پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کریں

جاپانی سب سے زیادہ عزت پاکستانیوں کی کرتے ہیں, بزنس کمیونٹی میں بھی وہاں پاکستانی تاجروں کو خاص اہمیت دی جاتی ہے,پاکستانی تاجر وہاں استعمال شدہ گاڑیوں کے سب بڑے خریدار ہیں اور ان کی بہت بہترین ساکھ ہے اس کاروبار میں, ہر نیلامی میں پاکستانی شامل ہوتے ہیں اور پاکستانیوں بغیر زر ضمانت بولی میں حصہ لینے کی اجازت ہے کیونکہ پاکستانی زبان کے پکے مانے جاتے ہیں,جب جاپان میں سونامی آیا۔ دنیا کے ہر ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک نے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا۔یہاں تک کہ بنگلہ دیش نے بھی دو جہاز بھیجے اوردو جہاز بھیجے اور اپنے شہریوں کو لے گیا‘۔جاری ہے ۔

لیکن آفت کی اس گھڑی میں پاکستانی وہ واحد قوم تھی جو تھویاما کے برف پوش علاقوں اور ٹوکیو کی گنجان آباد بستیوں سے دیوانہ وار سامانِ خورو نوش لے کر سونامی کے علاقوں میں جا پہنچے۔ جاپانی گرم گرم کھانا پسند کرتے ہیں۔ وہ حیران رہ گئے‘ یہ کیسی قوم ہے‘ اپنے ساتھ کھانا پکانے کا سامان لے کر آئی ہے اور ہمیں گرم گرم کھانا پکا کر کھلا رہی ہے!!وہ جگہیں جہاں ان کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ ہوا تھا اور جاپانی بھی تابکاری کے ڈر سے نہیں جاتے تھے‘۔جاری ہے ۔

پاکستانی وہاں بھی جا پہنچے۔ حیرت کی بات یہ کہ یہ لوگ جب وہاں گئے تو ان میں کوئی کسی جماعت یا مذہبی گروہ کا علمبردار بن کر نہیں بلکہ پاکستانی بن کر گیا۔جاپان کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار پاکستانیوں کے کیمپوں میں جا کر تصویریں بناتے کیونکہ ”این ایچ کے‘‘ نے پاکستانیوں پر سونامی کے سلسلے میں امدادی کارروائیوں پر ڈاکومنٹری بنائی تھی۔ جس رات یہ ڈاکومنٹری چلی‘ پاکستانی بتاتے ہیں۔جاری ہے ۔

کہ اگلے روز ان کے جاپانی دوست اور ساتھ کام کرنے والے انہیں دیکھتے ہی جھک جاتے‘ آنکھ میں آنسو بھر لاتے اور صرف اتنا کہتے یہ قوم آپ کا شکریہ کیسے ادا کرے گی!!ملعون سلمان رشدی کی گستاخانہ کتاب کا ترجمہ جاپان کی ایک پروفیسر نے کیا، اس کی تقریب رونمائی تھی۔ چند پاکستانی اس تقریب میں گئے اور کہا کہ اس کتاب سے ہمارے اور پوری امت مسلمہ کے دل دکھے ہیں۔ پولیس نے نہ صرف اس تقریب کو روکا بلکہ جاپان کے تمام بک سٹالوں سے وہ کتاب اٹھا دی۔ آج بھی وہ پاکستانیوں سے یہ سوال ضرور پوچھتے ہیں کہ وہ کتاب کہیں نظر تو نہیں آئی؟

کیٹاگری میں : Viral