چار چڑیلیں ایک خوفناک کہانی

لیموں گوٹھ قبرستان گلشن اقبال کے خدمت گار انور اسلام نے بتایا کہ یہ قبرستان بہت پرانا ہے اور اس کے حوالے سے کئی قصے کہانیاں مشہور ہیں، کوئی کہتا ہے کہ اس قبرستان میں جنات ہیں، کوئی کہتا ہے کہ اس قبرستان میں چڑیلیں رہتی ہیں تو کوئی یہاں پریوں کو دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ان باتوں میں سے کچھ تو سچی بھی ہیں، کیونکہ تمام باتوں کو جھوٹ نہیں کہا جاسکتا، ایسا ہی ایک واقعہ میرے ساتھ بھی پیش آچکا ہے جب ایک روز دن بھر بارش جاری رہی ، ایک شخص کا انتقال ہوگیا جس کی تدفین کے لیے مجھ سے رابطہ کیاگیا، میں نے مغرب کے بعد قبر کی کھدائی شروع کی اور عشاء کے بعد تک تدفین ہوگئی، لواحقین کے جانے کے بعد میں نے بھی اپنا سامان سمیٹا اور چلتا بنا لیکن کچھ ہی دور جا کر دیکھا تو روشنی محسوس ہوئی ، وہاں چار عورتیں موجود تھیں جو دراصل چڑیلیں تھیں، ان کی ایک ایک آنکھ اور منہ پر کان تھے ، مجھے بولیں کہ تعویذ کی وجہ سے بچ گئے ہو، ورنہ خون پی جانا تھا اور پھر اچانک اس درخت میں ہوا کی طرح غائب ہوگئیں۔۔جاری ہے ۔

انوراسلام نے روزنامہ امت کو اپنی زندگی کا ایک سچا واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ”میں نے اپنا بچپن اور جوانی اسی قبرستان میں گزاری ہے اور اب اپنا بڑھاپا بھی اسی قبرستان میں گزاررہا ہوں۔ آج سے 10 سال پہلے میرے ساتھ اس قبرستان میں ایک پراسرار واقعہ پیش آیا۔ ہوا کچھ یوں تھا کہ دسمبر کے مہینے میں مجھے ایک قبر تیار کرنے کا کام ملا، جس کی تدفین بعد نماز عشاءتھی۔ اس دن بارش بھی ہوئی تھی جو کئی گھنٹے جاری رہی تھی۔ شام میں جاکر اس بارش کا زور ٹوٹا تھا۔ مغرب کے بعد میں نے قبر تیار کرنا شروع کی اور اپنے کام سے فارغ ہوکر میں میت کا انتظار کرنے لگا۔ میت آتے آتے کوئی 10 بجے کا وقت ہوگیا اور تدفین سے فارغ ہوتے ہوتے رات کے 11بج گئے۔ جس کے بعد میں لوگوں کے جانے کا انتظار کرنے لگا۔ جب تمام لوگ قبرستان سے چلے گئے تو میں نے بھی اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا۔ تمام کاموں سے فارغ ہوکر میں بھی گھر جانے لگا۔ ابھی میں نے آدھا قبرستان ہی پار کیا تھا کہ میں نے دیکھا قبرستان کے اندر مدھم سی روشنی ہورہی ہے اور کچھ افراد وہاں موجود ہیں۔ اس صورتحال کو دیکھ کر م یں نے سوچا کہ ابھی تک تو قبرستان میں کوئی نہیں تھا، پھر اچانک یہ لوگ قبرستان میں کہاں سے آگئے۔ معاملے کا جائزہ لینے میں بھی اس جانب روانہ ہوا جہاں روشنی ہو رہی تھی۔۔جاری ہے ۔

جب میں نزدیک پہنچا تو میں نے دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے کچھ نوجوان لڑکیاں آگ جلا کر اس کے گرد بیٹھی ہیں اور آپس میں کسی نامانوس زبان میں باتیں کررہی ہیں۔ میں جب ان کے نزدیک پہنچ گیا تو میں نے کڑک دار لہجے میں ان لڑکیوں کو مخاطب کیا جو تعداد میں چار تھیں۔ ان سے کہا کہ تم لوگ کون ہو اور اس وقت قبرستان میں کیا کررہی ہو؟ تمہارے گھر والوں کو معلوم ہے کہ اس وقت تک قبرستان میں ہو؟ میری آواز ان لڑکیوں نے سنی ان سنی کردی اور ایک لڑکی نے نیچے منہ کئے ہوئے منمناتی آواز میں، جیسے کوئی ناک سے بولتا ہے، دیگر لڑکیوں کو کہا کہ دیکھا یہ آہی گیا نہ ہمارے پاس۔ یہ جملہ سن کر اس کی دیگر ساتھی لڑکیاں اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئیں۔ اب جو میں نے غور سے ان کی جانب دیکھا تو مجھے ایسا لگا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں۔ کیونکہ ان کی ناک تھی اور نہ ہی منہ تھا۔ ان کے چہرے پر کان تھے۔جاری ہے ۔

اور صرف آنکھیں تھیں جو انتہائی سرخ تھیں۔ اب جو میں نے بھاگنا چاہا تو مجھے ایسا لگا جیسے کسی نے میرے پاﺅں مضبوطی سے پکڑلئے ہوں، جنہیں میں کسی بھی طرح سے آزاد نہیں کراپارہا تھا۔ جس کے بعد وہ جو بھی مخلوق تھیں میرے قریب آئیں اور جیسے ہی انہوں نے قریب آکر مجھے چھونا چاہا، ان کو ایسا جھٹکا لگا جیسے کوئی شخص بے دھیانی میں بجلی کا ننگا تار چھولے۔اس کے بعد ان میں سے ایک نے اپنی دیگر ساتھیوں کو کہا کہ اس کے پاس کوئی تعویذ ہے، جس کی وجہ سے ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ پائیں گے۔ پھر اس لڑکی نے مجھے کہا کہ آج اس تعویذ نے تجھے بجالیا ورنہ آج ہم تیرے خون سے اپنی بھوک مٹاتے۔ اس کے بعد وہ تمام عجیب الخلقت لڑکایں اس درخت کے اندر اس طرح داخل ہوگئیں۔جاری ہے ۔

جسے وہ ہوا سے بنی ہوں۔ اس کے بعد میرے پاﺅں آزاد ہوئے اور میں وہاں سے بھاگ نکلا۔ دوسرے دن میں نے اس واقعے کا ذکر ایک نورانی عمل کرنے والے عامل سے کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ تمہارا سامنا رات کو چڑیلوں سے ہوا تھا جو تمہیں اپنا شکار بنانا چاہتی تھیں۔ مگر تمہارے گلے میں جو تمہارے مرشد کا دیا تعویذ ہے اس نے تمہاری جان بچالی ہے۔ اس کے بعد پھر کبھی وہ مخلوق یا چڑیلیں مجھے دوبارہ نظر نہیں آئیں اور میں بھی قبرستان کے اس حصے میں صرف دن کے اوقات میں ہی جاتا ہوں۔