پاپا نے پادری بنانا چاہا۔۔۔ مگر

عمر ابراہیم اڈیلو سے میری پہلی ملاقات جماعت اسلامی کے دفتر منصورہ میں ہوئی۔ سود کے انسداد کے ضمن میں یہ میٹنگ تھی۔ اس میٹنگ میں پتہ چلا کہ عمر ابراہیم صاحب سپین کے نومسلم ہیں اور لاہور میں رہائش رکھتے ہیں چنانچہ میں چند دن کے بعد ان کے گھر میں تھا۔ عمر ابراہیم سپین سے تعلق رکھتے ہیں، وہ سپین جسے ہسپانیہ بھی کہا جاتا ہے جہاں مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی ہے، عمر ابراہیم صاحب کی پاکستانی اہلیہ محترمہ نے ان الفاظ کے ساتھ تعارف کروایا کہ ان کو باسک کے پٹھان سمجھ لیں۔ ۔جاری ہے ۔

عمر ابراہیم صاحب کی اپنی زبان تو ہسپانوی ہے مگر وہ انگریزی بھی مادری زبان کی طرح بولتے ہیں۔میرے والد صاحب زبردست قسم کے مذہبی مسیحی تھے کیتھولک فرقے سے ان کا تعلق تھا۔ میری تین بہنیں جبکہ میں اپنے والد کا واحد اور اکلوتا بیٹا تھا۔ والد نے نذر مان رکھی تھی کہ مجھے پادری بنائیں گے۔ مسیحی دنیا کا بڑا عالم اور پریسٹ بنائیں گے، چنانچہ میں نے ہوش سنبھالنے پر مذہبی سکول میں جاناشروع کر دیا۔ وہاں تعلیم حاصل کرنے لگ گیا، 2سالہ تعلیم کے بعد میں نے دو سال کا عرصہ صوفیوں کی خانقاہ میں گزارا۔ یہ تثلیث اور دنیا چھوڑنے کا نظریہ مجھے اچھا نہیں لگتا تھا۔ ۔جاری ہے ۔

مجھے یہ سارا کچھ غیر فطری سا دکھائی دیتا تھا، میرا ذہن اس سے مطمئن نہ تھا چنانچہ میں نے اپنی زندگی کے یہ چار سال دو سال مدرسہ کے اور دو سال خانقاہ کے لگانے کے بعد اپنے والد سے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں یونیورسٹی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ میں پادری اور مسیحی صوفی نہیں بنوں گا۔ والد صاحب میری یہ بات سن کر بڑے مایوس ہوئے اس لئے کہ میرے بارے میں انہوں نے جو خواب دیکھا تھا میرے جواب سے وہ خواب چکنا چور ہو چکا تھا۔ چنانچہ والد صاحب نے مجھے سکول میں داخل کروا دیا اس کے بعد میں سپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے لگا میری یہ تعلیم زراعتی معاشیات پر تھی۔ 1984ء میں جبکہ میں یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے قریب تھا۔ میری تعلیم تکمیل کے آخری مرحلے پر تھی ۔جاری ہے ۔

تو اس دوران میری ملاقات اللہ کے ایک ایسے بندے سے ہوئی جس کے ذریعے اللہ نے میری زندگی بدل دی۔ یہ بندہ برطانیہ کے علاقے سکاٹ لینڈ کا رہنے والا تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا اور پھر اسلام کا داعی اور مبلغ بن گیا۔ وہ میڈرڈ میں مقیم تھے اور اہل سپین کو اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ ان کا نام عبدالقادر ہے۔ انہوں نے گریناڈا میں بھی مسجد بنائی، جنوبی افریقہ کے کیپ ٹاؤن شہر میں بھی مسجد بنائی دنیا بھر میں مساجد بناتے ہیں اور اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ بس انہوں نے یونیورسٹی میں مجھے دیکھا اور میں نے ان کی طرف دیکھا، انہوں نے مجھے بلا لیا، بات شروع ہو گئی اور یوں لگا جیسے برسوں کی شناسائی ہے، شیخ عبدالقادر کا جس جگہ قیام تھا۔ میں وہاں جانے کو ان کے ساتھ ہی چل دیا۔ وہ نماز پڑھنے لگ گئے۔ میں نے دیکھا تو نماز کو ’’یوگا‘‘ سمجھا۔ لیکن پھر سوچا۔ یہ یوگا تو نہیں لگتا کوئی اور ہی چیز لگتی ہے۔ بہرحال! وہ جب فارغ ہوئے تو میں نے پوچھ لیا کہ یہ آپ کیا کر رہے تھے؟ کہنے لگے، میں مسلمان ہوں، اللہ کے حضور عبادت کر رہا تھا۔ مجھے یہ سن کر ایک جھٹکا لگا، جھٹکا اس لئے لگا کیونکہ میرا خیال تو یہی تھا کہ عرب ہی مسلمان ہوتے ہیں۔ یورپ کے لوگ مسلمان نہیں ہوتے، اب یورپ کا ایک باشندہ مسلمان ہے۔ برطانیہ کے علاقے سکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والا مسلمان کیسے ہو گیا،۔جاری ہے ۔

میرے لئے یہ بات تعجب کی تھی اور یہ تو بہرحال حقیقت تھی کہ عبدالقادر صاحب اب مسلمان تھے اور میرے سامنے تھے۔مجھے کہنے لگے، معبود تین نہیں بلکہ ایک ہے کہو اور بولو اس کا نام ’’اللہ‘‘ اور پھر وہ اللہ اللہ اللہ کہنے لگے۔ میں نے بھی تین بار اللہ اللہ اللہ کہہ دیا۔ اس سے یوں ہوا جیسے میرے دل کو سکون آ گیا ہو۔ چین آ گیا ہو۔ وہ پیاس جو مجھے بچپن میں تھی اس کا مداوا ہو گیا ہو۔ شیخ عبدالقادر نے اب مزید کوئی بات نہیں کی اور میں یہاں سے رخصت ہو گیا میری حالت کو دیکھ کر شاید انہوں نے مجھے ابتداء میں اتنی ہی خوراک دینا مناسب سمجھی۔میں اپنے کسی کام کے سلسلہ میں ’’تیونس‘‘ گیا۔ میں اپنے یونیورسٹی کے دوستوں کے ساتھ یہاں کے ایک گاؤں میں تھا۔ وہاں ہم دوست اکٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک اذان کی آواز بلند ہوئی اللہ اکبر اللہ اکبر۔۔۔ اب جب میں نے اللہ کا نام سنا تو اس نام نے میرے دل پر ایسا اثر کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ دوستوں نے پوچھا کدھر؟ میں نے کہا اللہ کی جانب۔ کہنے لگے، یہ کیا؟ ۔جاری ہے ۔

میں نے کہا، اللہ بلا رہا ہے، مسلمانوں کی مسجد میں جا رہا ہوں، کہنے لگے، وہاں تیرا کیا کام؟ کہا۔۔۔ بس جانا ہے وہاں مسلمانوں کی نماز دیکھوں گا اور پڑھوں گا۔ کہنے لگے، مسلمان تجھے ماریں گے۔ ہو سکتا ہے قتل بھی کر دیں، یہ گاؤں ہے لوگ بھی نا جانے کیسے ہوں؟ تو ہمیں بھی مصیبت میں ڈالے گا۔ میں نے کہا کہ کچھ نہیں ہوتا اور دوستوں کو چھوڑ کر مسجد کی طرف چلا گیا۔ وہاں لوگوں کو دیکھا ہاتھ منہ دھو رہے ہیں، مجھے کیا پتہ وضو کس چیز کا نام ہے؟ چنانچہ میں نے ہاتھ منہ دھوئے اور مسجد میں چلا گیا صف میں کھڑا ہو گیا، اب میں اپنے اردگرد دیکھتا اور جس طرح وہ لوگ کر رہے تھے اسی طرح کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ دائیں بائیں والوں کو ہاتھ لگ جاتا، بیٹھنے لگتا تو ٹانگ کو اس کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا تو پاؤں لگ جاتا۔ تیونس کی اس مسجد کے نمازی جو میرے دائیں بائیں تھے حیران تھے ۔جاری ہے ۔

کہ یہ آج کون سا نمازی آ گیا ہے۔ یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ جوتے پہن کر نہیں گیا، وگرنہ ناجانے کیا ہوتا؟ اب نمازختم ہوئی تو دائیں بائیں کے نمازی میری طرف حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔ مجھ سے عربی میں بات کرنے لگے تو مجھے عربی آتی نہیں تھی۔ یوں بات آگے بڑھی اور لوگ میرے اردگرد اکٹھے ہو ئے۔ اتنے میں امام صاحب بھی آ گئے،۔جاری ہے ۔

میں نے انہیں فرانسیسی زبان میں کہا میں مسلمان ہوں، امام صاحب نے اپنے مقتدیوں کو کہا یہ کوئی نیا نیا مسلمان ہے اسے چھوڑ دو۔اب میں بڑا حیران تھا کہ میں نے کیا اعلان کر دیا کہ کہہ دیا میں مسلمان ہوں۔مگر یہ میرے دل کی گواہی تھی، اب جب میں واپس میڈرڈ گیا تو ایئر پورٹ سے سیدھا شیخ عبدالقادر کی خدمت میں گیا۔ میں جب ان کے ہاں پہنچا تو خوبصورت اتفاق کہ وہ دروازہ پر ہی کھڑے تھے انہوں نے مجھے چہرے سے پہچان لیا اور کہا اندر آ جاؤ۔ مجھے اللہ سے محبت اور نماز پڑھنے کا تو جنون ہو گیا کہ کب وقت ہو گا کہ میں نماز میں چلا جاؤں گا۔ دل تو یہ چاہتا تھا ۔جاری ہے ۔

کہ ہر لمحہ نماز ہی میں رہوں، نماز اور اللہ کا ذکر۔۔۔ یہ دن رات میرا کام تھا، میں نے سورہ فاتحہ بھی یاد کر لی تھی۔ تینوں قل اور نماز کی دعائیں یاد کر لی تھیں۔ رمضان بھی آ گیا تھا، میڈرڈ میں واحد مسجد جو مسلمانوں کی تھی وہ بھی ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جسے مراکش کے لوگوں نے نماز کے لئے بنایا تھا۔ میں وہاں چلا گیا اور اعلانیہ طور پر کلمہ شہادت پڑھ لیا، میں اپنے شیخ عبدالقادر کے ہمراہ 25 سال رہا۔ پڑھتا بھی رہا اور دین کا کام بھی کرتا رہا۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں