اللہ پر توکل میں نے اسکے توکل کا امتحان لینے کیلئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا اس نے بسم اللہ کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا میں نے آوازدی وہ رک گیا ٹیکسی والا حکم سر جی ان پیسوں میں خوش ہو ؟ ٹیکسی والا سر جی مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہوگا اللہ نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا ہے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے

شدید بارش کے سبب ٹیکسی لینا بہتر تھا – “ماڈل کالونی چلو گے -“” کتنے پیسے لو گے -” ” جو دل کرے دے دینا سرجی ” ” پھر بھی “”سر! ایک بات کہوں برا مت ماننا – میں ایک جاہل آدمی ہوں -پر اتنا جانتا ہوں کہ جو الله نے میرے نام کا آپکی جیب میں ڈال دیا ہے۔جاری ہے ۔

, وہ آپ رکھ نہیں سکتے اور اس سے زیادہ دے نہیں سکتے – توکل اسی کا نام ہے ” اس کی بات میں وہ ایمان تھا جس سے ہم اکثر محروم رہتے ہیں – ٹیکسی ابھی تھوڑا آگے گئی کہ مسجد دکھائی دی -” سر جی – نماز پڑھ لیں پھر آگے چلتے ہیں ” اس نے ٹیکسی مسجد کی طرف موڑ لی” آپ نماز ادا کریں گے “۔جاری ہے ۔

” کس مسلک کی مسجد ہے یہ ” میرا سوال سن کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا – ” باؤ جی ! مسلک سے کیا لینا دینا – اصل بات سجدے کی ہے – الله کے سامنے جھکنے کی ہے – یہ الله کا گھر ہے”میرے پاس کوئی عذر باقی نہیں تھا – نماز سے فارغ ہوۓ اور اپنی منزل کیطرف بڑھنے لگے – ” سر , آپ نماز با قاعدگی سے ادا کرتے ہیں – ” کبھی پڑھ لیتا ہوں , کبھی غفلت ہو جاتی ہے ” یہی سچ تھا -” جب غفلت ہوتی ہے تو کیا یہ احساس ہوتا ہے کہ غفلت ہو گئی اور نہیں ہونی چاہیۓ “۔جاری ہے ۔


” معاف کرنا , یہ ذاتی سوال نہیں – اگر احساس ہوتا ہے تو الله ایک دن آپ کو ضرور نمازی بنا دے گا – اگر احساس نہیں ہوتا تو —-“وہ خاموش ہو گیا – اسکی خاموشی مجھے کاٹنے لگی -” تو کیا ” میرا لہجہ بدل گیا -” اگر آپ ناراض نہ ہوں تو کہوں ” ” ہاں بولیں “” اگر غفلت کا احساس نہیں ہو رہا تو اپنے آمدن کے وسائل پر غور کریں – اور اپنے الله سے معافی مانگیں , الله آپ سے راضی نہیں “ہم منزل پہ آ چکے تھے – میں نے اسکے توکل کی حقیقت جاننے کی لئے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کے ہاتھ پہ رکھ دیا ,۔جاری ہے ۔

اس نے بسم الله کہا اور نوٹ جیب میں رکھ کر کار موڑنے لگا – میں نے آواز دی , وہ رک گیا – ” حکم سر جی “” تم ان پیسوں میں خوش ہو ”
” جی , مشکل سے بیس روپے کا پٹرول جلا ہو گا – الله نے اس خراب موسم میں بھی میرے بچوں کی روٹی کا انتظام کر دیا “میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے – میں نے جیب سے مزید دو سو نکالے اور اسے دینے کے لئے ہاتھ بڑھایا – وہ مسکرایا -” سر جی , دیکھا آپ نے – میرا حق پچاس روپے تھا , اور الله کے توکل نے مجھے دو سو دیا ” وہ چلا گیا , میرے ایمان کو جھنجھوڑ کر –

اپنا تبصرہ بھیجیں