یہ لڑکی ۔100۔ آدمیوں سے زنا کروائے گی

حضرت مجاہد سے مردی ہے کہ پرانے زمانے میں ایک عورت حاملہ تھی جب اُسے درد ہونے لگا تو بچی کی ولادت ہوئی اُس نے اپنے ملازم سے کہا جائو کہیں سے آگ لے کر آئو اُس ملازم نے باہر نکلتے ہی دیکھا ایک شخص دووازے پر کھڑا ہے پوچھتا ہے۔جاری ہے۔

کہ کیا ہوا لڑکا یا لڑکی ملازم نے بتایا لڑکی وہ شخص بولا یہ لڑکی ایک سو آدمیوں سے زنا کروائے گی اور جو شخص ملازم ہے اس سے اس کا نکاح ہوگا اور ایک مکڑی اس کی موت کا باعث بنے گی وہ شخص یہ کہ کر وہاں سے چلا گیا اُس شخص ملازم نے اندر جاتے ہی اُس لڑکی کا پیٹ تیز چھری سے چاک کر ڈالا اور اُسے مردہ سمجھ کر وہاں سے بھاگ گیا اُس کی ماں غم سے چیخنے چلانے لگی بچی کے پیٹ کو ٹانکے لگا کرسی دیا اور وہ بچ گئی علاج معالجہ شروع یوا اور بچی کے زخم بھر گئے ایک زمانہ گزر گیا اور بچی بلاغت کو پہنچ گئی۔جاری ہے۔

شکل وصورت کی اچھی بھی بدچلنی میں پڑگئی ادھر وہ ملازم دوسرے ملک نصیب آزمانے چلاگیا کئی سال بیت گئے بہت محنت کی اور بہت سا مال کما کر واپس اپنے گائوں آگیا اور ایک بوڑھی عورت کو بلا کر کہا میں نکاح کرنا چاہتا ہوں گائوں میں جو سب سے خوبصورت عورت ہے میں اُس سے نکاح کروں گا بوڑھی عورت نے سارا گائوں چھان مارا اور اُس لڑکی کے سوا اور کوئی خوبصورت نہ ملی نکاح کا پیغام بھیجا منظور ہوا اوار وہ بیاہ کر اُس گھر میں آگئ دونوں میاں بیوی میں محبت قائم ہوگئی ایک دن لڑکی نے پوچھا آخر آپ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں یہاں کیسے آگئے اُس نے تمام ماجرا کہ سنایا کہ یہاں میں ایک عورت کے ہاں ملازم تھا اور وہاں اس کی لڑکی کو چھری مار کر وہاں سے بھاگ گیا۔جاری ہے۔

اب اتنے برسوں کے بعد واپس آیا یوں وہ لڑکی بولی سنو وہ لڑکی میں ہی ہوں جسے تم نے چھری مار کر مار ڈالا تھا اس نے اپنے پیٹ سے کپڑا پٹا کر اُس کو وہ زخم دکھایا اُس آدمی کو یقین آگیا اس نے کہا اگر تو رہی ہے تو مجھے تیرے باتے میں ایک اور بات بتائی گئی تھی کہ تو سو آدمیوں سے زنا کروائے گی وہ بولی ہاں یہ بھی ٹھیک ہے یہ بھی ہوا ہے لیکن گنتی مجھے یاد نہیں میں چونکہ بہت خوبصورت ہوں اس لیے ہر مرد مجھے پر مرتا ہے اور میں کئی مردوں سے زنا کروایا ہے اُس نے کہا ایک اور بات بھی مجھے معلوم ہے کہ ایک مکڑی تیری موت کا سبب بنے گی خیر مجھے تجھ سے محبت ہے میں تیرے لیئے ایک ایسا محل تعمیر کروادیتا ہوں جہاں کوئی کیٹرا مکڑی وغیرہ نہ پہنچ سکے چنانچہ ایک محل تعمیر ہوا اور وہ دونوں میاں بیوی اُس میں رہنے لگے ایک دن دونوں میاں بیوی بیٹھے تھے کہ ایک مکڑی چھت پر دکھائی دی۔جاری ہے۔

وہ شخص بولا دیکھو ایک مکڑی نظر آہی ہے عورت بولی اچھا یہ میری جان لے گی کیا اُس نے ٖلاموں کو حکم دیا کہ اسے مکڑی کو زندہ پکڑکر میرے پاس لائو جب وہ مکڑی کو پکڑ کر لائے تو اُس نے پیرکے انگوٹھے سے مکڑی کو مسل دیا اُس مکڑی کی جان نکل گئی مکڑی سے جو پیہپ نکلی اُس پیپ کا ایک قطرہ عورت کے ناخن کے گوشت کے اندر جا پڑا وہ خطر ناک زہر تھا اس کا رنگ سیاہ ہوا اور وہ مرگئی (ابن کیثر) تم کہیں بھی چلے جائو موت تمہارا ٹھکانہ ضرور ڈھونڈ لے گی

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔