مدرسہ کا پڑھا ہوا صدر

ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردگان صاحب نے فرمایا: جب بچپن میں، میں مدرسے میں پڑھنے جاتا تو ہمارے علاقے کے کئی لوگ مجھ سے کہا کرتے کہ بیٹے! کیوں اپنا مستقبل خراب کررہے ہو؟ کیا تمہیں بڑے ہوکر مُردے نہلانے کی نوکری کرنی ہے؟ مدرسے میں پڑھنے والے کو غسّال کے علاوہ کوئی روزگار مل سکتا ہے؟ لہذا کسی اچھے اسکول میں داخلہ لے لو اور اپنا مستقبل سنوارنے کی فکر کرو۔ ۔جاری ہے ۔


اس قسم کی نصیحت کرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہوتے اور میں بڑے ادب سے ان کی باتیں سنتا اور مسکراتے ہوئے اپنی کتابیں بغل میں دبائے مدرسۃ الخطیب کی طرف گامزن ہوتا۔پھر وقت گولی کی رفتار سے چلتا رہا اور میں نے استنبول کے اسی مدرسے سے اپنی تعلیم پوری کی گوکہ بعد میں یونیورسٹی سے بھی پڑھا۔ مگر ابتدائی تعلیم مدرسے سے ہی حاصل کی تھی۔ اب جب بھی مجھے ان بزرگوں کی نصیحتیں یاد آتی ہیں اور خود پر کریم رب کی رحمتوں کی بارش دیکھتا ہوں تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ یہ کہہ کر اردگان نے حاضرین کو بھی اشک بار کر دیا۔ ۔جاری ہے ۔


واضح رہے کہ مسلم حکمرانوں میں اردگان پورے عالم اسلام میں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ ٹیوٹر میں سب سے زیادہ فالورز انہی کے ہیں اور ان میں بھی ستر فیصد عرب ہیں۔ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد عرب دنیا میں انہیں ”البطل” (ہیرو) کا خطاب مل چکا ہے۔
یاد رہے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بچے ترکی کے دینی مدارس میں ۔جاری ہے ۔

زیر تعلیم ہیں۔ 2015ء کے اوائل میں جاری اعدادوشمار کے مطابق ان طلبہ کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ تاہم وہاں کے مدارس کا نظام تعلیم بھی مکمل جدید خطوط پر استوار ہے۔ (رپورٹ، الجزیرہ) کاش کہ ہمارے یہاں بھی ایسا نظام ہوتا تو ہمیں بھی گستاخوں کی سزا کیلئے کوئی مہم چلانے کی ضرورت نہ پڑتی، ہمارے ججوں سے لے کر وکلا تک، صدر و وزیر اعظم سے لے کر ممبران اسمبلی تک، ساری ریاستی مشینری خود ہی یہ کام سنبھال لیتی۔ کاش!!

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں