کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جانے کے لیے چند سیکنڈ درکار ہوتے ہیں، مگر وہ ایسا برسوں سے نہیں کرپارہا تھا۔ اس کا کمرا چھوٹا اور کاٹھ کباڑ سے اَٹا پڑا تھا۔ وہ سب چیزوں کو پھلانگنا چاہتاتھا

کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جانے کے لیے چند سیکنڈ درکار ہوتے ہیں، مگر وہ ایسا برسوں سے نہیں کرپارہا تھا۔ اس کا کمرا چھوٹا اور کاٹھ کباڑ سے اَٹا پڑا تھا۔ وہ سب چیزوں کو پھلانگنا چاہتاتھا، مگر جانتا تھا کہ ایسا نہیں کرسکے گا۔ ناکامی کا احساس لیے مایوسی اس کے وجود میں خود رو جھاڑیوں کی طرح پھیل کر اس کے رگ و پے کو جکڑ لیتی۔ درد کی شدت سے وہ چیخنا چاہتا،۔جاری ہے۔

مگر سوکھے کانٹوں نے اس کے حلقوم کو برسوں سے کسی سود خور کی طرح جکڑ رکھا تھا۔ ان تمام جکڑبندیوں میں صرف ایک ہی عمل ایسا تھا جو اپنے آزاد ہونے کا احساس دلاتا رہتا تھا۔ وہ سوچتا بہت تھا۔ جب خیال کی کوئی رو اس کے وجود میں پنپنے لگتی تو وہ خود بھی کوششوں کے باوجود اسے روک نہ پاتا۔ اور ایسا اس کے ساتھ اکثر ہوجایا کرتا۔ ادھورے وجود کے ساتھ بستر پر لیٹے اور چھت کو تکتے ہوئے اس کا دھیان کمرے کے باہر کی فضا کی طرف چلا جاتا تو پھر وہیں اٹک جاتا۔ سنائی دینے والی آوازوں کی بازگشت میں تصویر یں وجود پانے لگتیں۔ یہ تصویریں اُن آنکھوں دیکھی شہادتوں کا نتیجہ ہوتیں جو کبھی کبھار پلنگ کو دروازے کے قریب سرکادینے کی وجہ سے اس کے دماغ میں نقش ہوجایا کرتی تھیں۔ وہ سوچنے لگتا۔کمرے کے باہر مولوی صاحب کی پاٹ دار آواز آرہی ہے۔ وہ میرے دونوں بچوں کو قرآن پڑھا رہے ہوں گے۔ کاؤچ کے درمیان میں مولوی صاحب، ایک جانب میری بیٹی اور دوسری جانب میرا بیٹا بیٹھا ہوگا۔ بیٹی اگلے دو برس میں اتنی ہی بڑی ہوجائے گی جتنی بڑی لڑکی کی شادی پر نظریاتی کونسل کا چیئرمین زور دیتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ مولوی صاحب کا ایک ہاتھ اس وقت میری بیٹی کی ران پر ہوگا، اور وہ اسے یوں تھپک رہے ہوں گے جیسے ذاکر علی خان کا بایاں ہاتھ طبلے پر دھیرے دھیرے تال دیتا ہے۔۔جاری ہے۔

لیکن ذاکر علی خان کا دائیاں ہاتھ بڑے طبلے پر بھی تو متواتر چلتا ہے۔ مگر یہاں مولوی صاحب کا دایاں ہاتھ میرے بیٹے کی ران پر نہیں چلتا۔ میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مولوی homosexual نہیں ہے، ورنہ مساجد کے حجروں میں آئے دن ہونے والے واقعات کی طرح میرے بیٹے کا بھی شکار کرتا اور میں دیکھتا رہ جاتا۔ کیوں کہ یہ سب ہونے سے روکنے کے لیے مجھے کمرے کی دوسری دیوار تک جانا پڑے گا۔ اورمیں ایسا نہیں کرپاتا۔میں نے اپنی بیوی سے کہا تھا کہ مولوی بدل لو، مگر وہ بولی کہ اول تو اتنے کم پیسوں میں دوسرا مولوی آئے گا نہیں۔۔۔ میری بیوی اتنا کہہ کر رک گئی تھی۔ دوسری بات کیا تھی، میں نہیں جان سکا۔ مگر یہ جان گیا تھا کہ سستے میں معصوم بیٹی کی ران پر تواتر سے طبلے کی تال کو گوارا کرنا پڑے گا۔ مگر میں ڈرتا ہوں کہ دھیمی تال اگر جاز میوزک والے ردھم میں تبدیل ہوگئی، تب کیا ہوگا۔ میں نے اپنی بیوی سے ایک بار طبلے والی بات کہی تو اس نے پھر اسی انداز میں کہا کہ اول تو اسلام میں طبلہ حرام ہے، اس لیے مولوی صاحب طبلہ نہیں بلکہ دف بجاتے ہوں گے۔۔۔ وہ اس سے آگے کچھ اور کہنا پھر بھول گئی۔میں نے سوچا کہ اس سے پوچھوں کہ وہ ہمیشہ دوسری بات کہنا کیوں بھول جاتی ہے۔۔جاری ہے۔

مگر میں اس سے یہ سوال نہیں کرسکا۔ گھر کے اچھے اور برے سارے فیصلے اب وہی کرتی ہے۔ میں چپ ہوجاتا ہوں اور گھڑی کی سمت دیکھنے لگتا ہوں، جس کے مطابق ظہر کی اذان ہونے میں ابھی دس منٹ باقی ہیں۔ تب تک مولوی صاحب میرے بیٹے سے چوتھے کلمے کو بار بار سنیں گے، اور پھر اس میں کئی غلطیاں پکڑ کر اسے کل دوبارہ سنانے کا حکم جاری کریں گے۔ میں یہ تماشا روز دیکھتا ہوں، بلکہ دیکھنے سے زیادہ سنتا ہوں اور سوچتا ہوں کہ اس سے کم عمر میں میری بہن کے بچوں نے قرآن ختم کرلیا تھا۔ مگر میرے بچے اتنے نالائق کیسے رہ گئے کہ وہ اب تک قرآن مکمل نہیں کرپارہے ہیں۔ پھر مجھے ایک خیال آتا ہے کہ شاید مولوی ان دو بچوں سے حاصل ہونے والی فیس چھوڑنا نہیں چاہتا ہوگا۔ مگر پھر ایک خیال مجھے پریشان کردیتا ہے اور میں دہل کر رہ جاتا ہوں۔ جس میں لڑکی سے عورت بننے کی عمر، مولوی اور میری بیٹی کا مثلث بنتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ اس مثلث کو دائرے میں تبدیل کردوں۔ لیکن پھر ڈر جاتا ہوں کہ دائرہ تومیری بیٹی کی بھی نفی کردے گا۔۔جاری ہے۔


اتنا سوچ کر اس کا سر دُکھنے لگا ۔ کچھ نہ کر پانے کی بے بسی اس کے وجود میں ہیجان برپا کردیتی، مگر اسی بے بسی نے خون کو منجمد بھی کررکھا تھا۔ برسوں کا دورانیہ پلک جھپکتے گزرجاتا اور وہ کسی اور دن کی طوالت میں بیدار ہوتا۔میں برسوں کے بعد بھی اب تک کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک نہیں جاسکا ہوں۔ کمرے کے دوسری طرف کا منظر اب بدل چکا ہے۔ مولوی کی المناک موت ہوچکی ہے۔ دوسرے فرقے کے لوگوں نے مسجد پر قبضہ کرنے کی غرض سے حملہ کیا تھا، مولوی اس میں مارا گیا۔ مولوی تو دوسرا آگیا مگر میری بیوی نے اسے گوارا نہ کیا۔ بچوں نے محلے کے ایک گھر میں قرآن پڑھنے جانا شروع کردیا۔ اور پھر دھیرے دھیرے اس گھر کے اثرات ہمارے گھر میں بھی نمودار ہونا شروع ہوگئے۔ کچھ ہی ماہ بعد میرا بیٹا پہلے چھ روزہ چلّے پر چلا گیا۔ میں نے اپنی بیوی سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے اجازت دی تھی، تو وہ بولی کہ بی بی خالہ کہتی ہیں کہ خدا کی راہ میں جانے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جانے کی سہولت نہ ہونے کا میں خدا سے سوال کروں، جو کسی اجازت سے مشروط نہ ہونے کے باوجود بھی وقوع پذیر نہیں ہوپاتا۔ مگر میں خود کو سوال کرنے کی سہولت سے بھی عاری محسوس کرتا ہوں۔جاری ہے۔

۔آج دوپہر کو کھانے پر بیوی نے مجھے بتایا کہ اس نے بریانی ہانڈی کے بجائے کڑاہی میں بنائی ہے۔ بھلا دو لوگوں کے لیے ہانڈی کی کیا ضرورت ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا کڑاہی میں بریانی بنائی جاسکتی ہے؟ وہ بولی کہ دونوں ہی برتن ہیں، فرق کیا ہے؟ تب مجھے خیال آیا کہ میں اس سے کہوں کہ پھر تو دف اور طبلے میں بھی کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ مگر میں سوچتا ہوں کہ اتنی پرانی بات کو دہرانے کا کیا فائدہ۔ اب تو مولوی صاحب بھی اس دنیا میں نہیں رہے۔ اور پھر میری بیوی اب ایک اور مسئلے سے دوچار ہوگئی ہے۔ اب وہ مجھ سے بات کرتے ہوئے دوسری بات سے شروع ہوتی ہے۔ اورجب پوری کرکے پہلی بات کی طرف لوٹتی ہے تو اسے پہلی بات بھول چکی ہوتی ہے۔ میں اس سے ازراہ مذاق کہتا ہوں کہ تم پہلی بات پہلے کیا کرو، تو وہ بھی اسی لہجے میں کہتی ہے کہ کچھ افسانے فلیش بیک میں کہانی سناتے ہیں۔ میں اس کی طرف حیرت سے دیکھتا ہوں اور پھر سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ یہ سب باتیں اسے کون بتاتا ہے۔۔جاری ہے۔

کردار کی اس زندگی میں وجود کے ادھورے پن کے سوا کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا تھا۔ جیسے تیسے گزررہی تھی۔ بس ایک ہی چیز تھی جو اسے دہلائے رکھتی تھی۔ دروازے کی غیر متوقع دستک۔ آوازوں کی اس بازگشت کو وہ اپنے کانوں میں محسوس کرتا تھا۔ یہی ایک ایسا خوف تھا جس کے آگے بند باندھنا اس کے اپنے بس میں نہیں تھا۔ مگر اس کے اپنے بس میں سوچوں کی بے انت آوازوں کے سوا تھا ہی کیا۔ایک دیوار سے دوسری دیوار کا سفر اب بھی رُکا ہوا ہے، لیکن میرا جسم زوال کی طرف مسلسل مگر دھیرے دھیرے سفر کررہا ہے۔ اب صحن کے دوسری طرف سے کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سب آوازیں وقت کی کسی اندھے کنویں میں اتر گئی ہیں۔ میری بیٹی نے اپنی ماں کا حکم مانتے ہوئے ایک ایسے شخص سے شادی کرلی ہے جو پہلے ہی دو بیویوں کا شوہر ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو سمجھایا تھا کہ تم اپنی بیٹی پر ظلم کررہی ہو۔ تب اس نے جواب دیا کہ ایک معمولی ٹیچر کی نوکری کرتے کرتے تھک گئی ہوں۔ بیٹا تو سہارا نہیں بن سکا، البتہ ایک کھاتا پیتا داماد تو سہارا بن سکتا ہے۔ تب میرے دھیان کی رو بیٹے کی طرف چلی گئی جو اپنے زندہ ہونے کا پیغام کبھی کبھی بذریعہ ایس ایم ایس ماں کے نام بھیج دیتا ہے۔ جس میں وہ اپنے اصلی نام کی جگہ ابوشہابی کی کنیت استعمال کرتا ہے۔ نرم گدوں سے غاروں کی کھردری زمین تک کا سفر اس نے کیسے طے کیا، میں بھی نہیں جان سکا۔ کاش میں ایک دیوار سے دوسری دیوار تک کا فاصلہ طے کر پاتا اور اسے صحیح راستے پر چلنا سکھاتا۔۔جاری ہے۔


ایک بار میں نے غصے میں اپنی بیوی سے شکایتاً کہا کہ اگر میں اس قابل نہیں تھا کہ باہر نکل کر دیکھتا کہ کیا ہورہا ہے، تو کم از کم تم ہی یہ فریضہ انجام دے لیا کرتیں۔ تب اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ بولی :”مانا کہ تم نے مجھے بے جا پابندیوں میں نہیں جکڑا اور میں نوکری کے لیے گھر سے باہر قدم نکال پائی۔ لیکن قدامت پرستی کا جال کیسے توڑ پاتی جو محلے اور رشتے داروں کی صورت میں چاروں طرف بکھرا پڑا ہے۔ کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں کہ اپنی برسوں کی ملازمت میں اسکول اور گھر کے درمیان پیدل سفر کے بارہ منٹ کو کبھی میں نے تیرہ منٹ نہیں ہونے دیا۔””مگر تم دیکھتیں تو سہی کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔ کہاں آتا جاتا ہے۔””سب دیکھتی تھی۔ مگر شرعی داڑھی اور شلوار پر کیسے شک کیا جاسکتا تھا۔ ماں باپ نے ہمیشہ یہ ہی تربیت دی تھی کہ ایسے نیک لوگوں کے چہروں پر نور برستا ہے۔”پھر میں نے اس سے دوبارہ اس طرح کے سوال نہیں کیے۔ کچھ نہ کرسکنے کے باوجود میں اس کے دکھ کو سمجھ سکتا ہوں۔۔جاری ہے۔


کچھ دنوں کے بعد میرے اس کردار کی زندگی میں بے بسی کے سوا کچھ نہیں بچا۔ کہانی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے یہ بتانا بے حد ضروری ہے، کہ کچھ دنوں کے بعد ایک دیوار سے دوسری دیوار تک رسائی نہ رکھنے والے اس شخص کی زندگی میں دو بڑے حادثے ہوئے۔ ہزاروں کلومیٹر کی دوری پر کسی ان دیکھے فضائی پرندے سے داغے گئے میزائل نے پہاڑی پر تعمیر کردہ ایک گھروندے کو زمین بوس کردیا ۔ یہ اطلاع ایک خط کے ذریعے دی گئی، جسے اس کی بیوی نے غم سے نڈھال اور بدحواسی کی حالت میں اسے سنانے کی کوشش کی۔ مگر کچھ کہنے سے پہلے ہی وہ سوکھی ریت سے بنے کسی مجسمے کی طرح بکھرتی چلی گئی۔۔جاری ہے۔

وہ اٹھ کر اسے سمیٹنا چاہتا تھا مگر ایک ماں کے پورے وجود کو سنبھالنے اور سمیٹنے کے لیے اس کی کمزور ہتھیلیاں چھوٹی پڑ گئی تھیں۔ خیالوں کے ہوائی گھوڑے دوڑانے والے کی سوچیں یکایک منجمد ہوگئیں۔ وہ جان گیا تھا کہ کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جانے کے سارے راستے مسدود ہوچکے ہیں۔ اسے لگا کہ پہاڑوں کو لرزہ دینے والے دن سے شروع ہونے والی المناک کتاب کے آخری باب کی آخری سطر اب لکھی جاچکی ہے۔نو سال سات مہینے اور گیارہ دن پہلے زلزلے سے گھر کی چھت زمیں بوس ہونے کے سبب نچلے دھڑسے معذور ہوجانے والے شخص کی زندگی مایوسی پھیلانے کے سوا اور کچھ نہیں کرتی، تو بھلا میرے اس افسانے کا اختتام امید کی شمع کیسے روشن کرسکتا ہے؟

کیٹاگری میں : Kahani