جنرل ر راحیل شریف کی قیادت میں بئی قومی حکومت کی تشکیل فیصلہ ہوگیا

سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کی قیادت میں تین سال کے لئے پرانے سیاستدانوں ، بیورو کریٹس اور ریٹائرڈ جنرلز پر مشتمل قومی نگران حکومت بنا کر سب کا احتساب کرنے کا فیصلہ ہوچکا ہے اہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئندہ سال نہ ہی الیکشن ہونگے اورنہ ہی پارلیمانی نظام کے تحت کوئی حکومت ہوگی ، کیونکہ اب تمام قومی ادارے پاکستان کو کرپشن سے پاک پاکستان بنانے کےلئے۔جاری ہے ۔

سرتوڑ کوشش میں مصروف عمل ہوچکے ہیں اس آئندہ ایسا پاکستان ہوگا جوکرپشن ، بدعنوانی ، سیاسی نابالغی ، لوٹ مار، اوراقتدار کےلئے باریاں جیسی مہلک بیماریوں کا خاتمہ ہوگا اورایسی شفاف حکومت بنائی جائیں گی جو پاکستان اورپاکستانی قوم کو دنیا میں ایسا مقام ملے جہاں دنیا کے فیصلے پاکستان میں ہوں۔مضبوط پاکستان کے قیام کےلئے پائور شیئرنگ کےلئے موجودہ پارلیمانی نظام ختم اورنئے صدارتی نظام کی راہ ہموار کی جارہی ہے جس کےلئے مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی دونوں جماعتوں کے علاوہ نیا سیٹ اپ ہونے جارہا ہے ۔۔جاری ہے ۔

ایسے حالات میں ٹیکنوکریٹ ،سابق جرنیل اورمعتبر سیاسی شخصیات جن میں عطاء الرحمن ، نثار میمن اوراس طرح کے دیگر صاف شفاف کردار کے مالک افراد کو پارلیمنٹ میں لانے کی تیاریاں کی جاری ہیں جو ملک میں بے لاگ احتساب تک اپنے فرائض سرانجام دینگے ۔جبکہ دیگرسیاسی جماعتیں اپنے آپ کو بچانے اوراپنے دفاع میں لگی ہوئی ہیں جو کہ اب کسی صورت اس پارلیمانی نظام کو نہیں بچا سکتی۔ ملک اب اس نظام کا کسی صورت متحمل نہیں ہوسکتا ، جب کہ آنے والے وقت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں صدارتی نظام کےلئے راہ ہموار کی جائے اورپاکستان میں اب صرف شفاف لوگوں پر مشتمل مقننہ (سینٹ) اورصدر جو پاکستان کو آگے لے چلے ذاتی مفادات کو نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے ان تمام سیاستدانوں نے جو ملک میں کرپشن ، لوٹ مار اوربدعنوانی کا گند ڈالا ہے ایسا نظام بدبودار ہوچکا ہےاس بدبودار نظام کو دفن کرنے کیلئے بڑے بڑے بتوں کو گرایا جائے گا جس کے بعد پاکستان میں سسٹم تبدیل ہوگا، چہروں کے بدلنے سے سسٹم نہیں بدلتا بلکہ نظام بدلنے سے چہرے بھی بدلیں گے ۔۔جاری ہے ۔

اورپاکستان میں ترقی کی حقیقی تبدیلی بھی آئے گی ۔جبکہ مسلم لیگ ن کا دعویٰ ہے کہ یہ صرف افواہیں ہیں جو گردش کررہی ہیں ، راحیل شریف کچھ عرصے بعد اپنے گھر آتے ہیں اور ان کے ساتھ دو سعودی ہوتے ہیں اور بھی نجی دورے پر آئیں ہیں اس کا قومی نگران حکومت بنانے کا کوئی تعلق نہیں۔ ان کے پاس پانچ سال کا کنٹریکٹ ہے جس کے دوران وہ ایسا کوئی کام نہیں کر سکتے ، اگر سسٹم کو لپیٹنا ہو تا تو نواز شریف کو سپر یم کورٹ سے نا اہل کروانے کی کیا ضرورت تھی اس لیے نظام چلتا رہے گا جب تا سیاستدان خود نہ چاہیں کہ نظام کو لپیٹ دیا جائے ۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news