وہ وقت جب کرنل قذافی نے حکم دیا کہ پاکستان سے جو قرآن آئے اسے ضبط کر لواس نے ایسا حکم کیوں دیا تھا

ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل نے جامعہ کراچی سے ایم ایس سی کرنے کے بعد فرانس کی جامعہ پیرس سے پوسٹ گریجویٹ اوربرطانیہ کی مشہور جامعہ برسٹل سے پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کی سربراہی میں خاصاتحقیقی کام کیا‘ جرمنی کے سائن دان پروفیسر جارج ہان کے ساتھ کالا باغ کے خام لوہے سے فولاد بنانے کے منصوبے پر کام کیا۔ وہ جرمنی کی مشہور درس گاہ ڈارم شٹاٹ ہوخ شولے میں دو برس مہمان لیکچرر رہے‘پھر1979ء میں لیبیا کی جامعہ الفاتح سبہا میں کیمیا کے پروفیسربھی رہے‘ زیر نظر واقعہ اسی دوران لیبیا میں ہی۔جاری ہے ۔

پیش آیا۔ڈاکٹر سید مشتاق اسماعیل1957 سے 2002 تک کے طویل عرصے تک سائنسی درس و تدریس کے شعبے میں اعلیٰ خدمات سر انجام دینے اور ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد آج کل اپنا وقت کراچی‘ فورٹ سمتھ‘ ارکانساس‘ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں گزارتے ہیں۔ میر ا تقرر لیبیا کی جامعہ الفاتح کے کیمسٹری کے شعبے میں بحیثیت پروفیسر کے ہوا۔ پتا چلا کہ لیبیا میں تین صوبے ہیں۔ دو صوبے بحرِ روم میں سمندر کے کنارے واقع ہیں۔ ایک صوبہ سری نائکاہے جس کا دارلخلافہ بن غازی ہے، دوسرا خلیجِ سرت کے دوسری طرف طرابلس ہے جہاں لیبیا کا دارلخلافہ واقع ہے۔تیسرا اور رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ فیضان جس کا دارلخلافہ سبہا ہے۔ جامعہ الفاتح طرابلس میں واقع ہے مگر اس کا ایک کیمپس سبہا میں بھی ہے‘ میرا تقرر وہیں ہوا تھا۔ سبہا صحرائے اعظم صحارہ کے بیچ میں واقع ہے۔ سبہا ایک چھوٹا سا قصبہ تھا جہاں کے لوگ ہر کام اور ہر چیز کے لئے طرابلس جاتے تھے۔ حکومت لیبیا نے فیصلہ کیا کہ سبہا کو ترقی دی جائے چنانچہ وہاں پہلے تو ایک ہوائی اڈا بنایا گیا‘ اُس کے بعدوہاں جامعہ الفاتح کا ایک کیمپس کھولا گیا،۔جاری ہے ۔

نیشنل کمرشل بینک کی ایک شاخ کھولی گئی اورلیبین ائیر لائن کی بھی ایک شاخ کھل گئی۔یوں سبہا قصبے سے اچھا خاصا شہر بننے لگا۔ سبہا بہر حال دنیا کے سب سے بڑے ریگستان صحارہ کے بیچ میں واقع تھا‘ وہاں سے طرابلس اور بن غازی دونوں بڑے ساحلی شہر پندرہ پندرہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ صحارہ کا رقبہ نوے لاکھ چونسٹھ ہزار تین سو مربع کلو میٹر ہے۔ بحیرۂ احمراُسے دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ دوسرا بڑا حصہ صحرا ئے عرب ہے جس کا اپنا رقبہ پچیس لاکھ نواسی ہزار مربع کلو میٹر ہے۔ جب میں وہاں پہنچا تو سب سے پہلے ہوائی اڈے سے جامعہ الفاتح میں ایک برطانوی پاکستانی کے گھر رات گزاری۔ صبح کو ڈین فکلٹی کلیہ التربیہ (DEAN FACULTY OF EDUCATION) کے دفتر میں اطلاع کرنے گیا کہ میں آ گیا ہوں۔ ڈاکٹر محمد اور اُ ن کے نائب ڈاکٹر عبدالقادر انتہا ئی شفقت سے ملے‘ سب سے پہلے تو انہوں نے مجھے 100 دینار مرحمت کیے اس مقصد کے تحت کہ جب تک تنخواہ مقرر نہیں ہوجاتی اور بینک میں میرا کھاتا نہیں کھل جاتا‘ میں انہیں استعمال کروں۔ اس کے بعد اُن کا چپڑاسی چائے بنا کر لے آیا۔ اس نے چائے کی ایک پیالی میرے سامنے رکھی اور دوسری میرے میزبان ڈاکٹر محمد کے سامنے‘تیسری پیالی وہ اپنے سامنے رکھ کر اور کرسی کھینچ کر ہمارے ساتھ شامل ہو گیا ۔۔جاری ہے ۔

اس نے گفتگو میں حصہ نہیں لیا مگر چائے ساتھ پی اور پھر پیالیاں اٹھا کر لے گیا۔پتا چلا کہ یہاں ڈین‘ پروفیسر اور چپڑاسی ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ ہمارے ہاں افسر چپراسی کے ساتھ نماز تو ضرور پڑھتے ہیں مگر اُس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں۔ لیبیا میں یہ اسلامی طریقہ ہے جس سے میں بہت متاثر ہوا۔ یکم ستمبر کو جامعہ کھل گئی اور طلبا ء آنا شروع ہو گئے۔ وہاں دو بڑے شعبے تھے ایک کلیتہ العلوم یعنی سائنس کا شعبہ تھا جس میں کیمسٹری‘ فزکس‘ ریاضی اور نیچرل سائنس کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ دوسرا شعبہ فنون کا تھا جس میں عربی سوشل سائنس وغیرہ کے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ جامعہ کے مہمان خانے میں مجھے ٹھہرنے کی جگہ دی گئی کہ جب تک مکان تفویض نہ ہو‘ اس میں آرام سے رہوں۔ اس فلیٹ میں بیٹھک‘ آرام گاہ‘ دو سونے کے کمرے‘ باورچی خانہ اور دو غسل خانے تھے۔ ہم دو بچوں کیساتھ گئے تھے۔ ایک سونے کا کمرہ بچوں کو مل گیا اور دوسرا ہم میاں بیوی کو۔ باورچی خانے میں ایک فریج اور برتن کی الماری تھی جس میں برتن‘ چھر ی کانٹے اور چمچ تھے‘ ایک گیس کا اوون اور چولہا بھی تھا۔۔جاری ہے ۔

غسل خانے میں گرم اور ٹھنڈا پانی ہر وقت موجود رہتا تھا۔ پورا فلیٹ ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ سبہا میں سب سے زیادہ جس چیز کا احساس ہوا‘ وہ یہ تھا کہ یہاں ایک عجیب قسم کا سناٹا تھا۔ مانا کہ چھوٹی سی جگہ تھی اور گاڑیوں کی آمدورفت شاذونادر ہی ہوتی مگر جو سکوت اور سناٹا تھا وہ میرے لئے عجیب تھا میں نے اِس کا ذکر اپنے دوست پروفیسر ولیم سے کیا‘ وہ برمنگھم انگلستان کے باشندے اورنیچرل ہسٹری کے پروفیسر تھے اور افریقا میں رہنے کا خاصا تجربہ رکھتے تھے۔ عربی اچھی بولتے تھے بلکہ میرے مترجم تھے۔ انھوں نے سنتے ہی کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں چڑیاں بالکل نہیں ہیں‘ تم ان کی آواز سے محروم ہو۔ پتا چلا کہ صحرا میں نہ پانی نہ درخت‘ چڑیا کا کیا کام! یہ سناٹا اسی وجہ سے تھا۔ دوسری چیز جو جاتے ہی محسوس ہوئی‘ وہ یہ تھی کہ یہ ایک جرائم سے مکمل طور پر محفوظ جگہ تھی۔ کسی قسم کا جرم کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔ بینک میں ایک شخص آتا ہے کیشئر سے کہتا ہے ’’کل ایک چیک بھجوایاتھا۔آپ نے دس دینار کم دیے ‘‘۔ کیشئر نے بغیر کسی سوال کے اس کو دس دینار دے دیے۔ میں حیران ہوا کہ یہ بینک کیسے چل رہا ہے۔۔جاری ہے ۔

وہاں کھڑے لوگ میری حیرانی پر حیران ہوئے اور کہا کہ وہ اگر کہہ رہا ہے تو سچ کہہ رہا ہے‘ یہاں جھوٹ نام کی چیز کوئی جانتا ہی نہیں۔ ایک دن بارش ہونے لگی۔ صحرا کی بارش ہی کیا! بس چند بوندیں گری تھیں ایک دس بارہ سال کی لڑکی اپنے چھوٹے بھائی کا ہاتھ پکڑے جا رہی تھی۔ بچہ بارش دیکھ کر گبھرا گیا اور رونے لگا کہ آسمان سے یہ کیا آفت آ رہی ہے۔ بچی اس کو سمجھانے لگی ’’میرے بچپن میں بھی ایک دفعہ ایسا ہوا تھاگھبرا ؤ نہیں۔ جلد ہی بارش رک جائے گی۔‘‘ گرمی میں سبہا کا درجہ حرارت آہستہ آہستہ بڑھ کر پچاس درجے تک پہنچ جاتا تھا۔ اس کے بعد ایک تیز آندھی چلتی تھی جس کو وہاں گِبلی کہتے ہیں۔ وہ اتنی تیز ہوئی کہ اگر آپ سڑک پر ہیں تو اپنا پاؤں گرد کی وجہ سے نظر نہیں آئے گااور اگر آپ نے گھر کے دروازے کھڑکیاں ٹھیک سے بند نہیں کی ہیں توسارا گھر ایک دبیز تہ سے اَٹا ملے گا۔ ایک دن ہم لوگ گِبلی میں گھر سے باہر پھنس گئے‘ دیکھا کہ ایک بدو موٹا اوورکوٹ پہنے جا رہا ہے۔ میرے ساتھ پروفیسر ولیم تھے۔ میں نے اُن سے کہا’’یہ بدو پاگل ہے کیا کہ اتنی گرمی میں اوور کوٹ پہنے پھر رہا ہے۔‘‘ اس نے کہا’’نہیں! ہم پاگل ہیں کہ ٹی شرٹ پہنے پھر رہے ہیں‘ وہ اوورکوٹ اس لئے پہنے ہوئے ہے کہ گرمی سے پسینا آئے گا۔ ہوا میں نمی صفر ہے‘ اس لئے خشک ہوا پسینے کو سکھائے گی اور بدن ٹھنڈا ہو جائے گا‘‘۔ یہ دیکھ کر سمجھ میں آیا کہ مصری فرعونوں کی ممیاں بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے۔ ہوا میں نمی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کوئی چیز گلتی سڑتی نہیں ہے بلکہ سوکھ جاتی ہے۔ ہم لوگ کپڑے دھو کر برآمدے میں لگی رسی پر پسارتے۔ ایک طرف سے شروع کر کے دوسرے طرف کے کپڑے ختم ہونے تک شروع کے کپڑے خشک ہوتے جاتے تھے‘۔جاری ہے ۔

لہٰذا ساتھ ہی ساتھ آپ انہیں اتارتے جایئے۔ کپڑے چند منٹوں میں خشک ہو جاتے تھے۔ میں اپنے محکمے میں سب سے سینئرتھا‘ اس لئے خود بخود محکمے کا سربراہ بنا دیا گیا اور جامعہ کی کمیٹی کاکا رکن بن گیا۔ یہاں کمیٹی ہر محکمے کو چلاتی ہے۔ ایک دن کتب خانہ کمیٹی کا اجلاس ہوا اس میں ڈین نے کہا ’’ہم ایک اچھا کتب خانہ بنانا چاہتے ہیں، آپ لوگوں کو فہرستیں مل گئی ہوں گی‘ اُن میں اپنی پسند کی کتابوں پر نشان لگا دیں‘ ہم آرڈر دے دیں گے۔‘‘ سارے محکموں اور ہر استاد سے فہرستوں پر نشان لگ لگ کر آگئے ڈین نے مجھے سے پوچھا ’’ہر کتاب کی کتنی جلدیں منگواؤں‘‘میں نے کہا ’’جوکتابیں لڑکے پڑھتے ہیں ان کی دس دس جلدیں منگوا لیں اور جو کتابیں اساتذہ تدریسی مدد کے لئے پڑھیں ان کی تین تین جلدیں منگوا لیں۔‘‘ انہوں نے میرے سامنے فہرستوں کے اوپر  لکھا یعنی ساری کتابوں کی سات سات جلدیں۔ دو تین مہینے بعد کتب خانے کا ناظم بھاگا ہوا آیا اور کہا ’’باقی تو سب خیر ہے مگر 44 جلدوں پر مشتمل انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے جو سات سیٹ آگئے ہیں‘ وہ کہا ں رکھوں؟‘‘ میں نے کہا ’’ڈین سے پوچھو۔‘‘ اس نے کہا ’’میں نے ان کو بتایا تو بولے ایک سیٹ میرے کمرے میں رکھ دو‘ اچھا لگے گا۔‘‘ میں نے کہا ’’ دوسرا سیٹ میرے کمرے میں رکھ دو۔‘‘ ہمارے محکمے میں چار اساتذہ اور آٹھ طلبا ء تھے گویا ہر دو طالب علم پر ایک استاد۔ میری ہفتے میں کل تین چار کلا سیں ہوتی تھیں‘ وقت کاٹنا مشکل تھا۔ ایک دن میں اپنے برآمدے میں بیٹھا تھا۔ دیکھا کہ سارے مصری اساتذہ جو شعبہ فنون کے مختلف مضامین پڑھاتے تھے‘ سوٹ پہنے اور بن سنور کر کہیں جا رہے ہیں‘عربی کے استاد فیاض صاحب سے میں عربی پڑھتا تھا۔ میں نے پوچھا ’’پروفیسر فیاض! کہاں جا رہے ہیں؟‘‘ انھوں نے کہا ’’آیئے! آپ بھی چلئے۔‘‘ میں نے اپنا کوٹ پہنا اور ساتھ ہو لیا‘وہ جہاں ہم پہنچے‘ ایک سادہ سا مکان تھا‘ اس کی گھنٹی بجائی‘ دروازہ کھلا تو دیکھا کہ کرنل قذافی کھڑے ہیں۔ میں نے دل میں سوچا کہ ان لوگوں نے پہلے سے ملاقات کا وقت اور مقام طے کیا ہوگا‘ مجھے خواہ مخواہ لے آئے ہیں۔ میں نے چپکے سے کھسکنا چاہا ‘کرنل قذافی نے مجھے دیکھ لیا اور بولے ’’آپ میرے مہمان ہیں‘ کہا ں چلے؟ اندر آؤ۔‘‘ میں سب کے ساتھ اندر چلا گیا۔ اندر سے مکان ویسا ہی تھا جیسے لیبیا میں عام مکانات ہوتے ہیں۔جاری ہے ۔

یعنی چاروں طرف صرف قالین ہی قالین اور کوئی سازو سامان نہیں البتہ بیٹھک میں قالین پر تکیے لگے ہوئے تھے۔ لوگ چار چار‘ چھ چھ کی ٹولیوں میں بٹ گئے اور باتیں شروع ہو گئیں۔ عرب آپس میں باتیں کر تے ہیں۔ تھوڑی دیر میں قذافی صاحب اٹھ کر گئے اور دستی تولئے کا ایک بنڈل لے آئے اور سب کو ایک ایک پھینک دیا‘ سب ان کو لپیٹ لپیٹ کر چوہے بنانے لگے۔ اتنے میں قذافی صاحب ایک آفتابہ اور ایک سلفچی لے کر آئے اور باری باری سب کا ہاتھ دھلانے لگے۔ مجھے چونکہ عربی کم آتی تھی‘ اس لئے میں جملہ سوچ سوچ کر بنانے لگا کہ میرے پاس آئیں گےتو کیا یہ کہوں گا۔ خیر‘ جب وہ میرے سامنے آفتابہ لے کر آئے تومیں نے کہا ’’یا اخی (اے میرے بھائی!(وہاں کرنل قذافی کو مخاطب کرنے کا یہی طریقہ ہے )پہلے ہمارے ہاں بھی یہی رواج تھا۔ غسل خانہ ساتھ ہی ہے اگر آپ اجازت دیں تو اپنے ہاتھ دھو لوں۔‘‘انھوں نے کہا‘ ’’نہیں! آپ میرے مہمان ہیں اور میرا فرض ہے کہ آپ کا ہاتھ دھلاؤں۔‘‘ میری عربی ختم ہو گئی۔ میں ان سے بحث تو کرنے سے رہا۔ انہوں نے میرا ہاتھ دھلایا اور آگے بڑھ گئے۔ میں نے اپنے دستی تولیے سے ہاتھ پونچھا۔ اس کے بعد کرنل قذافی اندر سے ایک بڑے طشت میں کھانا لے کر آئے‘ ساتھ میں چھوٹی چھوٹی کٹوریوں میں زیتون‘ کٹی ہوئی پیاز اور دوسرے لوازم بھی۔ سب لوگ ساتھ مل کر اسی طشت سے کھانے لگے ‘اتنے میں کرنل قذافی کے ہاتھ ایک اچھی بوٹی آئی جو انہوں نے ہاتھ بڑھا کرمیرے منہ میں ڈال دی۔ میں نے گھبرا کر پروفیسر فیاض سے پوچھا ’’ یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ انہوں نے چپکے سے کہا ’’چوں کہ آپ واحدغیر عرب ہیں‘ اس لئے آپ مہمان خصوصی ہیں‘ مہمان خصوصی ہونے کے ناتے جو بھی سلوک کیا جائے۔جاری ہے ۔

برداشت کیجئے۔‘‘ خدا خدا کر کے کھانا ختم ہوا۔ کرنل قذافی نے برتن اندر پہنچائے اور ایک بار پھر آفتابہ اورسلفچی لے کر ہاتھ دھلانے لگے۔ اب کی بار صابن کی ایک چھوٹی سے بٹی بھی تھی۔ ہاتھ دھلانے کے بعد وہ چائے اور قہوہ لے آئے پھر کچھ پھل بھی لے کر آگئے۔ غرض لذتِ کام و دہن کا ایک سلسلہ تھا۔ اصل میں کرنل قذافی نے ایک قانون بنایا کہ کوئی لیبیائی باشندہ کسی دوسرے باشندے کو ملازم نہیں رکھ سکتا۔ اگر کسی کو دکان میں مدد چاہیے ہو گیتو وہ اس کا شریک ہو گا‘ ملازم نہیں۔ ان کا نعرہ تھا :’’شرکا لا جرہ‘‘۔ اس پر سب سے پہلے کرنل قذافی نے خود عمل کیا‘ ان کے گھر میں کوئی ملازم نہیں تھا‘ کوئی ڈرائیور نہیں تھا‘ وہ اپنی گاڑی خود چلاتے تھے۔ ان کی بیوی گھر کا کھانا خود پکاتی تھیں اور خود صفائی کرتی تھیں۔ خیر‘ دعوت ختم ہوئی اور دروازے پر کرنل قذافی سب کو خدا حافظ کہنے لگے۔ جب میری باری آئی توانہوں نے پوچھا ’’ آپ کو کوئی شکایت ہو تو ابھی بتایئے تا کہ فوراََ رفع کر دوں۔‘‘ یہ سننا تھا کہ سارے اساتذہ اشارہ کرنے لگے کہ کچھ شکایت نہ کرنا۔ میں نے دل میں سوچا کہ میں تو ضرور شکایت کروں گا چنانچہ میں نے کہا ’’ہاں! جب ہم طرابلس کے ہوائی اڈے پر اترے تو کسٹم والوں نے ہمارا سامان کھلوایا اور جس جس کے سامان میں قرآن شریف تھا وہ نہ صرف ضبط کر لیا بلکہ نعوذباللہ اٹھا اٹھا کر ایک کونے میں پھینک دیا۔مسافروں میں ایک واویلا مچا ہو اتھا کہ کس کافر ملک میں آ گئے کہ قرآنِ شریف کی بے حرمتی کر رہے ہیں۔۔جاری ہے ۔

یہ کیا قصہ تھا؟ ’’کرنل قذافی نے کہا ’’ہاں! اصل میں آپ کے وزیر مذہبی امور مولانا کوثر نیازی کا بیان اخباروں میں چھپا تھا کہ پاکستان میں اغلاط سے پاک قرآ ن کی طباعت کی جائے گی‘‘۔ کرنل قذافی نے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’ہم مسلمان ہیں۔ ہمارے نزدیک قرآن میں غلطی کا امکان نہیں ہے مگر جب آپ کے وزیر مذہبی امور نے یہ بیان دیا تو یہ امکان پیدا ہو گیا کہ پاکستان میں قرآن غلطی سے پاک نہیں ہے اس امکان کی وجہ سے میں نے خود یہ حکم دیا تھا کہ پاکستان سے جو بھی قرآن آئے اسے ضبط کر لو۔‘‘ اچھا! آپ کا قرآن کا نسخہ ضبط ہو گیا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اندر گئے اور ایک نہایت خوب صورت مجلد قرآن کا نسخہ سرخ مرا کو چمڑے میں لے کر آئے اور مجھے پکڑاتے ہوئے بولے ’’اس میں عبداللہ یوسف علی کا انگریزی ترجمہ بھی خوب ہے۔‘‘ وہ قرآن میرے پاس آج تک محفوظ ہے۔ عبداللہ یوسف علی کا ترجمہ واقعی رواں انگریزی میں ہے۔