24eدل دہلادینے والی کہانی پرانے زمانے میں لوگ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے آج میں کو ایک ایسے باپ کی کہانی بتاہوں گا جس نے اپنی بیٹی کو کبھی پیار نہیں کیا لیکن اُس بیٹی نے اپنے باپ لیئے کیا قربانی دی یہ کہانی پڑھ کر ہر ماں باپ خدا سے بیٹی ضرور ما نگیں گے ایک گاؤں میں باپ اُس کے تین بیٹے اور بیٹی رہتی تھی باپ کو اپنے تینوں بیٹوں سے بہت پیار تھا لیکن وہ اپنی بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا کیوں کہ

پرانے زمانے میں لوگ بیٹیوں کو بوجھ سمجھتے تھے آج میں کو ایک ایسے باپ کی کہانی بتاہوں گا جس نے اپنی بیٹی کو کبھی پیار نہیں کیا لیکن اُس بیٹی نے اپنے باپ لیئے کیا قربانی دی یہ کہانی پڑھ کر ہر ماں باپ خدا سے بیٹی ضرور ما نگیں گےایک گاؤں میں باپ اُس کے تین بیٹے اور بیٹی رہتی تھی باپ کو اپنے تینوں بیٹوں سے بہت پیار تھا لیکن وہ اپنی بیٹی سے پیار نہیں کرتا تھا کیوں کہ اُسے بوجھ سمجھتا تھا وہ کہتا تھا بیٹے باپ کا سہارا ہوتے ہیں لیکن بیٹیاں باپ کے لیئے مصیبت ہوتی ہیں اُس نے اپنے تینوں بیٹوں کو پڑھایا لیکن اپنی بیٹی کو نہ اسکول کی تعلم دلائی اور نہ دین کی تعلم دلائی اُس لڑکی کو قرآن پڑھنے کا بہت شوق تھا۔جاری ہے۔

اُس نے اپنے باپ سے کہا وہ قرآن پڑھنے مدرسہ جانا چاہتی ہے لیکن اُس کے باپ نے کہا ہمارے خاندان میں لڑکیاں گھر سے باہر نہیں جاتی وہ لڑکی سارا دن اپنے گھر کا کام کرتی تھی اور سوچتی تھی کہ کیا ایک لڑکی کی زندگی ایسی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے گھر والوں کا بہت خیال رکھتی تھی یوں ہی سال گزرتے رہے باپ نے اپنے بیٹوں کی شادی کر دی اور پھر بیٹے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مصروف ہوگئے پر اُس کی بیٹی ایک ماں کی طرح اپنے باپ کی دیکھ بھال کرتی رہی -ایک دن اُس کا باپ بہت بیمار ہوگیا کافی دوائی کھانے کے بعد بھی اُسکی طبعیت سہی نہیں ہوئی تو اُسے ہسپتال لے گئے وہاں ایکسرا کرانے کے بعد پتا چلا کے اُس کے دونوں گُردے خراب ہوچکے ہیں اگر جلد ہی گردے کا انتیظام نہ کیا تو ان کی جان بھی جا سکتی ہے یہ سن کر اُس کی بیٹی بہت پریشان ہوگئی اور ہر روز خدا سے اپنے باپ کی سلامتی کے لیئے دعا مانگنے لگی۔جاری ہے۔

لیکن بیٹوں کو اپنے باپ کی کوئی پروا نہیں تھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اُس کے باپ کی طبعیت زیادہ خراب ہوگئی پھر ڈاکٹر نے اُس کے بیٹوں سے کہا اگر دو دن میں تمہارے باپ کو گُردہ ٹرانسپلانٹ نہیں کیا گیا تو پھر اُس کو بچانا نہ ممکن ہوجائے گا پھر بھی اُس کے بیٹوں نے اپنے باپ کے لیئے کچھ بھی نہیں کیا پھر اُس کی بیٹی نے ڈاکٹر سے کہا میرا گُردہ میرے باپ کو دے دو لیکن اُسے بچالو تو ڈاکٹر نے اُس کی بیٹی کا گُردہ اُس کے باپ کو دے کر اُس کی جان بچا لی۔جاری ہے۔

اس طرح ایک بیٹی نے اپنے باپ کو مرنے سے بچا لیا جب اُس کے باپ کو پتا چلا کہ اُس کی بیٹی نے اُس کی جان بچائی ہے تو وہ اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کہ بہت رویا اور کہا بیٹی مجھے معاف کردو -دوستوں بیٹیوں کو بوجھ مت سمجھوں بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی کسی نے سچ ہی کہا ہے کے جتنا پیار جتنی خوشی ایک بیٹی دے سکتی ہے ایک بیٹا نہیں دے سکتا-

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔