مظفر گڑھ جعلی پیر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی نئی نویلی دلہن نے خودکشی کرلی شادی کے فورا بعد لڑکی کس چیز کا علاج کروانے پیر کے پاس گئی تھی ؟

جعلی پیر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی نئی نویلی دلہن نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق مظفر گڑھ کے علاقہ شاہ جمال کی رہائشی 20 سالہ نصرت بی بی کی ایک ماہ قبل اکرم نامی شخص سے شادی ہوئی۔ نصرت بی بی کی ساس ممتاز مائی کو شک تھا کہ اس پر سایہ ہے جس پر وہ اپنی بہو کو روحانی علاج کی غرض سے اقبال نامی مقامی پیر کے پاس لے گئیں۔ ۔جاری ہے ۔


شاہ جمال پولیس کے بیان کے مطابق ممتاز مائی کا کہنا تھا کہ نصرت پر بُری روحوں کا سایہ تھا ، اس سائے کے ہوتے ہوئے نصرت بی بی کبھی بھی ماں نہیں بن سکتی تھی، لہٰذا اس کے روحانی علاج کے لیے پیر کے پاس لے گئی۔ علاج کے بہانے جعلی پیر نے 20 سالہ نصرت بی بی کو گرم چاقو اور راڈز سے تشدد کا نشانہ بنایا جس سے نصرت بی بی کے بازو اور پاؤں سمیت پورے جسم پر شدید زخم آئے۔
گھر آنے پر نصرت بی بی نے زہر کھا لیا ۔ متاثرہ لڑکی کو ڈسٹرکٹ اسپتال لے جایا گیا ۔جاری ہے ۔

جہاں وہ دم توڑ گئی۔ نصرت بی بی نے الزام عائد کیا تھا کہ جعلی پیر نے اسے تشدد سے قبل زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔ تاہم نصرت کی پوسٹمارٹم رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔ ممتاز مائی نے بتایا کہ وہ اکثر اقبال نامی پیر کے پاس جاتی تھیں اسی لیے نصرت بی بی کو بھی لے گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جعلی پیر اقبال کی تلاش میں اس کے کام کی جگہ پر چھاپہ مارا گیا لیکن وہ فرار ہو چکا تھا۔ پولیس کے مطابق واقعہ کی مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں