ایک مرتبہ ایک عالمہ کسی عالم کے پاس آئی۔ دین کا علم پڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگی، میرا خاوند بہت اچھا ہے۔ قسمت والوں کو ایسے خاوند ملتے ہیں۔ مجھے

ایک مرتبہ ایک عالمہ کسی عالم کے پاس آئی۔ دین کا علم پڑھی ہوئی تھی۔ کہنے لگی، میرا خاوند بہت اچھا ہے۔ قسمت والوں کو ایسے خاوند ملتے ہیں۔ مجھے اللہ نے ایسا متقی، پرہیزگار اور نیکو کار خاوند دیا۔ مگر ساس نے میر زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پہ روک ٹوک کرتی رہتی ہے۔ یہ کرتی ہے وہ کرتی ہے۔ چنانچہ اس نے ساس کے بارے میں چند باتیں کہیں۔ وہ عالم سے یہ پوچھنا چاہتی تھی کہ اب آپ ذرا اجازت دے دیجئے۔ میں بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کروں۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا کروں۔ لیکن عالمہ تھی ذرا گھبراتی بھی تھی کہ کہیں میں پکڑی نہ جاؤں۔ ۔جاری ہے ۔


چنانچہ اس نے جو اپنی ساس کی اتنی باتیں بتائیں کہ ذرا ذرا سی بات پر یہ کرتی ہے وہ کرتی ہے اور مجھے ذہنی طور پر سکون نہیں ہونے دیتی۔ میں نے پڑھانا ہوتا ہے اور مجھے پڑھانے میں دقت ہوتی ہے۔ عالم نے پوچھا کہ تمھاری ساس میں کوئی پسندیدہ بات بھی ہے؟کہنے لگی :”مجھے تو کوئی بھی پسندیدہ بات نظر نہیں آتی۔”عالم نے کہا کہ..” یہ تم نے انصاف کی بات نہ کی۔ اگر انصاف کی نگاہ سے دیکھتی تو تمھیں اس کے اندر کوئی نہ کوئی اچھائی نظر آتی۔” وہ پھر کہنے لگی:” حضرت مجھے تو اس میں کوئی اچھائی نظر نہیں آتی۔”عالم نے کہا:” دیکھو ایک بات بتاؤ۔ تمھارا خاوند اللہ نے فرشتہ صفت عطا کیا، یہ بات تو مانتی ہو؟۔”۔جاری ہے ۔


کہنے لگی۔۔۔” ہاں مانتی ہوں۔”عالم نے پوچھا:” اس خاوند کی بیوی تمھیں کس نے بنایا۔؟ یہی تمھاری ساس تھی جو تمھیں پسند کر کے لے کر آئی تھی۔ اس کو اور بھی بڑی لڑکیاں ملتی تھیں کسی اور کو پسند کر لیتی مگر تمھیں جو پسند کر کے لائی تو یہی ساس تھی جس نے تمھیں اس خاوند کی بیوی بنایا۔ اور تم کہتی ہو کہ میرا خاوند تو فرشتوں جیسی صفت والا خاوند ہے۔ “کہنے لگی “ہاں یہ بات ہے۔ “عالم نے کہا اب اُن کے احسان کا بدلہ تم ساری زندگی نہیں اتار سکتی۔ ”ھل جزاء الاحسان الالاحسان“(احسان کا بدلہ احسان ہے) قرآن کی آیت جانتی ہو؟ کہنے لگی جی پڑھی ہوئی ہے۔ عالم نے کہا اس احسان کا بدلہ اترو کہ ساری زندگی اس کی خدمت کرو کہ اس نے اپنے بیٹے کی بیوی کے طور پر تمھیں چُنا..۔جاری ہے ۔


عالمہ بولی: حضرت آپ نے بات سمجھا دی، آج کے بعد کبھی ان کے سامنے اونچا نہیں بولوں گی اور ان کو اپنی ماں کا درجہ دے کر ان کی ہر بات کو برداشت کروں گی۔ واقعی انہی کے صدقے اللہ نے مجھے اتنا اچھا خاوند عطا کیا۔سبق: اگر انسان سمجھنا چاہے تو بات جلدی سمجھ میں آجاتی ہے۔ اور اگر انا کا مسئلہ بنالیا جائے تو زندگی سے سکون ختم ہوجاتا ہے، ساس بہو کے جھگڑے ذلت کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ ذرا افہام و تفہیم سے بات کر لی جائے تو زندگی پرسکون طریقہ سے گزاری جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں