وہ اپنی بیٹی کو میرے پاس لے کر آئی اور کہا یہ میری بیٹی ہے یہ میڑک تک پڑھی ہوئی ہے اس کے جسم پر پہلا حق آپ کا ہے

ہم نے بمشکل اس فلم کی پبلسٹی کا خرچ پورا کیا اور چوبیس ہزار روپے سینما والے نے ایڈوانس دیئے ہوئے تھے۔ ان میں یہ فلم گروی رہی او ر جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ یہ فلم ایک آخری ڈسٹری بیوٹر کو پانچ سال پہلے بیس ہزار روپے میں دی تھی۔
۔جاری ہے۔

تو پتہ نہیں اس نے یہ کہاں چلائی۔ لیکن آغا صاحب نے ہمیں یہ پکچر دے دی تھی۔ مگر میرے علم میں نہیں کہ آغا صاحب نے کسی اور شخص کے ساتھ دو لاکھ روپے کی یہ رعایت کی ہو۔ میں نے یہ رسید تو لکھ دی تھی کہ اس فلم کی آمدن میں سے میں بل ادا کروں گا لیکن آغا صاحب نے کبھی بل کا تقاضا نہیں کیا۔ بلکہ وہ بعد میں اس فلم کا افسوس بھی کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یار تمہارے ساتھ بڑی ٹریجڈی ہوئی ہے اور تمہارا پورے کا پورا پیسہ ڈوب گیا۔اس طرح آغا صاحب دوسرے آدمی تھے جنہوں نے میرے ساتھ دو لاکھ روپے کی مروت کی۔ چنانچہ فلم لائن بھی مروتوں سے خالی نہیں ۔ اگرچہ اس میں بیشتر لوگ ماتھے پر آنکھیں رکھنے والے ہیں لیکن آغا صاحب جیسے اچھے لوگ بھی موجود تھے ۔ آغاصاحب آج ہمارے درمیان نہیں لیکن ان میں بہت خوبیاں تھیں اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنی خوبیوں کی وجہ سے اگلے جہان میں اچھے مقام پر ہوں گے ۔
۔جاری ہے۔


ایک مجبور عورتفلم لائن میں سہارے بہت تلاش کیے جاتے ہیں اور دو طرح کے ہوتے ہیں بعض مر د فلم انڈسٹری میں مقام پیدا کرنے کیلئے کسی عورت کا سہارا لیتے ہیں اور بعض عورتیں فلم میں کام کرنے کیلئے کسی مرد کا سہارا لیتی ہیں۔ ہم نے ایسے کئی لوگ دیکھے‘ جو فلم انڈسٹری میں آئے ‘ کوئی حسیں سہارا لیاا ور فلمساز ‘ ڈائریکٹر یا اداکار بن گئے۔ اسی طرح اگر کسی کی ’’بہن‘‘ قسم کی چیز ہوئی تو کسی پیسہ لگانے والے نے خوش ہو کر اس کو چانس دلا دیا۔ چنانچہ عورتوں کی وجہ سے پروڈیوسر اور ڈائریکٹر بننے والے لوگ بھی کم نہیں ہیں لیکن کچھ عورتیں ان مردوں کا سہارا بھی لیتی ہیں جو فلم میں برسراقتدار ہوں۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب گانوں کے سلسلے میں میرے پاس پاکستان کی اسی پچاس فیصد فلمیں ہوتی تھیں اور لوگوں کا یہ خیال ٹھیک ہی تھا کہ اگر میں کسی کو Recommendکروں تو اسے کام مل سکتا ہے ۔ کوئی تیس سال پہلے کی بات ہے کہ یہاں ایک خاتون ہوتی تھی جو فلم میں چھوٹے موٹے رول ادا کرتی تھیں اور اس سے اکثر میری سٹوڈیو میں ملاقات ہوتی تھی۔ اچانک وہ کچھ عرصہ کے لئے غائب ہو گئی اور جب برآمد ہوئی تو سیدھی میرے پاس پہنچی ۔ اس کے ساتھ کوئی سولہ سترہ سال کی لڑکی تھی اور کہنے لگی کہ قتیل صاحب آپ سے علیحدگی میں کچھ مشورہ کرنا ہے ۔ اس نے مجھے اپنے یہاں کے ایڈریس کے بارے میں بتایا اور گھر آنے کی تاکید کی۔ میں وہاں گیا تو اس نے خاطر تواضع کیلئے کافی کچھ رکھا ہوا تھا۔ اور پھر مجھے کہنے لگی کہ فلم لائن بہت بری لائن ہے اور اس میں بہت برے لوگ موجود ہیں
۔جاری ہے۔

یہ میر ی بیٹی ہے ‘ یہ میٹرک تک پڑھی ہوئی ہے اور اس میں اچھی اداکارہ بننے کے آثار موجود ہیں۔ لیکن میں یہ نہیں چاہتی کہ یہ دست بدست گھومے۔ آپ ایک معزز آدمی ہیں میں اسے آپ کے سپر د کرتی ہوں ۔ اس پر آپ کا ہر لحاظ سے حق ہے ۔ میں چاہتی کہ اس کی زندگی میں صرف ایک مرد ہی آئے اور وہ آپ ہوں۔ اب آپ ہی اسے Establishکریں۔یہ بہت بڑا لالچ تھا ویسے بھی میرا جوانی کا عالم تھا۔ جب ایک کنواری لڑکی ہو اور اس کی ماں اسے جسمانی طورپر سپرد بھی کر رہی ہو تو اس میں بہت کشش ہو سکتی ہے ۔ لیکن میں نے اس خاتون سے کہا دیکھو تم فلم انڈسٹری میں رہ چکی ہو۔تم نے وہاں سے کیا پایا ہے اور تم زندگی بھر چند چھوٹے چھوٹے رول کر کے یہاں تک پہنچی ہو۔ہو سکتا ہے میں تمہاری نظر میں بہت عمدہ آدمی ہوں لیکن میں بھی دوسرے مردوں جیسا ہی ہوں۔ اگر میں اسے داشتہ رکھ کر بعد میں بے وفائی کر جاؤں یا اس میں اچھی اداکارہ بننے کی صلاحیت ہی نہ ہو تو یہ کہاں کی رہے گی۔ اس لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اس چکر میں نہ پڑو اور اسے کسی ٹریننگ میں ڈالو یا اور پڑھاؤ اور ایک دو سال تک اس کی شادی کر دو۔مرا جواب سن کر وہ سکتے میں آگئی اور اتنی حیران ہوئی
۔جاری ہے۔

کہ اس کے منہ سے کوئی بات نہیں نکلتی تھی۔پھر اس نے کہا کہ قتیل صاحب آپ نے میری توقع کے خلاف جواب دیا ہے اور میں اندر سے ہل گئی ہوں۔ اب میں رات بھر سوچوں گی اور کل آپ کو بتاؤں گی ۔ میں نے کہا کہ میرا جواب ابھی سے سن لو کہ میں اس کیلئے تیار نہیں ہوں اب تم جو بھی فیصلہ کرو وہ تمہارا اپنا فیصلہ ہو گا‘ میں اپنا فیصلہ ابھی سے سنا چکا ہوں۔ اس کے بعد وہ خاتون کبھی مجھے فلم میں نظر نہیں آئی۔ دوسرے دن جواب کی توقع تھی لیکن وہ اس روز بھی نہیں آئی۔کوئی چار پانچ سال بعد میں کراچی میں جبیس ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا اور ہوٹل کے باہر ایک ٹیکسی کے انتظار میں کھڑا تھا کہ اچانک ایک گاڑی میرے قریب سے گزری اور پھر مڑ کر واپس آئی۔ اس میں وہی عورت بیٹھی ہوئی تھیُ وہ نیچے اتری اور مجھ سے لپٹ گئی کہنے لگی ‘ قتیل صاحب آپ یہاں کب اور کیسے آئے۔ میں نے بتایا کہ میں ایک مشاعرے کے سلسلے میں آیا ہوں تو کہنے لگی کہ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلئے ۔ میں نے کہا اس وقت تو نہیں۔ کہنے لگی اچھا آپ وقت بتائیں میں آکر آپ کو یہاں سے لے جاؤں گی ۔
۔جاری ہے۔

میں نے وقت بتایا وہ مقرر ہ وقت پر آئی اور مجھے اپنی اسی بیٹی کے گھر لے گئی۔وہاں جا کر اس نے میرے پاؤں پر اپنا سر رکھ دیا اور کہنے لگی کہ اگر آپ اس روز مجھے نہ ملے ہوتے تو آج میں آپ سے کسی اور حیثیت میں مل رہی ہوتی۔ اس واقعہ کے بعد میں نے یہاں آکر دائی گیری کا کام سیکھ لیا تھا اور پھر دائی بن گئی۔ اپنی اس بیٹی کی شادی میں نے ایک نیک لڑکے سے کر دی۔ اس وقت تو وہ معمولی آدمی تھا لیکن اب اس کا کاروبار کافی ٹھیک ہو گیا ہے۔ میری یہ بیٹی پاکدامن ہے اور میں بھی اچھی زندگی گزار رہی ہوں۔ مگر ان سب چیزوں کا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے ۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Viral