جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اب ایک ایسی خوفناک غلطی سامنے آگئی کہ جان کر فیصلہ سنانے والے ججوں کا بھی منہ کھلا کا کھلا رہ جائے گا

روزنامہ جنگ نے انکشاف کیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کو ان دستاویزات کی بنا پر نا اہل قرار دیا گیا ہے جو بظاہر جعلی معلوم ہوتی ہیں کیونکہ ایف زیڈ ای کیپٹل کے چیئرمین کی حیثیت سے ان کی ملازمت کے متعلق معلومات متنازع ہیں اور غلط پاسپورٹ نمبر درج ہے، کوئی یکساں لوگو استعمال نہیں کیا گیا جبکہ مختلف دستاویز میں تاریخ کا فارمیٹ اور اسٹامپ مختلف ہیں۔ میاں نواز شریف کے کیپیٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے کردار کے حوالے سے کوئی تنازع نہیں ہے۔جاری ہے۔

لیکن اس سے کسی کو دستاویزات میں ہیراپھیری کرنے کا لائسنس نہیں مل جاتا۔ جبل علی فری زون ایڈمنسٹریشن کی جانب سے حقائق کو غلط انداز سے پیش کئے جانے کا معاملہ بھی اس کے ریکارڈ پر سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔اگر قطری خط کی وجہ سے شریف خاندان کے منی ٹریل کے متعلق کئی سوالات کا جواب نہیں مل سکا تو جبل علی فری زون ایڈمنسٹریٹر کے دستخط شدہ مبینہ خط نے بھی اس کی ساکھ کے حوالے سے کئی سوالات اٹھا دیئے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف کو اس خط کی معلومات کی بنا پر نا اہل قرار دیا گیا تھا اور یہ خط سرکاری چینل سے نہیں آیا۔ یہ بات اب بھی ایک راز ہے کہ یہ خط کس کی درخواست پر تحریر کیا گیا تھا۔ جے آئی ٹی کو یہ خط سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ پیش کیے جانے سے پانچ دن قبل موصول ہوا۔۔جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق خط میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ نمبر بی وی 5128631 کے حامل شخص محمد نواز شریف سات اگست 2006 سے 20 اپریل 2014 تک کیپیٹل ایف زیڈ ای کے بورڈ کے چیئرمین تھے۔ نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کا جائزہ لیاگیا تو اقامہ پاسپورٹ نمبر بی وی 5128631 پر اسٹمپ نہیں کیا گیا تھا، یہ 18 جنوری 2008 کو پانچ سال کیلئے 17 جنوری 2013 تک کیلئے جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، نواز شریف نے 7 جنوری 2012 کو پاسپورٹ کی تجدید (نمبر بی وی 5128362) کرائی اور اقامہ اس پر جاری کیا گیا نہ کہ پاسپورٹ نمبر بی وی 5128631 پر۔ لہٰذا رپورٹ میں بتائے گئے پاسپورٹ کے متعلق تفصیلات درست نہیں۔ فری زون انتظامیہ کو اقامہ کے حوالے پاسپورٹ کا علم ہونا چاہئے تھا۔ اس سے سوالات اٹھتے ہیں کہ انتظامیہ کو ا س پاسپورٹ کے متعلق کیسے علم ہوا جو اس مقصد کیلئے استعمال ہی نہیں ہوا تھا۔ یہ بھی کہ نواز شریف کا پاسپورٹ (بی وی 5128362) 2012 سے زیر استعمال ہے اور انتظامیہ کو چاہئے۔جاری ہے۔

کہ وہ اس نئے پاسپورٹ کے متعلق لکھے نہ کہ ایکسپائر شدہ پاسپورٹ کے متعلق۔ایک اور خامی ان کے تقرر کے عرصہ کے حوالے سے ہے۔ مبینہ باضابطہ خط بتاتا ہے کہ نواز شریف کا تقرر 7 اگست 2006 کو بطور چیئرمین کیپیٹل ایف زیڈ ای ہوا جبکہ جے آئی ٹی کی جانب سے جمع کرائی جانے والی ایک اور دستاویز (ایمپلائمنٹ کنٹریکٹ امینڈمنٹ) میں بتایا گیا ہے کہ ان کا کنٹریکٹ بزنس مینیجر سے تبدیل کرکے چیئرمین بورڈ 4 فروری 2007 کو کیا گیا۔ ان کی ملازمت کے کنٹریکٹ میں ٹائپ شدہ الفاظ پر کراسنگ پائی گئی ہیں جن پر کاﺅنٹر سائن نہیں کیے گئے۔ تاہم، دیگر دستاویزات میں اس طرح کی درستگی پر کاﺅنٹر سائن موجود ہیں۔۔جاری ہے۔

اخبار کاکہناہے کہ فری زون ایڈمنسٹریٹر کے خط پر موجود اسٹامپ پر اضافی سطر ”گورنمنٹ آف دبئی“ لکھا ہے جو دیگر اسٹامپ پر موجود نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ فری زون ایک علیحدہ علاقہ ہے اور یہ آف شور حدود ہیں۔ اس کی دستاویز پر ”گورنمنٹ آف دبئی“ کی سطر کی موجودگی سے یہ تکنیکی لحاظ سے یہ آن شور حدود بن جائے گی جس پر تمام قوانین کا اطلاق ہوگا اور صورتحال یہ نہیں ہے۔ لوگو کی موجودگی کی جگہ میں تبدیلی بھی قابل ذکر ہے۔ دیگر خطوط میں یہ لوگو دستاویز کے دائیں جانب ہے جبکہ جے آئی ٹی کو 4 جولائی 2017 کو موصول ہونے والے خط پر یہ لوگو بائیں جانب ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news