حضرت جبرائیل ؑ کا انتقال؟ایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا

ایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا: کیا اپنے وقت کو ضائع کرتے پھر رہے ہو۔ دن میں پانچ پانچ بار نمازیں پڑھتے ہو اور وہ بھی رکوع، قیام اور سجدوں کی مشقت کے ساتھ۔ مہینہ بھر روزے رکھتے ہو، خنزیر کے گوشت کے پاس نہیں جاتے،زندگی کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ تقویٰ کے یہ معیار تو نہیں ہوا کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ساتھمیں یہ عیسائی مبلغ یہ بھی کہتا کہ جب اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں آنے کا رادہ کرو تو بس اتنا سا عقیدہ بنا لینا کہ اللہ نے اپنا اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور پھر خود اللہ اسی بیٹے کے روپ میں زمین پر تشریف لائے اور تیری خطاؤں کیلئے جان دیکر تم کو بچا گئے۔ بس اسی پر ایمان لاؤ اور جنت تیری ہو گئی۔عیسائی مبلغ کا روز آ کر ایک جیسی باتیں کرنا اس مسلمان عالم کیلئے۔جاری ہے ۔

اچھا خاصا تکلیف کا باعث بنتا تھا، مروت میں برداشت کرنا تو علیحدہ بات تھی مگر اب اس تکرار سے کیسے جان چھڑائی جائے پر سوچتے رہنا مسلمان عالم دین کا مسئلہ بن چکا تھا، اور پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان عالم کو اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہدایت دیدی۔مسلمان عالم نے اپنے ماتحت ملازم کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ کل جب یہ عیسائی میرے پاس آئے تو تم غمگین سی شکل بنا کر میرے پاس آنا اور میرے کان میں کچھ کہہ کر چلے جانا۔دوسرے دن ایسا ہی ہوا کہ جب یہ عیسائی مبلغ آیا اور حسب معمول اپنی لگی بندھی گفتگو شروع کی تو وہ ملازم اداس اور رونی سی شکل بنائےآیا اور مسلمان عالم کے کان میں جیسے ہی کچھ کہا تو عالم نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال سے گھبرا کر عیسائی نے جاننا چاہا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔اس نے ہمت کر کے مسلمان سے پوچھا؛ اے شیخ کیا ہوا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا۔عیسائی نے کہا؛ حضرت صبر کیجیئے اور کچھ تو بتائیے ماجرا کیا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں نہیں بتا سکتا کہ اتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ (اور شیخ صاحب واقعی رو رو کر بے حال ہوتے جا رہے تھے)بالآخر عیسائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا؛شیخ جی، مجھے کچھ تو بتائیے، اس طرح تو میرے اعصاب بھی جواب دیتے جا رہے ہیں، مجھے کچھ تو پتہ چلے!۔شیخ صاحب گویا ہوئے؛ ابھی ابھی میرے پاس یہ اندوہناک خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام انتقال کر گئے ہیں۔عیسائی عالم نے ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے مسلمان عالم کی طرف تسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا اور کہا؛ کیا احمق انسان ہو تم۔ کیا۔جاری ہے ۔

فرشتے بھی کبھی مرا کرتے ہیں؟مسلمان شیخ نے عیسائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فرشتے نہیں مرا کرتے تو تم فرشتوں کے رب کے بارے میں کیسے کہہ دیتے ہو ہو کہ وہ مر گیا ہے۔(کہتے ہو کہ وہ ہمارا رب ہے مگر عقیدہ یہ رکھتے ہو کہ یہود نے اس کو قتل کردیا تھا اور صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ )بس اتنا سنا تھا کہ عیسائی کی بولتی بند ہوگایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا: کیا اپنے وقت کو ضائع کرتے پھر رہے ہو۔ دن میں پانچ پانچ بار نمازیں پڑھتے ہو اور وہ بھی رکوع، قیام اور سجدوں کی مشقت کے ساتھ۔ مہینہ بھر روزے رکھتے ہو، خنزیر کے گوشت کے پاس نہیں جاتے،زندگی کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ تقویٰ کے یہ معیار تو نہیں ہوا کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ساتھمیں یہ عیسائی مبلغ یہ بھی کہتا کہ جب اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں آنے کا رادہ کرو تو بس اتنا سا عقیدہ بنا لینا کہ اللہ نے اپنا اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور پھر خود اللہ اسی بیٹے کے روپ میں زمین پر تشریف لائے اور تیری خطاؤں کیلئے جان دیکر تم کو بچا گئے۔ بس اسی پر ایمان لاؤ۔جاری ہے ۔

اور جنت تیری ہو گئی۔عیسائی مبلغ کا روز آ کر ایک جیسی باتیں کرنا اس مسلمان عالم کیلئے اچھا خاصا تکلیف کا باعث بنتا تھا، مروت میں برداشت کرنا تو علیحدہ بات تھی مگر اب اس تکرار سے کیسے جان چھڑائی جائے پر سوچتے رہنا مسلمان عالم دین کا مسئلہ بن چکا تھا، اور پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان عالم کو اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہدایت دیدی۔مسلمان عالم نے اپنے ماتحت ملازم کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ کل جب یہ عیسائی میرے پاس آئے تو تم غمگین سی شکل بنا کر میرے پاس آنا اور میرے کان میں کچھ کہہ کر چلے جانا۔دوسرے دن ایسا ہی ہوا کہ جب یہ عیسائی مبلغ آیا اور حسب معمول اپنی لگی بندھی گفتگو شروع کی تو وہ ملازم اداس اور رونی سی شکل بنائےآیا اور مسلمان عالم کے کان میں جیسے ہی کچھ کہا تو عالم نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال سے گھبرا کر عیسائی نے جاننا چاہا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔اس نے ہمت کر کے مسلمان سے پوچھا؛ اے شیخ کیا ہوا ہے۔۔جاری ہے ۔

مسلمان نے کہا؛ میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا۔عیسائی نے کہا؛ حضرت صبر کیجیئے اور کچھ تو بتائیے ماجرا کیا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں نہیں بتا سکتا کہ اتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ (اور شیخ صاحب واقعی رو رو کر بے حال ہوتے جا رہے تھے)بالآخر عیسائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا؛شیخ جی، مجھے کچھ تو بتائیے، اس طرح تو میرے اعصاب بھی جواب دیتے جا رہے ہیں، مجھے کچھ تو پتہ چلے!۔شیخ صاحب گویا ہوئے؛ ابھی ابھی میرے پاس یہ اندوہناک خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام انتقال کر گئے ہیں۔عیسائی عالم نے ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے مسلمان عالم کی طرف تسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا اور کہا؛ کیا احمق انسان ہو تم۔ کیا فرشتے بھی کبھی مرا کرتے ہیں؟مسلمان شیخ نے عیسائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فرشتے نہیں مرا کرتے تو تم فرشتوں کے رب کے بارے میں کیسے کہہ دیتے ہو ہو کہ وہ مر گیا ہے۔(کہتے ہو کہ وہ ہمارا رب ہے مگر عقیدہ یہ رکھتے ہو کہ یہود نے اس کو قتل کردیا تھا اور صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ )بس اتنا سنا تھا کہ عیسائی کی بولتی بند ہوگایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا: کیا اپنے وقت کو ضائع کرتے پھر رہے ہو۔ دن میں پانچ پانچ بار نمازیں پڑھتے ہو اور وہ بھی رکوع، قیام اور سجدوں کی مشقت کے ساتھ۔ مہینہ بھر روزے رکھتے ہو، خنزیر کے گوشت کے پاس نہیں جاتے،زندگی کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ تقویٰ کے یہ معیار تو نہیں ہوا کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ساتھمیں یہ عیسائی مبلغ یہ بھی کہتا کہ جب اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں آنے کا رادہ کرو تو بس اتنا سا عقیدہ بنا لینا کہ اللہ نے اپنا اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور پھر خود اللہ اسی بیٹے کے روپ میں زمین پر تشریف لائے اور تیری خطاؤں کیلئے جان دیکر تم کو بچا گئے۔ بس اسی پر ایمان لاؤ اور جنت تیری ہو گئی۔عیسائی مبلغ کا روز آ کر ایک جیسی باتیں کرنا اس مسلمان عالم کیلئے اچھا خاصا تکلیف کا باعث بنتا تھا،۔جاری ہے ۔

مروت میں برداشت کرنا تو علیحدہ بات تھی مگر اب اس تکرار سے کیسے جان چھڑائی جائے پر سوچتے رہنا مسلمان عالم دین کا مسئلہ بن چکا تھا، اور پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان عالم کو اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہدایت دیدی۔مسلمان عالم نے اپنے ماتحت ملازم کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ کل جب یہ عیسائی میرے پاس آئے تو تم غمگین سی شکل بنا کر میرے پاس آنا اور میرے کان میں کچھ کہہ کر چلے جانا۔دوسرے دن ایسا ہی ہوا کہ جب یہ عیسائی مبلغ آیا اور حسب معمول اپنی لگی بندھی گفتگو شروع کی تو وہ ملازم اداس اور رونی سی شکل بنائےآیا اور مسلمان عالم کے کان میں جیسے ہی کچھ کہا تو عالم نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال سے گھبرا کر عیسائی نے جاننا چاہا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔اس نے ہمت کر کے مسلمان سے پوچھا؛ اے شیخ کیا ہوا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا۔عیسائی نے کہا؛ حضرت صبر کیجیئے اور کچھ تو بتائیے ماجرا کیا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں نہیں بتا سکتا کہ اتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ (اور شیخ صاحب واقعی رو رو کر بے حال ہوتے جا رہے تھے)بالآخر عیسائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا؛شیخ جی، مجھے کچھ تو بتائیے، اس طرح تو میرے اعصاب بھی جواب دیتے جا رہے ہیں، مجھے کچھ تو پتہ چلے!۔شیخ صاحب گویا ہوئے؛ ابھی ابھی میرے پاس یہ اندوہناک خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام انتقال کر گئے ہیں۔عیسائی عالم نے ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے مسلمان عالم کی طرف تسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا اور کہا؛ کیا احمق انسان ہو تم۔ کیا فرشتے بھی کبھی مرا کرتے ہیں؟مسلمان شیخ نے عیسائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فرشتے نہیں مرا کرتے تو تم فرشتوں کے رب کے بارے میں کیسے کہہ دیتے ہو ہو کہ وہ مر گیا ہے۔(کہتے ہو کہ وہ ہمارا رب ہے مگر عقیدہ یہ رکھتے ہو کہ یہود نے اس کو قتل کردیا تھا اور صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ )۔جاری ہے ۔

بس اتنا سنا تھا کہ عیسائی کی بولتی بند ہوگایک عیسائی مبلغ روزانہ ایک مسلمان عالم دین کے پاس جاتا اور اُسے دین اسلام چھوڑ کرعیسائیت اختیار کرنے کی دعوت دیتا۔ یہ عیسائی مبلغ روزانہ لگ بھگ ایک جیسی باتوں کو اس مسلمان عالم کے سامنے دہراتا۔عیسائی مبلغ کہتا: کیا اپنے وقت کو ضائع کرتے پھر رہے ہو۔ دن میں پانچ پانچ بار نمازیں پڑھتے ہو اور وہ بھی رکوع، قیام اور سجدوں کی مشقت کے ساتھ۔ مہینہ بھر روزے رکھتے ہو، خنزیر کے گوشت کے پاس نہیں جاتے،زندگی کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا ہے۔ تقویٰ کے یہ معیار تو نہیں ہوا کرتے۔ وغیرہ وغیرہ۔ساتھمیں یہ عیسائی مبلغ یہ بھی کہتا کہ جب اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت میں آنے کا رادہ کرو تو بس اتنا سا عقیدہ بنا لینا کہ اللہ نے اپنا اکلوتے بیٹے کو دنیا میں بھیجا اور پھر خود اللہ اسی بیٹے کے روپ میں زمین پر تشریف لائے اور تیری خطاؤں کیلئے جان دیکر تم کو بچا گئے۔ بس اسی پر ایمان لاؤ اور جنت تیری ہو گئی۔عیسائی مبلغ کا روز آ کر ایک جیسی باتیں کرنا اس مسلمان عالم کیلئے اچھا خاصا تکلیف کا باعث بنتا تھا، مروت میں برداشت کرنا تو علیحدہ بات تھی مگر اب اس تکرار سے کیسے جان چھڑائی جائے پر سوچتے رہنا مسلمان عالم دین کا مسئلہ بن چکا تھا،۔جاری ہے ۔

اور پھر ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس مسلمان عالم کو اس مصیبت سے جان چھڑانے کیلئے ہدایت دیدی۔مسلمان عالم نے اپنے ماتحت ملازم کو بلایا اور اسے سمجھایا کہ کل جب یہ عیسائی میرے پاس آئے تو تم غمگین سی شکل بنا کر میرے پاس آنا اور میرے کان میں کچھ کہہ کر چلے جانا۔دوسرے دن ایسا ہی ہوا کہ جب یہ عیسائی مبلغ آیا اور حسب معمول اپنی لگی بندھی گفتگو شروع کی تو وہ ملازم اداس اور رونی سی شکل بنائےآیا اور مسلمان عالم کے کان میں جیسے ہی کچھ کہا تو عالم نے بے تحاشہ رونا شروع کر دیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال سے گھبرا کر عیسائی نے جاننا چاہا کہ آخر کیا ماجرا ہے۔اس نے ہمت کر کے مسلمان سے پوچھا؛ اے شیخ کیا ہوا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں فی الحال بات نہیں کرنا چاہتا۔عیسائی نے کہا؛ حضرت صبر کیجیئے اور کچھ تو بتائیے ماجرا کیا ہے۔ مسلمان نے کہا؛ میں نہیں بتا سکتا کہ اتنی بڑی مصیبت ٹوٹ پڑی ہے۔ (اور شیخ صاحب واقعی رو رو کر بے حال ہوتے جا رہے تھے)بالآخر عیسائی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے کہا؛شیخ جی، مجھے کچھ تو بتائیے، اس طرح تو میرے اعصاب بھی جواب دیتے جا رہے ہیں،۔جاری ہے ۔

مجھے کچھ تو پتہ چلے!۔شیخ صاحب گویا ہوئے؛ ابھی ابھی میرے پاس یہ اندوہناک خبر پہنچی ہے کہ حضرت جبریل علیہ السلام انتقال کر گئے ہیں۔عیسائی عالم نے ایک زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے مسلمان عالم کی طرف تسخر اڑاتی نظروں سے دیکھا اور کہا؛ کیا احمق انسان ہو تم۔ کیا فرشتے بھی کبھی مرا کرتے ہیں؟مسلمان شیخ نے عیسائی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر فرشتے نہیں مرا کرتے تو تم فرشتوں کے رب کے بارے میں کیسے کہہ دیتے ہو ہو کہ وہ مر گیا ہے۔(کہتے ہو کہ وہ ہمارا رب ہے مگر عقیدہ یہ رکھتے ہو کہ یہود نے اس کو قتل کردیا تھا اور صلیب پر چڑھا دیا تھا۔ )بس اتنا سنا تھا کہ عیسائی کی بولتی بند ہوگ