نصرانی بادشاہ کے حضرت عمر سے عجیب و غریب سوالات پہلاسوال ایک ماں کے شکم سے دو بچے ایک دن ایک ہی وقت پیدا ہوئے پھر دونوں کا انتقال بھی ایک ہی دن ہوا ایک بائی کی عمر سوسال بڑی اور دوسرے کی سوسال چھوٹی ہوئی یہ کون تھے؟

ایک دفعہ ایک نصرانی راہب نے چند سوالات لکھ کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ان کے پاس بھیجے۔اور ان کے جوابات آسمانی کتابوں کی رو سے دینے کا مطالبہ کیا۔ سوالات درج ذیل ہیں:۔پہلا سوال: ایک ماں کے شکم سے دو بچے ایک ہی دن اور ایک ہی وقت پید اہوئے۔ پھر دونوں کا انتقال بھی ایک ہی دن ہوا۔ ایک بھائی کی عمر سو سال بڑی اور دوسرے کی سوسال چھوٹی تھی۔ یہ کون تھے؟ اور ایسا کس طرح ہوا؟دوسرا سوال: وہ کونسی زمین ہے کہ جہاں ابتدائے پیدائش سے قیامت تک صرف ایک دفعہ سورج کی کرنیں لگیں‘ نہ پہلے کبھی لگی تھیں نہ آئندہ کبھی لگیں گی۔؟تیسرا سوال: وہ کونسا قیدی ہے جس کی قید خانہ میں سانس لینے کی اجازت نہیں اور وہ بغیر سانس لیے زندہ رہتا ہے؟۔جاری ہے۔

چوتھا سوال: وہ کونسی قبر ہے جس کا مردہ بھی زندہ اور قبر بھی زندہ اور قبر اپنے مدفون کو سیر کراتی پھرتی تھی۔ پھر وہ مردہ قبر سے باہر نکل کر کچھ عرصہ زندہ رہ کر وفات پایا۔؟حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ ا بن عباس رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ ان سوالات کے جوابات لکھیں۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان تمام سوالات کے جوابات تحریر فرما کر اس نصرانی کو ارسال کردیئے ۔ اور مورخین لکھتے ہیں کہ ان سوالات کے جوابات پڑھ کر وہ نصرانی راہب مسلمان ہوگیا تھا۔آپ نے مندرجہ ذیل جوابات تحریر فرمائے۔پہلاجواب: جو دونوں بھائی ایک دن ایک ہی وقت پیدا ہوئے اور دونوں کی وفات بھی ایک ہی دن ہوئی اور ان کی عمر میں سو سال کا فرق۔ یہ بھائی حضرت عزیز علیہ السلام اور حضرت عزیر علیہ السلام تھے۔ یہ دونوں بھائی ایک دن ایک ہی وقت ماں کے بطن سے پیدا ہوئے ان دونوں کی وفات بھی ایک ہی دن ہوئی۔۔جاری ہے۔

لیکن بیچ میں حضرت عزیر علیہ السلام اللہ عزوجل کی قدرت کاملہ سے سو سال فوت رہے ۔جس کا تذکرہ میں پوری تفصیل سے کر چکا ہوں۔۔ سو سال فوت رہنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو دوبارہ زندہ فرمایا۔ سورہ آل عمران میں یہ ذکر موجود ہے۔ ”وہ گھر گئے پھر کچھ عرصہ مزید زندہ رہ کر رحلت فرمائی۔“ دونوں بھائیوں کی وفات بھی ایک دن ہوئی۔ اس لیے حضرت عزیز علیہ السلام کی عمر اپنے بھائی سے چھوٹی ہوئیاور حضرت عزیز علیہ السلام کی عمر سو سال زائد تھییدوسرا جواب: وہ زمین جہاں سورج کی کرنیں صرف ایک دفعہ چمکی تھیںں دریا کی وہ تہہ ہے جہاں فرعون مردود غرق ہوا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے معجزے سے دریا خشک ہوا تھا۔ حکم الٰہی سے سورج نے بہت جلد سکھایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام مع اپنی قوم بنی اسرائیل پار چلے گئے۔جاری ہے۔

اور جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو وہ غرق ہوگیا اس زمین پر سورج ایک دفعہ چمکا پھر قیامت تک اس جگہ سورج کی کرنیں نہیں پہنچیں گی ۔تیسرا جواب: جس قیدی کو قیدخانہ میں سانس لینے کی اجازت نہیں اور وہ بغیر سانس لیے زندہ رہتا ہے وہ بچہ ہے جو اپنی ماں کے شکم میں قید ہے۔ اللہ کریم نے اس کے سانس لینے کا ذکر نہیں کیا اور نہ وہ سانس لیتا ہے۔چوتھا جواب: وہ قبر جس کا مردہ بھی زندہ اور قبر بھی زندہ۔ وہ مردہ حضرت یونس علیہ السلام تھے اور ان کی قبر مچھلی تھی جو ان کو پیٹ میں رکھے جگہ جگہ پھرتی تھی یعنی سیر کراتی تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے حکم سے مچھلی کے پیٹ سے باہر آکر عرصہ تک حیات رہے پھر وفات پائی۔