میری حاملہ بیٹی کو اغوا کرکے زنجیروں سے جکڑ دیا گیا میں شکایت کے لیے تھانے گئی تو تھانیدار نے میرے شوہر اور بیٹے کے سامنے ہی میرے ساھ ۔ پاکستانی خاتون نے اسی شرمناک بات بتادی کہ جان کر پوری پنجاب پولیس کا سرشرم سے جھک جائے

تھانہ سٹی سمندری کے علاقہ سے بااثر افراد نے 7 ماہ کی حاملہ خاتون اغوا کر کے سنگلو ں سے باندھ کر قید کر لیا اور اس کے والدین سے ایک لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کر دیا ، تحویل میں ہی ”حوا کی بیٹی “ کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی جبکہ مغویہ بیٹی کی ماں تھانہ سٹی سمندری گئی تو اغوا کندگان کے ساتھ کانسٹیبل نے اس کے خاوند اور جوان بیٹے کے سامنے کپڑے پھاڑ کر نیم برہنہ کر دیا اور اس کے جوان بیٹے کو حوالات میں بند کر دیا، اس سے سادہ کاغذات پر انگوٹھے لگوا لیے اور اس سے قیمتی کاغذات چھین کر پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے۔ ۔جاری ہے ۔

مغویہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ کانسٹیبل عابد نے کپڑے پھاڑتے ہوئے مجھے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گرادیا اور گندی گالیاں دیں اور تفتیشی افسر عامر فرمان نے دھمکی دی کہ تمہارے خلاف مقدمات درج کر کے جیل بھجوادوں گا اور ہمیں ایس ایچ او سے بھی نہیں ملنے دیا گیا درخواست کا تفتیشی افسر اور کانسٹیبل اغوا کاروں سے ساز باز ہو گئے ہیں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے اور نہ ہی سٹی سمندری پولیس ہماری مغویہ بیٹی کو بازیاب کروا رہی ہے اور نہ ہی بااثر اغوا کنندگان گرفتار کیے جا رہے ہیں ہماری کوئی شنوائی نہیں ہو رہی یہ بات نئی سمندری گوجرہ روڈ کے رہائشی 25 سالہ مغویہ انیلہ نعیم کے والد محمد نعیم اور والدہ سلیم بی بی نے ”خبریں“ کو بتائی۔ ۔جاری ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے ہی محلہ کے طارق اس کی بیوی خالدہ پروین اور اس کی بہن عابدہ پروین 29 جنوری 2017 کوہمارے گھر آئے اور بہانے سے ہماری بیٹی انیلہ کو اپنے ساتھ گھر لے گئے اغوا کاروں کے ساتھ بوٹا اور دیگر ہماری بیٹی کو کار میں ڈال کر ضلع ٹوبہ کے چک نمبر 28 میں ذوالقرنین نامی بااثر شخص کے گھر لیجا کر اسے زنجیروں سے باندھ کر کمرے میں قید کر لیا گیا اور ہمیں مغویہ بیٹی کی رہائی کے عوض ایک لاکھ روپے تاوان ادا کرنے کا مطالبہ کر دیا ہماری بیٹی چھ سات ماہ کی حاملہ تھی اور اغواکاروں نے ہماری بیٹی کے اوپر کانسٹیبل عابد کی خالہ رضیہ دائی کو پہرے پر بٹھا دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے واقعہ بارے تھانہ سٹی سمندری پولیس کو اغوا کنندگان کے خلاف کارروائی کر نے کیلئے درخواست دیدی جس پر بااثر شخص ذوالقرنین اور بوٹا نے ہمیں دھمکیاں دیں کہ تمہاری بیٹی کو قتل کر کے تمہارے گھر کی دہلیز پر لاش پھینک دیں گے اور قتل کے الزام میں تمہارے خلاف ہی مقدمہ درج کروایا جائے گا ۔ ۔جاری ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری طرف سے دی جانیوالی درخواست پر ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی نہ ہی مقدمہ درج کر کے مغویہ بیٹی بازیاب کروائی جا رہی ہے اور نہ ہی ملزمان کو گرفتار کیا جا رہا ہے ہم اپنے بیٹے 27 سالہ فہد کے ہمراہ درخواست کی پیروی کیلئے تھانہ سٹی سمندری تفتیشی افسر اے ایس آئی عامر فرمان کے پاس گئے تو وہاں پولیس اہلکار محمد عابد بھی موجو دتھے جس نے میرے شوہر اور میرے جوان بیٹے کے سامنے میر ے کپڑے پھاڑ دیئے اور مجھے بالوں سے پکڑ کر زمین پر گرادیا کپڑے پھٹنے سے میں نیم برہنہ ہو گئی مجھے گندی گالیاں نکالی میری بیحرمتی اور بے عزتی کی گئی مگر تفتیشی افسروں کا تھانیدار اور دیگر پولیس اہلکار میری بے بسی کا تماشا دیکھتے رہے۔ ۔جاری ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ ہماری مغویہ بیٹی انیلہ کا تقریباً چھ سالہ بیٹا عبدالرحمان ہمارے پاس تھا کہ تفتیشی ا ن کے تھانیدار عامر فرمان نے ہمارے نواسے کو ہماری تحویل سے لے کر اغوا کاروں کے حوالے کر دیا اور میرے بیٹے فہد کو حوالات میں بند کر کے مجھ سے سفید کاغذات پر انگوٹھے لگوا کر میرے بیٹے کے تین گھنٹے بعد رہا کیا اور مجھ سے ضروری کاغذات چھین کر پھاڑ دیئے اور ہمیں سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے تھانہ سے باہر نکال دیا اور ہمیں ایس ایچ او منصور صادق سے نہ ملنے دیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ہم نے دوبار ایس ایچ او اور ڈی ایس پی سرکل سمندری کو درخواست دی ۔جاری ہے ۔

مگر ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی انیلہ تاحال اغواءکاروں کے پاس ہے اور ان کی تحویل میں ہی ہماری مغویہ بیٹی نے بیٹی کو جنم دیا ہے جو کہ ایک ماہ کی ہو چکی ہے اور ہم اغواءکنندگان کو 20 ہزار روپے تاوان کی رقم ادا کر چکے ہیں۔ بقایا رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔اس امر پر مغویہ کے والدین نے وزیراعظم وزیراعلیٰ پنجاب ، آئی جی پنجاب ، آر پی او اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ نوٹس لے کر اغواءکندگان کے خلاف مقدمہ درج و گرفتار کر کے مغویہ کو بازیاب کروا کر انصاف فراہم کیا جائے۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں