قبر کی کھدائی کے دوران ہی علم ہو جاتاہے کہ مرنیوالا نیک تھا یا بد چند سال قبل ایک عورت کی قبر کی کھدائی کے دوران زمین سے بڑی تعداد میں بچھو نکلنے لگے وہ عورت اپنے حافظ قرآن شوہر سے بدزبانی کرتی تھی لیکن ان کا شوہر انتہائی نیک اور صبر کرنے والا شخص تھا بیوی کی بدتمیزی پر وہ کہتا تھا کہ

قبرستانوں میں پیش آنے والے پر اسرار واقعات اکثراوقات سامنے آتے رہتے ہیں ، ایسے ہی ایک واقعے سے کورنگی کے علاقے بلال کالونی میں واقع قبرستان کے گورکن نے پردہ اٹھایا اور انکشاف کیا کہ قبرکی کھدائی کے دوران ہی علم ہوجاتاہے کہ مرنیوالا نیک تھا یا بد، چند سال قبل ایک عورت کی قبر کی کھدائی کے دوران زمین سے بڑی تعداد میںبچھو نکلنے لگے ۔ وہ عورت اپنے حافظ قرآن شوہر سے بدزبانی کرتی تھی لیکن ان کا شوہر انتہائی نیک اور صبر کرنے والا شخص تھا۔ بیوی کی بدتمیزی پر وہ کہتا تھا ۔جاری ہے ۔

کہ اللہ تجھ سے پوچھے گا، تجھ سے اللہ ہی پوچھے گا، اس عورت کی موت ہوئی تو زمین نے اسے جگہ دینے سے ہی انکار کردیا، بچھوتک نکل آئے ، بالآخر شوہر نے معاف کیا اور قبر کے قریب کھڑے ہوکردعا کی توبچھوغائب ہونے لگے،یوں بالآخر انتقال کے 13گھنٹے بعد تدفین ممکن ہوسکی۔\روزنامہ امت کے مطابق کورنگی کے علاقے بلال کالونی میں واقع قبرستان کے گورکن لیاقت علی نے بتایا کہ وہ 17 سال سے اس قبرستان میں کام کر رہا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ گورکن کو انداز ہ ہو جاتا ہے کہ وہ جس کی قبر تیار کر رہا ہے وہ نیک تھا یا گناہ گار۔ لیاقت علی کے بقول اس نے دوسرے قبرستان میں چند سال قبل ایک عورت کی قبر تیار کی تھی۔ ۔جاری ہے ۔

کھدائی کے دوران زمین سے بڑی تعداد میںبچھو نکلنے لگے تھے۔ وہ عورت اپنے حافظ قرآن شوہر سے بدزبانی اور جھگڑے کیا کرتی تھی۔ لیکن ان کا شوہر انتہائی نیک اور صبر کرنے والا شخص تھا۔ بیوی کی بدتمیزی پر وہ کہتا تھا کہ تجھ سے اللہ ہی پوچھے گا۔ لیاقت علی نے بتایا کہ ”طویل بیماری کے بعد اس عورت کا انتقال ہوا تو اہل خانہ نے اس کی تدفین کیلئے قبرکا آرڈر دیا۔ پہلی بار کھدائی کے دوران چٹان نکل آئی اور قبر کی تیاری ممکن نہ رہی۔ دوسری جگہ کھدائی شروع کی تو وہاں بھی ایک بڑا پتھر رکاوٹ بن گیا۔ تیسری جگہ قبرتیار تو ہو گئی، لیکن اس میں سے انتہائی غلیظ اور ناقابل برداشت بدبو آنے لگی۔ ۔جاری ہے ۔

یہ صورتحال دیکھ کر ساتھی گورکن خوف زدہ ہو گیا اور اس نے انکار کر دیا۔ جس پر اس عورت کے رشتہ داروں نے مجھ سے رابطہ کیا اور قبر کھودنے کو کہا۔ جب میں وہاں پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ ایمرجنسی لائٹوں کی روشنی میں قبر کھودنی شروع کی تو ہر مرتبہ کدال مارنے پر جسم میں سنسنی سی محسوس ہوتی۔ مجھ پر خوف طاری ہو گیا اور پورا جسم پسینے سے بھیگ گیا ، حالانکہ وہ سردیوں کی رات تھی۔ میں نے ہمت کر کے تھوڑی سی زمین کھودی تو اس میں سے بڑی تعداد میں بچھوں نکلنے لگے۔ جنہیں دیکھ کر میت کے ساتھ آنے والے لوگ بھی خوفزدہ ہو گئے۔ ۔جاری ہے ۔


وہاں موجود لوگوں میں سے کسی نے کہا کہ اس عورت کے شوہر سے کہو کہ وہ اپنی بیوی کو معاف کر دے اور اس کے گناہوں کی بخشش کیلئے دعا کرے۔اس عورت کے شوہر نے قبر کے قریب کھڑے ہو کر دعا کی اور پھر قرآن کی تلاوت شروع کر دی۔ میں نے بھی دعا کی کہ رب تعالیٰ ، اس کے شوہر نے معاف کر دیا ہے تو بھی اس کو معاف کر دے۔ وہ شخص کافی دیر تک تلاوت کرتا رہا۔ اس دوران بچھو غائب ہونے لگے۔ پھر میں نے بے خوف ہو کر قبر تیار کی۔ اس طرح موت کے 13 گھنٹے بعد اس عورت کی تدفین ممکن ہوئی “۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں