جب میں چھوٹی تھی تو قاری صاحب مجھے پڑھانے آیا کرتے تھے، ایک دن میری والدہ گھر پر نہیں تھیں تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر

کہنے کو تو ہم ایک مشرقی و مسلم معاشرے میں رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے درمیان ایسے سیاہ کار بھی پائے جاتے ہیں کہ جن کی بدکاری شیطان کو بھی شرما دے۔ ایک ایسے ہی بھیڑیے کی حیوانیت کا احوال ایک نامعلوم لڑکی نے ویب سائٹ کو بھیجی گئی ایک تحریر میں کیا ہے۔ ہمارے معاشرے کے تاریک پہلوﺅں سے پردہ اٹھاتی یہ لرزہ خیز داستان کچھ یوں ہے:۔جاری ہے۔


”یہ میرے بچپن کی بات ہے جب میرے والدین کو بہت شوق تھا کہ ان کے بچے حافظ قرآن بنیں۔ انہوں نے مجھے اور میرے چھوٹے بھائی کو قرآن مجید کی تعلیم دلوانے کے لئے ایک قاری صاحب کا اہتمام کیا۔ ایک دن قاری صاحب نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا اور کہنے لگے ”تمہارے ناخن بہت بڑھ چکے ہیں انہیں کاٹ لو“ لیکن جس طرح انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اس سے مجھے بہت شرمندگی محسوس ہوئی۔ پھر ایک روز میرے والدین کہیں گئے ہوئے تھے اور چھوٹا بھائی بھی گھر سے باہر تھا کہ وہ واقعہ پیش آ گیا جس نے میری زندگی ہمیشہ کے لئے بدل دی۔۔جاری ہے۔


وہ قاری صاحب جن کے ذمہ مجھے دین کی تعلیم دینا تھا انہوں نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا اور میرے ساتھ یہ ظلم ایک بار نہیں چار بار کیا۔ میں 11 سال کی بچی تھی اور اس ظلم کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ مجھے اندرونی زخم آئے اور ایک ہفتے تک میں ہسپتال میں رہی۔ اس واقعہ پر میرے والد اس قدر شرمسار ہوئے کہ پانچ ماہ تک گھر سے غائب رہے۔ پھر جب وہ واپس آئے تو ان کا رویہ ایسا تھا گویا کہ یہ سب میری غلطی تھی۔ میری والدہ ہسپتال میں میرے ساتھ رہیں لیکن وہ بھی مجھے ہی کوستی رہیں۔
ہسپتال سے گھر منتقل ہونے کے بعد میں نے خود کو کمرے میں بند کرلیا اور دن رات روتی رہتی تھی۔ میں ہمیشہ کلاس میں اول آیا کرتی تھی لیکن اس سانحے کی وجہ سے میری کلاس میں میری تیرہویں پوزیشن آئی۔ میں نے دوبار خودکشی کی کوشش بھی کی۔ ایک روز سکول میں ایک طالب علم، جو کہ مجھ سے اگلی کلاس میں پڑھتا تھا، میرے پاس آیا اور مجھے ایک کونے میں بیٹھ کر روتے دیکھ کر پوچھا۔جاری ہے۔

کہ مجھے کیا مسئلہ درپیش تھا۔ اگرچہ میں نے لوگوں پر اعتماد کرنا چھوڑدیا تھا لیکن اس کی ہمدردانہ نگاہوں نے مجھے سب کچھ کہنے پر مجبور کردیا۔ وہ واحد شخص تھا جس نے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا ”صبر اور ہمت کرو، اللہ تعالیٰ ظالموں کو سزا ضرور دے گا۔“ اس دن کے بعد وہ میرا سہارا بن گیا اور ہر طرح سے میری مدد کرتا اور ہمت بندھاتا تھا۔ میٹرک کے بعد اس نے ایک پرائیویٹ کالج میں داخلہ لیا اور ایک سال بعد میں نے بھی اسی کالج میں داخلہ لے لیا۔ کالج کی تعلیم کے دوران ہی مجھے معلوم ہوا کہ میں ’پولی سسٹک اوورین سنڈروم‘ نامی بیماری کی شکار ہوچکی تھی۔ میری زندگی میں ایک اور بڑے دکھ کے اضافے کے باوجود میرا واحد دوست میرے ساتھ ہے۔۔جاری ہے۔

وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔ میں ہسپتال جاتی ہوں تو میرے پاس صرف وہی ہوتا ہے۔ اب وہ بزنس کی تعلیم حاصل کررہا ہے اور میں میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ ہوں۔ میں اگر اب تک زندگی کے مسائل سے لڑرہی ہوں تو یہ اسی کی مدد سے ممکن ہے۔ میں خدا سے صرف ایک ہی دعا کرتی ہوں کہ اس فرشتہ صفت شخص کا سہارا بھی مجھ سے چھن نہ جائے۔“

کیٹاگری میں : Viral