اس کو یہ عادت بہت پرائی تھی اور شادی کے بعد

ہمارے معاشرے کے کچھ حقائق ایسے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے تو ہیں مگر اس پر بات نہیں کرنا چاہتے ۔ کیا آنکھیں بند کرنے سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ یہ ایک نوجوان کی نہیں بلکہ اس جیسے لاکھوں نوجوانوں کی کہانی ہے ۔ بے حیائی کا جو سیلاب آیا ہے وہ کوئی لوگوں کی خوشگوار ازدواجی زندگی کو نگل گیا ہے۔ وہ نوجوان شروع سے ہی لاابالی طبعیت کا مالک تھا ۔ کالج میں ہی اس نے شیطانی کھیل کو اپنا مشغلہ بنا لیا ۔ لڑکیوں سے وفا کے جھوٹے وعدے پھر ان کی عزت سے کھیلنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ نجانے کتنی ہی لڑکیاں اپنی عزت و آبرو اس کی حوس کی وجہ سے کھو چکی تھیں۔۔جاری ہے ۔

وقت پر لگا کر اڑتا رہا اس کی شادی ایک اچھی لڑکی سے کردی گئی ۔ شروع میں تو اس نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی مگر وہ ہی پرانی لت کہاں اتنی آسانی سے جان چھوڑنے والی تھی ۔ شادی شدہ خاتون سب برداشت کرلیتی ہے شوہر جیسا بھی ہو کمپرومائز کرلیتی ہے مگر جب محسوس کرتی ہے کہ شوہر محبت نہیں دے سکتا یا اس کی زندگی میں کوئی اور بھی ہے تو اس بات پر کبھی کمپرومائز نہیں کرتی ۔ ایسا ہی معاملہ ہوا ۔ ایک دن وٹس ایپ کے میسجز اسکی بیوی نے پڑھ لئے جس میں ایک لڑکی سے ملنے کی جگہ کامنصوبہ بنایا جارہا تھا۔ شروع میں تو اسے یقین نہ آیا مگر اس نے حقائق جاننے کے لیے وقت اور جگہ پر پہنچ کر خود دیکھنے کا فیصلہ کیا۔جاری ہے ۔

۔جو ہونا تھا وہ ہوا ۔ یعنی وہ واقعی کسی غیر محرم کے ساتھ اپنے شیطانی عمل کو پورا کرنے جارہا تھا۔ بس اس نے طلاق لینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ۔ اور یوں ایک اور گھر اس بے حیائی کے سیلاب کی نظر ہوگیا۔ آپ یقینا یہ پڑھ کر کہہ رہے ہونگے کہ یہ تو عام سی بات ہے اس واقعہ میں حیرت انگیز بات کیا ہے۔ مگر یہ واقعہ ایک نوجوان کا نہیں ہے بلکہ ہزاروں زندگیوں کی تباہی اسی کہانی کے گرد گھومتی ہے ۔ اس میں قصور ہم سب کا ہے ۔ ہم اپنے بچوں کی شروع سے ایسی تربیت کریں کہ وہ بے حیائی کے کاموں سے بچے۔ اسے نماز پڑھنے کی ترغیب دیں کہ نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے ۔ یہ فحاشی کا سیلاب ہماری نسلوں کو بہا کر لے کر جارہا ہے ۔ ہم اخلاقی دلدل کی گہرائیوں میں دھنستے جارہے ہیں ۔۔جاری ہے ۔

اس سے نکلنے کا ایک ہی واحد نسخہ ہے کہ اپنے گھروں کا ماحول ایسا بنا لیں جو کہ دین کے مطابق ہو ۔ جب گھر میں ایسا ماحول ہوگا کہ دین کا دور، دور تک کوئی نام و نشان نہیں ہوگا تو یہ بچے پھر کیسے تربیت حاصل کریں گے اور کیا تربیت حاصل کریں گے ۔ پھر تو وہ ہی کچھ کریں گے جو فلموں میں دیکھا جاتا ہے ۔پھر لڑکیاں بھی گھروں سے بھاگیں گی کہ ماں باپ سے زیادہ کسی کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار ہوگا ۔ اگر ہم نے آج اس بے حیائی کے سیلاب کے آگے بند نہ باندھا تو یقین مانئے بہت دیر ہوجائے گی ۔ بہت دیر ہوجائے گی ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں