اگر منہ میں کھانا ہو اور اذان کی آواز آجائے تو کیا روزہ رکھا جاسکتا ہے؟ عرب ملک کے مفتی اعظم نے مشکل سوال کا واضح جواب دے دیا

منہ میں کھانا موجود ہو اور اذان فجر شروع ہوجائے تو ایسی صورت میں روزے کے بارے میں کیا حکم ہے، دبئی کے گرینڈ مفتی ڈاکٹر علی احمد مشائل نے اس سوال کا واضح جواب دے دیا ہے۔۔جاری ہے ۔

نیوز سائٹ ایمریٹس 247کے مطابق ڈاکٹر علی احمد مشائل کہتے ہیں کہ فقہ حنفی اور فقہ مالکی کے مطابق اذان فجر کے دوران یا اس کے بعد ارادتاً کچھ بھی کھانے والے کا روزہ نہیں ہو گا، تاہم شافعی مسلک کے مطابق اگر یہ ارادی فعل نہیں ہے۔جاری ہے ۔

اور غذا اتفاقاً حلق میں چلی گئی ہے اور اسے باہر نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو یہ گناہ نہیں ہے۔ اگر غذا کامیابی سے باہر آجائے تو روزہ جاری رکھا جائے، لیکن اگر باہر نہ آسکے تو روزہ دوبارہ رکھنا ہوگا۔

کیٹاگری میں : news