لالے کتھے نس رہیاں ایں فنی خرابی کے بعد ہیلی کاپٹرمیں آگ لگ گئی اور سن لوگ بھاگ گئے تب جنرل راحیل شریف نے کیا ،کیا بہادری کا ایک زبردست واقعہ

بہادر خاندان کے بہادر بیٹے جنرل راحیل شریف اور ان کے خاندان کی بہادری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ ماموں عزیزبھٹی شہید جنہوں نے بھارت کے ساتھ جنگ میں شجاعت اور بہادری کے ایسے ایسے کارنامے رقم کیے کہ خود دشمن نے بھی اپنے منہ سے ان کی جوانمردی کا ببانگ دہل اعتراف کیا ۔جنرل راحیل شریف کے بڑے بھائی میجر شبیر شریف شہید نے بھی دشمن کے مورچوں میں جا کر جرات کے ایسے کارنامے رقم کیےجو رہتی دنیا تک پاکستان اور جنرل راحیل شریف کےخاندان کی عظمت کےپاسبان رہیں گے ۔شہیدوں کے خاندان کاعظیم اور جریسپوت’’ راحیل شریف ‘‘ جنہوں نے پاکستانی فوج کی کمان سنبھالتے ہی ایسے شاندار اقدامات کیے جو بس انہیں کا حق تھے ۔۔جاری ہے۔

شیر کی طرح بہادر اس سپوت نے ہر معاملے میں پاکستان کی پشت پناہی کبھی بالکل کسی شفیق ماں کی طرح کی تو کبھی وہ ایک سخت غصہ آ ور مگر ایک پیار کرنے والے باپ کی طرح دن رات پاکستان کی عظمت اور سر بلندی کیلئے سر گرم رہے ۔جنرل راحیل شریف کی بہادری کا قصہ سناتے ہوئے پاکستان کے معروف کالم نگار ضیا شاہد کہتے ہیں کہ ’’راحیل شریف 1981ءمیں گلگت میں بریگیڈ ہیڈکوارٹرمیں بطورجی 3تعینات تھے اور راولپنڈی سے گلگت کا بس کا سفر چوبیس گھنٹوں سے زائد پر محیط تھا، موسمی حالات کی وجہ سے پی آئی اے کے فوکر طیاروں کی آمدورفت بند ہوتی تو پھر فوجی افسر کسی آتے جاتے ہیلی کاپٹر کا انتظا رکرتے ۔۔جاری ہے۔

جی ایچ کیو سے ایک جنرل ہیلی کاپٹر پر گلگت آئے تو واپسی پر عملے اور مسافروں کے علاوہ دوفوجی جوان افسروں کو بھی جگہ مل گئی، پیوماہیلی کاپٹر گلگت سے فضاءمیں بلند ہواتو پتن سے پہلی فنی خرابی آگئی جس پر پائلٹ نے ہیلی کاپٹر کو شاہراہ قراقرم پر اتار لیا۔ہیلی کاپٹر کا دروازہ کھلتے ہی سب نے چھلانگیں لگادیں اوربھاگنے کو ترجیح دی لیکن عقبی نشست پر دوجوانوں میں سے ایک نے باہرنکل کر محفوظ مقام پر جانے کا ارادہ ہی کیاتھا کہ ساتھ موجود مضبوط کاٹھی کے افسر نے بازوپکڑلیا اورپنجابی میں کہاکہ ”لالے کتھے نس رہیاں ایں“(بھائی کہاں بھاگ رہے ہو؟)۔جاری ہے۔

جس پر جونیئرافسر نے جواب دیا کہ کاک پٹ میں دھواں بھررہاہے جوکسی بھی وقت آگ کا باعث بن سکتاہے ۔ سینئرفوجی افسر بولاکہ ’عملے نوں چھڈ کے کس طرح جاواں گے‘(عملے کو چھوڑ کر کس طرح جاسکتے ہیں؟)جس پر جونیئرافسر بھی شرمسار ہوا۔کچھ فاصلے پر موجود جنرل صاحب اور دیگر مسافرشور مچارہے تھے کہ جلدی باہرنکلیں لیکن ہیلی کاپٹرمیں موجود افسرٹس سے مس نہیں ہوااور عملے کیساتھ اندر ہی رہا، ہیلی کاپٹر کے وائرلیس سیٹ کی انٹینا تار کے شعلہ پکڑنے سے اٹھنے والا دھواں متبادل نظام کے فعال ہوتے ہی بجھ گیا، اور ہیلی کاپٹر دوبارہ سفر کیلئے تیار ہوگیا۔ اس سینئر نوجوان افسر کا نام جنہوں نے باہر نکلنے سے انکار کردیا، ’’راحیل شریف‘‘ تھا۔

کیٹاگری میں : news