وہ چند الفاظ جن سے کسی کی بھی زندگی تباہ ہو سکتی ہے؟؟ کہیں آپ بھی تو نہیں

حامد : فلاں دکان میں. ماہانہ کتنی تنخواہ دیتاہے؟ حامد:18000 روپے ، زید :18000 روپے بس، تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں ؟؟ حامد .گہری سانس کھینچتے ہوئے . بس یار کیا بتاوں. میٹنگ ختم ہوئی.کچھ دنوں کے بعد حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا ، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی جسے منٹ سے پیشتر مالک نے رد کردیا. نوجوان نے جاب چھوڑ دی اور بے روزگار ہوگیا،،پہلے اس کے پاس کام تھا اب کام نہیں رہا. سیانے سچ کہتے ہیں “قلیل من کثیر منقطع”تھوڑا تھوڑا لیکن ہمیشہ ملنے والا مال اس مال سے بہتر ہوتا ہے جو چھپڑ پھاڑ کر ملے اور جتنی تیزی سے آئے اتنی تیزی سے ختم ہوجائے دوسری کہانی ایک سہیلی نے دوسری سہیلی سے پوچھا. بچہ پیدا ہونے کی خوشی میں تمہارے شوہر نے تمہیں کیا تحفہ دیا ؟ سہیلی نے کہا کچھ بھی نہیں.۔جاری ہے ۔

اس نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا یہ اچھی بات ہے؟ کیا اس کی نظر میں تمہاری کوئی قیمت نہیں؟ لفظوں کا یہ زہریلا بم گراکر وہ سہیلی دوسری سہیلی کو اپنی فکر میں غلطاں و پیچاں چھوڑ کر چلتی بنی. تھوڑی دیر بعد ظہر کے وقت اس کاشوہر گھر آیا اور بیوی کا منہ لٹکا ہواپایا. پھر دونوں کا جھگڑا ہواایک دوسرے کو لعنت بھیجی مارپیٹ ہوئی شوہر نے اسے طلاق دے دی، جانتے ہیں پرابلم کی شروعات کہاں سے ہوئی؟اس فضول جملے سےجو اس کی زیارت کرنے آئی سہیلی نے کہا تھا. تیسری کہانی روایت ہے کہ ایک فکر و قلق سے آزاد باپ تھا کہ ایک کہنے والے نے اس کے کان میں نفرت کا منتر پھونکا کہ تمہارا بیٹا تمہاری بہت زیادہ زیارت کیوں نہیں کرتا کیا اسے تم سے دل کی گہرائیوں سے محبت نہیں ؟۔جاری ہے ۔

باپ نے بیٹے کے لئے عذر تراشا اور کہا کہ اس کے کام کا بیک گراونڈ اور شیڈول بہت سخت ہے اسے بہت کم وقت ملتا ہے دوسرے آدمی نے کہا کہ . تم کیسے مان سکتے ہو کہ اس کو کام کی وجہ سے آپ سے ملنے کا وقت نہیں ملتا ؟؟ یہ تو نہ ملنے کا ماڈرن بہانا ہے. اس گفتگو کے کچھ دنوں بعد باپ کے دل میں بیٹے کے تعلق سے پہلی جیسی صفائی نا رہی اور رضامندی کی جگہ نفرت و حقارت نے لے لی.بے شک کچھ لوگوں کی زبانوں سے شیطان بول جاتا ہے ہماری روز مرہ کی زندگی میں کچھ سوالات ہمیں بہت معصوم لگتے ہیں: تم نے یہ کیوں نہیں خریدا؟ تمہارے پاس یہ کیوں نہیں ہے؟ تم اس شخص کے ساتھ پوری زندگی کیسے چل سکتی ہو۔جاری ہے ۔

؟تماسے کیسے مان سکتے ہو؟اس طرح کے بیشتر سوالات نادانی میں یا بلا مقصد ہم پوچھ بیٹھتے ہیں جبکہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے یہ سوالات سننے والے کے دل میں نفرت یا محبت کا کون سا بیج بورہے ہیں . لوگوں کے گھروں میں اندھے بن کر جاو اور وہاں سے گونگا بن کر نکلو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں