دنیا کی تاریخ کا وہ امیر ترین آدمی جو مکہ المکرمہ اورمدینہ النبیﷺگیا تو راستے میں غریبوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر انہیں سونا مفت دیتاتھا ،ایسی خوبصورت بات کہ جان کر آپ کا ایمان بھی تازہ ہوجائے گا

اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ انسانی تاریخ میں امیر ترین شخص مائیکروسافٹ کا بانی بل گیٹس ہے تو آپ غلط ہیں کیونکہ انسانی تاریخ میں ایک مسلمان حکمران ایسا بھی گزرا ہے جس کے پاس 400ارب ڈالر کی مالیت کا سونا تھا۔ بل گیٹس کے پاس اس وقت 90ارب ڈالر موجود ہیں جبکہ اس مسلمان حکمران کے پاس چار گنا زیادہ پیسے تھے۔ اس حکمران کا نام مانسا موسیٰ تھا اور یہ چودھویں صدی عیسویں میں مغربی افریقی ملک مالی کا حکمران تھا۔ ۔جاری ہے ۔

اپنے 25سالہ دور حکومت (1312-37)میں اس نے 24شہروں کو فتح کرتے ہوئے کثیر دولت اکٹھی کی اور ساتھ ہی سونے اور نمک کی کانوں میں کام کرواتے ہوئے اپنی سلطنت کو امیر اور مستحکم کیا۔یہ دونوں چیزیں اپنے وقت میں انتہائی قیمتی سمجھی جاتی تھیں ۔مانسا موسیٰ ایک رحم دل اور اسلام سے شدید محبت رکھنے والا حکمران تھا اور یہ مکہ المکرمہ اور مدینہ النبیﷺکی زیارت کے لئے روانہ ہوا توراستے میں لوگوں کو کثیر مقدار میں سوناتقسیم کرنے لگا۔کہا جاتا ہے کہ 1324ءمیں جب وہ مقامات مقدسہ کی جانب روانہ ہوا تو اس کے قافلے میں 60ہزار افراد تھے جس میں 12ہزار غلام شامل تھے۔ ان غلاموں نے 1.8کلوگرام سونا اٹھارکھا تھاجبکہ 80اونٹو ں پر سونا رکھا گیا تھا،ہر اونٹ پر سونے کی مقدار 23سے 136کلوگرام تھی۔جو بھی غریب مانسا موسیٰ کو راستے میں ملتا ۔جاری ہے ۔

وہ اسے سونا تھما دیتا۔ وہ قاہرہ اور دیگر شہروں سے گزرتے ہوئے وہاں کے لوگوں میں بھی سونا تقسیم کرتا، ہر جمعہ کو وہ ایک مسجد کی تعمیر بھی کرتا۔جب وہ مقدس شہروں میں پہنچا تو جن جگہوں سے وہ گزرا تھاوہاںسونے کی فراوانی کی وجہ سے افراط زر ہوگیا اور مہنگائی آسمانوں سے باتیں کرنے لگی۔مانسا موسیٰ کو اپنی غلطی کو احساس ہوا اور اپنے ملک کو واپسی کے موقع پراس نے سونا مہنگے داموں خرید لیا۔جب اس حکمران کا انتقال ہوا تواس کے پاس 400ارب ڈالر کی مالیت کا سونا موجود تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں