بانجھ پن، وجوہات اور علاج

اگر بچہ پیدا نہ ہو تو ذمہ دار مرد یا عورت یا دونوں ہوسکتے ہیں یہ ممکن ہے کہ دونوں میں خرابی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ میاں بیوی ٹھیک ہوں مگر پھر بھی بچہ نہ ہو آج ایسے طریقے ہمارے علم میں ہیں۔جاری ہے۔


جن کی بدولت خرانی کی نوعیت معلوم کی جاسکتی ہے ان میں سے اکثر بیشتر قابل درستی بھی ہوتے ہیں بانجھ پن کا سب سے عام سبب نطفہ یا بیضہ کی عدم موجودگی خرابی ہے زندگی زندگی سے مخرج ہے نئی جان کی ابتدائ اسی وقت مکمن ہے جب کہ مردکا نطٖہ اور عورت کا بیضہ مناسب حالات میں باہم ایک دوسرے سے پیوست ہوں اسی عمل کو نطفہ قرار پانا کہا جاتا ہے اس عمل آوری میں متعددبے ربطگیاں اور حادثات پیش آسکتے ہیں خواہ مرد کی جانب سے ہوں یا عورت کی جانب سے مردکے تعلق سے خصیوں کی عدم موجودگی جہاں نطفہ پیدا ہوتا ہے دق اور امراض خبیثہ کی وجہ سے خصیوں کا اس طرح متاثر ہونا کہ تولید نطفہ یا تو سرے سے غائب ہو یا ناقص نطفے پیدا پورہے ہوں اعضائے تناسل کی بعض خرابیاں مثلا پیشاب کی نالی میں رکاقٹ بھی عام اسباب ہیں۔جاری ہے۔


ایسے بھی بدنصیب مرد ہیں جن کی صحت بظاہرعمدہ اور اوپر بیان کی گئی خوبیوں کی عدم موجودگی کے سبب منی میں نطفے حیوانات منویہ سرے سے غائب ہوتے ہیں اس کا علاج کسی ماہر طبیب سے کرانا ضروری ہے ایک صحت مندد مرد کے ایک مرتبہ کے انزال میں کئی کروڑ نطفے ہوتے ہیں ان کی مقررہ تعداد میں کمی یا معیاری حد تک جاندار نہ ہونا بھی بانجھ پن کے اسباب ہیں مگر یہ خامی یا خرابی اکثر قابل علاج ہوتی ہے عورت میں کم و بیش ۲۸ دن میں صرف دوبیضے خصیتہ الرحم میں تیار ہو کرنلوں میں داخل ہوتے ہیں ایسے وقت میں اگر حیوانات منویہ عورت کے فرج میں داخل ہوں تو حمل قرار پانا ممکن ہے بیضہ کے تیار ہوکر خارج ہونے کی تفصیلات آج سائنس کے علم میں ہیں اس علم کی بنیاد پر کئی باجنجھ عورتوں کی مدد کی جاسکتی ہے