کاش کہ عورت سمجھ پائے میں نے دووکھڑے ہو کر آوازدی انکل ٹائم پورا ہو گیا اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اس شید سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینے کی بوند یں ٹپک رہیں تھیں اس نے اپنی پھٹی ہوئی قمیض کا دامن پکڑا اور

شام چار بجے میں اس کی دیہاڑی کے چھ سوروپے لیکر اس کے پاس پہنچا میں نے دور کھڑے ہو کر آواز دی انکل!ٹائم پورا ہو گیا ۔اس نے نظریں اٹھا کر میری طرف دیکھا اس شدید سردی میں بھی اس کے چہرے سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہیں تھیں .اس نے اپنی پھٹی ہوئی قمیض کا دامن پکڑا اور اسی سے چہرا پونچھتے ہوئے بولا !میں نے دو گھنٹے اور کام کرنا ہے بھائی سے پوچھ آؤ دو سو زیادہ مل جائے گا ؟میں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور وہ پھر سے کھدائی میں مصروف ہو گیا :۔جاری ہے ۔


میں گھرلوٹا بھیا سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے دو سو روپے اور تھما دیے اور کہا اسے آٹھ سو دے دو اور گھر بھیج دو ۔میں نے آٹھ سو روپے اسے دیے اور کام چھوڑ دینے کو کہا جس پر وہ بمشکل راضی ہوا وہ ایک طرف گیا۔اپنے پلاسٹک کے پرانے جوتے اٹھا کر پہنے بائیں پاؤں کا انگوٹھا جوتے کے آگے پھٹن کی وجہ سے بنے سوراخ سے باہر آ گیا! اس نے کدال کندھے پر رکھی اور شکریہ ادا کرتا ہوا چل دیا اس کے چہرے پر سخت تھکاوٹ کے باوجود فاتحانہ چمک سی تھی۔۔جاری ہے ۔

جس نے مجھے تجسس میں ڈال دیا اس نے نیچے دیکھا کچھ سوچا اور زیر لب مسکرایا جس سے میرے تجسس میں اور اضافہ ہو گیا ۔۔جاری ہے ۔میں بھی اس کے ساتھ ساتھ چل پڑا اور ہمت کر کے اس آخری کیفیت کے بارے میں دریافت کر لیا.کچھ اصرار پر اس نے بتایا کہ کل گاؤں میں شادی ہے بیوی نے نئے سوٹ کا مطالبہ رکھا تھا اس کیلیے پریشان تھا .الحمد للہ اب پیسے پورے ہو گئے!دوکان سے جاتے ہوئے سوٹ لیکر جاؤں گا .بس یہی سوچ رہا تھا ” کتنی خوش ہو گی۔۔جاری ہے ۔

وہ ”پتہ نہیں کب میری آنکھیں نم ہو گئیں تھیں میں نے اسے الوداع کیا اور یہ سوچتا ہوا گھر کی طرف لوٹا کہ کاش ہمیشہ نا شکری کرنے والی عورت کبھی مرد کے جذبات کو بھی سمجھ پاتی!

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

اپنا تبصرہ بھیجیں