ایک طوائف نے نبی پاک ﷺ کا کلمہ پڑھنے سے انکار کر دیا تو حضور پاک ﷺ نے اس کیساتھ کیا سلوک کیا کہ دنیا حیران رہ گئی

معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے اپنے خطاب میں کہاکہ نبی کریمﷺ کے دورمیں بڑے بڑے معجزے ہوئے لیکن منکروں نے جادوگرقراردیالیکن حضرت محمد ﷺ نے معاف کرکے دکھایا ہے، یوں اشارہ کیا چاند کے ٹکڑے ہوگئے،۔جاری ہے۔

ایک بکرے کی دستی پکائی، چالیس آدمیوں نے کھانا کھایا ایک بوٹی بھی کم نہیں ہوئی اسی طرح ہانڈی بھری ہوئی، چالیس آدمی کھانا کھاگئے لیکن پھر بھی انکار کیاگیا، ابوسفیان کلمہ طیبہ پڑھنے سے پہلے سب سے بڑے دشمن تھے لیکن مکہ داخل ہوتے ہی اعلان فرمایاکہجوابوسفیان اور بیت اللہ میں پناہ لے گا، اسے کچھ نہیں کہاجائے گا، یوں انکار کرنیوالوں کو بھی عزت دی جاتی رہی۔مولاناطارق جمیل نے کہاکہ زندگی کپڑے ، بنگلے یاگاڑی سے خوبصورت نہیں بنتی، میرے نبی ﷺ کے اخلاق سے بنے گی ، ایک مرتبہ مکہ سے سارہ نامی ایک طوائف مدینہ آئی اور حضورپاک ﷺ سے مخاطب ہوکر بولی کہ فاقوں سے مرگئی ہوں ،۔جاری ہے۔

میری مدد کریں ، حضور پاک ﷺ نے کلمہ پڑھنے کا پوچھا تو اس نے انکار کردیا جس کے بعد آنحضرت ﷺ نے اپنے خاندان کو ہدایت کی کہ اس عورت کی جی بھر کر مدد کریں ، دیگر لوگوں کو نہیں کہاتاکہ کسی کے ذہن میں یہ نہ آئے کہ ایک طوائف کی مدد کررہے ہیں ،یہ اخلاق کا اعلیٰ نمونہ تھا۔ اسی طرح جب آپﷺ آرام فرمارہے تھے توایک بدو نے آپ کی تلوار اٹھائی اور ٹانگ پر ماردی، آپ ﷺ اٹھ کر بیٹھ گئے ، اس کے ہاتھ میں تلوار سیدھی تھی،بدو نے پوچھاکہ اب آپ کو کون بچائے گا،۔جاری ہے۔

تو آپﷺ مسکرائے۔ آپﷺ نے کہا اللہ ۔ تو اس کا ہاتھ کانپا اور تلوار گرگئی، آپﷺ نے تلوار اٹھا کر سیدھی کی اور پوچھاکہ تجھے کون بچائے گا، اس نے کہا مجھے تو ہی بچائے گا۔ آپﷺ نے کہا کلمہ پڑھتے ہوئے ؟کہا نہیں پڑھتا، تو آپﷺ نے کہا جاﺅ معاف کیا۔مزید کیا کچھ معجزات ہوئے لیکن بدوﺅں نے ایمان لانے سے انکار کردیا،