قدرے زیادہ استعمال بھی بادی امراض کو زائل کرنے میں معاون ہوا کرتا ہے۔ ناشتے میں مصنوعی اشیا کو شامل کرنے کی بجائے قدرتی غذائوں کا استعمال لا تعداد صحت کے مسائل سے چھٹکارا دلانے میں مدد گار ہوتا ہے۔سادہ روٹی، سادہ بریڈ، انڈہ ،دیسی مکھن، دہی،لسی،شہد ، پھل اور پھلوں کا جوس بہترین غذا ئیں ہیں۔ پراٹھااورحلوا پوری جیسی ثقیل غذائوں سے پر ہیز کر نا چاہیے۔خاتونِ خانہ کو چاہیے کہ دودھ کے معاملے میں انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے مصنوعی دودھ کی بجائے مویشیوں کا دودھ استعمال کرے کیونکہ مصنوعی دودھ میں شامل کیے جانے والے غذائی اجزا کے بارے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ یوریا کھاد سے لیکر میٹھا سوڈا تک ،چاولوں کے آٹے سمیت گتہ،گنے کا پھوک،سرف،سنگھاڑوں کے آٹے اور ملتانی مٹی سمیٹ نہ جانے مبینہ طورپر اس دودھ میں کون کون سے اجزا ملائے جاتے ہیں۔جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔یاد رکھیں مویشیوں کے دودھ میں اگر چہ پانی بھی ملا ہوگا تو بھی دودھ کی کچھ نہ کچھ غذائیت تو پینے والوں کو میسر آ ہی جائے گی۔کم از کم آپ غذائیت کے نام پر زہر تو نہیں استعمال کریں گے۔ ٭…٭…٭

اپنا تبصرہ بھیجیں