اللہ سے چیلنج – دنیا کی مضبوط ترین عمارت کا دعویٰ ڈھیر معمولی سی چیز نے اس کا بیڑہ غرق کردیا چانیے کیسے

دنیا پر کوئی بڑی تباہی نازل ہونے کی صورت میں اگر تمام تناباتی حیات مٹ جائے تو انسانوں کو زندہ رہنے کیلئے پھر سے فصلیں اگانے کی ضرورت ہو گی، لیکن اس کیلئے بیج کہاں سے آئیں گے ؟ اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے قطب شمالی کے برف زار میں ’سوالبارڈ گلوبل سیڈ والٹ‘ کے نام سے ایک انتہائی مضبوط اور محفوظ عمارت تعمیر کی گئی ہے جس میں دنیا بھر سے مختلف اقسام کے بیچوں کے لاکھوں نمونے جمع کیے گئے ہیں۔ یہ عمارت بڑی سے بڑی تباہی میں بھی سلامت رہنے کیلئے بنائی گئی تھی لیکن حیرت ہے کہ برف پگھلنے سے پانی کی بڑی مقدار اس کی داخلی سرنگ میں داخل ہوئی تو دنیا کی مضبوط ترین عمارت کی ساری مضبوطی ڈھیر ہو گئی۔۔جاری ہے ۔

اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق قطب شمالی میں واقع اس عمارت کا داخلی حصہ پانی داخل ہو جانے سے بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ اس حصے کا کنٹرول جزوی طور پر ناروے کی حکومت کے پاس ہے ، جس کا کہنا ہے کہ عمارت میں محفوظ بیجوں کو نقصان نہیں پہنچا۔ناروے حکومت کے کمیونیکیشن افسر ہاگے نجاآشم کا کہنا تھا کہ ”سرنگ کے اندر جمع ہونے والا پانی اب دوبارہ برف بن گیا ہے اور یہ کسی گلیشئر کی طرح نظر آرہا ہے۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس طرح پرما فراسٹ کے پگھلنے سے پانی سرنگ میں داخل ہو جائے گا اور اندر جا کر پھر سے جم جائے گا۔“۔جاری ہے ۔


سیڈ والٹ منصوبے کی تخلیق کرنے والوں میں سے ایک اہم شخصیت کیری وارلر نے بتایا کہ عمارت کے اندر پہنچنے کیلئے سو میٹر لمبی سرنگ بنائی گئی ہے جس میں سے گزرنے کے بعد ہی بیجوں کے محفوظ ذخیرے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داخلی حصے میں پانی داخل ہونے کے واقعات پہلے بھی پیش آچکے ہیں ۔ یاد رہے کہ اس عمارت میں 10 لاکھ سے زائد بیجوں کے نمونے محفوظ ہیں۔ ان بیجوں کو منفی 18 ڈگری درجہ حرارت پر محفوظ کیا گیا ہے تاکہ دنیا پر نازل ہونیوالی کسی بڑی آفت کی صورت میں زندگی کو پھر سے بحال کرنے کیلئے یہاں محفوظ بیجو ں کو استعمال کیا جا سکے۔

کیٹاگری میں : news

اپنا تبصرہ بھیجیں