مردانہ جسم فروشی – ایک پیشہ ور عورت اگر پیسہ وصول کرتی ہے تو اسکے بدلے کچھ دیتی بھی ہےلیکن ایک مردجب

ایک پیشہ ور عورت اگر پیسہ وصول کرتی ہے تو اسکے بدلے کچھ دیتی بھی ہے۔ لیکن ایک مرد جب جوڑا جہیز وغیرہ کی صورت میںوصول کرتا ہے تو دیکھنا یہ ہے کہ وہ اسکے بدلے کیا دے گا؟ لڑکی کے باپ سے کیا وہ یہ مطالبہ نہیں کررہا ہے کہ :میں آپ کے نواسے نواسی پیدا کروں گا مجھے پلنگ بستر دیجئے۔میں آپ کی بیٹی کو کما کر کھلاوں گا مجھے ویزا یا نقد رقم دیجئے ۔میں اپنے گھر میں اُسے رہنے کی جگہ دوں گا ۔فریج ، ٹی وی ، فرنیچر وغیرہ دیجئےمیں آپ کی بیٹی کو بِٹھاکر گھماؤں گا گاڑی دیجیے۔یہ مردانگی کی قیمت کس طرح ہے ؟ اس کا اندازہ تقریباً تیس سال پرانے اس واقعہ سے لگائیے کہ ایک شخص جو رکشا کھینچتا تھا ، اس نے ایک بنڈی پر میوہ فروخت کرنے والے کی لڑکی کے لیے رشتہ بھیجا اور دو ہزار روپئے نقد مانگے ۔ ہم نے اس سے وجہ پوچھی تو کہنے لگا :۔جاری ہے،


” اگر میں ڈاکٹر یا انجینئر ہوتا تو کیا آپ مجھے دو لاکھ نہیں دیتے ؟ اگر وہ مرد ہے تو کیا میں مرد نہیں ہوں ؟ “۔گویا مرد ہونا بھی غلط عورت کے پیشے کی طرح ہے ، عورت کی عمر اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ جس طرح اس کی قیمت بڑھتی ہے اسی طرح مرد کی صلاحیت اور ڈگری کے ساتھ ساتھ اس کی قیمت بڑھتی ہے۔ کسی بھی مشاطہ یا پیام لگانے والے ایجنٹ سے ملئے وہ بلا شرم و جھجک بتا دیتے ہیں کہ کس صلاحیت کے لڑکے کو کتنا آفر مل سکتا ہے ؟گائے بھینس کے کاروبار میں یہ ہوتا ہیکہ اگر کوئی بیل یا سانڈ خریدنے کا خواشمند ہے تو اُسے یا تو نقد رقم دینی پڑتی ہے یا پھر ایک گائے یا بھینس کے ساتھ بدل Exchange کرنا پڑتا ہے لیکن گائے کے بدلے بیل یا بھینس کے بدلے سانڈ نہیں لیا جاسکتا بلکہ گائے یا بھینس کے ساتھ ساتھ کچھ نقد رقم بھی دینی پڑتی ہے۔شادیوں کے کاروبار میں بھی یہی ہوتاہے۔ جب کوئی لڑکی دے کر داماد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُسے لڑکی کے ساتھ بہت ساری نقد رقم اور جہیز بھی دینا پڑتا ہے۔بالفاظِ دیگر اس دور کا مرد بھی سانڈ یا بیل کیطرح کا بکاؤ جانور ہے۔۔۔جاری ہے،

کتنی بے حسی پیدا کرنے والا ہے یہ چلن کہ ایک لڑکی اپنا پیدائشی گھر ، سنسار ، ماں باپ ، بہن بھائی سب کو چھوڑ کر عمر بھر کے لیے آ رہی ہے۔ وہ ایک مہمان ہے بجائے اس کے کہ اس کے لیے گھر سنوارا جائے ، سارا ساز و سامان مہیا کیا جائے ، اسی سے یہ مطالبہ کریں کہ وہ اپنے ساتھ سب کچھ لے کر آئے ۔ حتی کہ بستر اور تکیہ بھی ، جب پہلی زچگی ہو تو وہ بھی اپنے ماں باپ کے خرچ پر بچہ جنم دے اور بچے کے ساتھ تحفے بھی لائے ۔نخروں کی حد یہ ہے کہ جب وہ سج دھج کر دلہا بنے تو شیروانی یا سوٹ بھی سسر کے پیسوں کا ہو۔۔جاری ہے،

اور مسجد اور پھر شادی خانے تک پہنچنے کے لیے سُسر اس کے لیے پھولوں سے سجی کار بھی بھیجے۔ یہ تمام نخرے ایک زمانے میں مجرا اور کاروبار کرنے والی حسیناؤں پر سجتے تھے اور راجے مہاراجے اور نواب ان کے نخرے اٹھاکر لطف لیتے تھے۔ لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ تہذیب بدل گئی ہے۔ اب یہ سب نخرے مرد ایک مہذب رواج کے نام پر کرتے ہیں)جس طرح پہلے ناچنے والے مردوں کو ہیجڑے یا ڈھویئے کہتے تھے لیکن آج یہ ترقی یافتہ ماڈرن فلم اسٹارز کہلاتے ہیں ۔ نئی نسل ان کی دی ہوئی تہذیب کو فخر کے ساتھ اپناتی ہے اسی طرح پہلے جو مردانگی کی شان تھی وہ اب جسم فروشی میں بدل گئی ہے۔ جتنا زیادہ مال سسر سے حاصل کیا جائے گا ،۔جاری ہے،

اتنی زیادہ سوسائٹی میں شان بڑھے گی اور جسے آج مردانگی کہلاتی ہے۔ آج مرد مانگتے نہیں بلکہ جسطرح راجے نواب طوائفوں پر خرچ کرکے خوش ہوتے ہیں آج کے لڑکی والے بھی دامادوں پر خرچ کرکے خوش ہوتے ہیں۔ شائد اسی لئے اگر کسی داماد پر کوئی خرچ نہ کرے تو داماد اور اس کے گھر والے ناراض بھی ہوجاتے ہیں (ابوماجد نصرالله)

کیٹاگری میں : Viral