مرد اور عورت کا فطری دائرہ عمل

جذاباتی اعتبار سے مرد اور عورت می یں بڑا فرق پایا جاتا ہے مرد کو اپنےفطری وظائف کی تکمیل کیلئے زیادہ تنگ و درکرنی پڑتی ہے تاکہ مادی زندگی کی ذمی داریاں بدر جہا بہتر پوری کرسکے عورت اپنی مخصوص ذمہ داریوں کے لیے فطری طورپر موزوں بنائی گئی ہے تاکہ وہ گھر یلوزندگی بچوں کی بگہداشت اورتربیت کا اہم فرض انجام دے سکے یہ ہردو اپنے اپنے دائرہ عمل ہی میں اپنے فرائض بہ حسن و خوبی انجام دے سکتے ہیں اس دائرہ عمل کے فرق کی وجہ سے ایک کو دوسرے پر نہ فوقیت حاصل ہے۔جاری ہے ۔

اور نہ وہ ایک دوسرے سے کم رتر ہیں معمولا وہ نہ ایک دوسرے کے فرائض کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں اور نہ گھرانے اور معاشرہ کو نقصان پہنچائے بغیر ذمہ داریوں کا تبادلہ کرسکتے ہیں یہ اپنے اپنے دائرہ عمل کے ذمہ دار ہیں عورت اپنے گھرانے کی ملکہ اور مرد اپنے تمدن کا ہیرورہ کر ہی معاشرہ کو پروان چڑھاسکتے ہیں یہ دونوں باہمی فرض رفاقت اور زوجیت کو پورا کرکے بالو اسطہ ایک دوسرے کے دائرہ عمل اور صلاحیتوں میں اضافہ کرسکتے ہیں ایسے تعاون عمل ہی نوع انسانی اور ارتقائے تمدن کا باسی رہنا ممکن ہوتا ہے ۔مولانا ابوالاعلیٰ مودری اپنی تصنیف پردہ میں فرماتے ہیں یہ وہ تقسیم عمل ہے جو خود فطرت نے انسان کی دونوں صنفوں کے درمیاں کردی ہے حیاتیات عضویات نفسیات اور عمرانیات کے تمام علوم اس تقسیم کی طرف اشادہ کررہے ہیں۔جاری ہے ۔

بچہ جننے اور پالنے کی خدمت کا عورت کے سپرد ہونا ایک ایسی فصیلہ کن حقیقت ہے جو خود نخود انسانی تمدن میں اس کے لیے ایک دائرہ عمل مضصوص کر دیتی ہے اور کسی مصنوعی تدبیر میں یہ طاقت نہیں کہ فطرت کے اس فیصلہ کو بدل سکے ۔۔اسلام نے مرد اور عورت کے دائرہ عمل کا تعین کرکے مرد کو چند ذمہ داریاں تقویض کی ہیں ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اس کے حقوق بھی گنادئیے ہیں گھریلواور معاشرتی نظام کوبدر جہا بہترجاری رکھنے کے لیے اس کو کچھ اختیارات بھی دے دئیے ہیں زوجین کے درمیان ان ذمہ داریوں حقوق اور اختیارات کے تعلق سے مسلسل عمل اور ردعمل ہوتا رہتا ہے چونکہ کوئی دوانسان یکسان پیدا نہیں ہوئے اس لئے باہمی تعلقات میں کسی نہ کسی نوعیت کا اختلاف قرین عقل ہے گھریلو زندگی اور معاشرہ کو ممکنہ حد تک متوازن رکھنے کے لیے۔جاری ہے ۔

ایک دوسرے کو احترم اور ایثار پسندی کی تلقین کی گئی ہے ماضی میں گھرانہ کا ماحول اس تلقین اور تربیت کے لیے سازگار تھا مگر دور حاضر میں عورت کی بڑھتی ہوئی انفرادیت اورمعاشی خودمختاری کی کشمکش نے اس تعلق کر درہم برہم کردیا ہے اس لئے زیادہ ضروری ہوگیا کہ ہم تعلیمات اسلامی کا بغور مطالعہ کریں اور فیصلہ کریں کہ ہم اپنی شخصی گھریلو اور معاشرتی زندگی میں اسلامی اصولوں سے استفادہ کرسکتے ہیں یا نہیں