کیا جنسی طور پر کمزور کو شادی کرنا جائز ہے کس حد تک جنسی کمزوری ہو کہ شادی جائز ہے یہ

یہ سوال بہت اہم ہے: ہمارے معاشرے میں ، والدین کے پریشر پر ایسے شخص کی شادی کردی جاتی ہے جو جنسی طور پر بالکل غیر فعال ہو ۔ جو ازدواجی تعلقات کی بالکل طاقت نہ رکھتا ہو ۔ ایسے میں لڑکی کے والدین سے یہ بات چھپائی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کچھ لڑکیاں غیر فطری نباہ کرتی ہیں، کچھ طلاق لےلیتی ہیں۔۔۔۔ جنسی کمزوری شادی شدہ زندگی کا بہت اہم معاملہ ہے۔ ۔جاری ہے ۔

اس کو اگنور نہیں کی جاسکتا ۔۔اس کی وجہ سے کئی گھر اجڑ گئے ہیں۔ اگر کوئی معمولی جنسی کمزوری کا شکار ہو تو وہ شادی کرسکتا ہے۔ چاہے مہینے میں دو بار ہی ہمبستری کی صلاحیت رکھتا ہو ۔ جسے شہوت آتی ہو ۔ جو جنسی طور پر بالکل غیر فعال ہو اسے چاہئے کہ ولی کو اعتماد میں لے۔ اگر لڑکی والے اس حالت میں قبول کریں تو ہی نکاح ہوسکتا ہے۔ ورنہ یہ ظلم عظیم ہے۔۔ فراڈ کرنے کے مترادف عمل ہے۔
آئیے ایک بھائی کا اسی سے متعلق سوال پڑھتے ہیں اور عالم کا جواب بھی پڑھتے ہیں۔ تاکہ اس موضوع کی سمجھ آسکے ۔۔۔ ۔جاری ہے ۔


سوال:میں ابھی تک کنوارا ہوں اور بیوی کی تلاش میں ہوں ، لیکن مجھے ایک مشکل ہے کہ مجھے تھوڑی بہت جنسی کمزوری لاحق ہے جو غیریقینی اورغیر منتظم قسم کی ہے ، مجھے ہروقت یہ سوچ گھیرے رکھتی ہے کہ میں نے اگر شادی کرلی تو بیوی میری حالت قبول نہيں کرے گی اور معاملہ طلاق پر جا پہنچے گا ، تو میرے لیے کیا کرنا بہتر ہے آيا میں شادی کروں یا نہ کروں ؟ ۔جاری ہے ۔

الحمد للہ جنس بشر میں شھوت کے معاملہ میں بہت ہی فرق پایا جاتا ہے کسی میں تو بہت زيادہ ہوتی ہے اورکچھ ایسے ہوتے ہيں جن میں اس سے بہت ہی کم ہوتی اورکچھ میں میانہ روی ہوتی ہے ، اورکچھ ایسے مرد بھی ہوتے ہیں جن میں بالکل ہی شھوت نہیں ہوتی ، اگر توآپ کی نکاح میں شھوت ہے چاہے وہ کم ہی ہو تو پھر آپ شادی کرسکتے ہیں ، اس میں اتنا ہی کافی ہے کہ آپ بیوی سے ہم بستری کرنے کی طاقت رکھتے ہوں چاہے مہینہ میں ایک بارہی سہی یا پھر دوماہ میں ایک بار ۔ شیخ ابن جبرین کا فتویدیکھیں : کتاب : فتاوی اسلامیۃ ( 3 / 161 ) ۔لیکن اگر بالکل ہی ہم بستری کی طاقت نہیں تو پھر لڑکی کے ولی کو نکاح سے قبل بتانا ضروری ہے ۔واللہ اعلم .

اپنا تبصرہ بھیجیں