طوائفیں کیسی زندگی گزارتی ہیں

قحبہ خانے میں طوائف کی زندگی کس قدر المناک ہوتی ہے آپ کونیچے دی گئی تصاویر دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا۔بنگلہ دیش ان اسلامی ممالک میں سے ایک ہے جہاں طوائف پن کوقانونی حیثیت حاصل ہے۔ بنگلہ دیش کا دو سو سال پرانا’ کنڈاپارا قحبہ خانہ’ ٹانگیل ضلع میں واقع ہے۔ یہ ملک کی تاریخ کا سب سے پرانا قحبہ خانہ ہے۔ 2014 میں اسے ڈھا دیا گیا تھا لیکن لوکل این جی او تنظیموں کی مدد سے اب پھر سے تعمیر کر دیا گیا ہے۔ بہت سی عورتوں کی پیدائش اسی قحبہ خانہ میں ہوئی ہے۔۔جاری ہے۔

وہ اس قحبہ خانہ میں پلی بڑھی ہیں اور اب ان کے پاس کہیں اور جانے کو جگہ نہیں ۔قحبہ خانہ کو قانونی ماننے والے کہتے ہیں  ہکہ سیکس بھی ایک کام اور پیسے کمانے کا جائز طریقہ ہے ۔ ان عورتوں کو اور کوئی کام کرنا اچھا نہیں لگتا۔ عورتوں نے خود ایک مظاہرہ کر کے بنگلہ دیش وومین لائرز ایسوسی ایشن کو مجبور کیا کہ وہ ہائی کورٹ کو آمادہ کرے کہ ان طوائفوں اور ان کے اڈوں کو قانونی حیثیت دی جائے ۔2014 میں کورٹ کا فیصلہ آتے ہی ساری طوائیفیں واپس اپنے اڈوں پر پہنچ گئیں۔آج کل یہ قحبہ خانہ ایک چار دیواری میں منحصر ہے۔ چھوٹی چھوٹی گلیوںمیں فوڈ سٹال، ٹی شاپ اور پھیری والے نظر آتے ہیں۔۔جاری ہے۔

قحبہ خانے کے اپنے کچھ قواعد وضوابط ہیں جو باہر کی سوسائٹی کے قواعد سے بلکل مختلف ہیں۔ مثال کے طور پر قحبہ خانہ میں موجود عورتیں جسمانی طور پر کمزور ہونے کے باوجود بہت طاقتور ہیں۔ سب سے برُا مرحلہ وہ ہے جب ایک نئی لڑکی قحبہ خانہ میں آتی ہے۔ اسے بونڈِڈ گرل کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کی عمر 12 سے 14 سال کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ عورتیں غریب گھرانوںسے تعلق رکھتی ہیں اور عام طور پر ٹریفکنگ کے ذریعے قحبہ خانہ لائی جاتی ہیں۔انکو کوئی آزادی یا حقوق نہیں دیے جاتے۔ وہ ایک میڈم کی زیر تسلط ہوتی ہیں اور مقروض ہوتی ہیں۔ انہیں باہر جانے یا پیسے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔جاری ہے۔


جب وہ اپنا قرضہ ادا کر لیتی ہیں جس میں عموما 1 سے 5 سال لگ جاتے ہیں تو وہ آزاد سیکس ورکر بن جاتی ہیں۔ اب وہ گاہکوں کو انکار کر سکتی ہیں اور اپنے پیسے اپنے پاس رکھ سکتی ہیں۔ قرضہ ادا کرنے کے بعد وہ قحبہ خانہ چھوڑنے کا فیصلہ کر سکتی ہیں۔ لیکن وہ اپنے گھروں اور خاندان سے دور ہونے کی وجہ سے زیادہ تر قحبہ خانے میں رہ کر ہی پیسے کمانے اور اپنی فیملی کی مالی مدد کابیڑا اٹھانے کو ترجیح دیتی ہیں۔

کیٹاگری میں : Viral