سچ کہا مرد حوس کا پجاری ہوتا ہے

جب عورت مرتی ہے تو اس کا جنازہ مرد اٹھاتے ہیں ،اس کی تدفین یہ ہی مرد کرتے ہیں۔ جب پیدا ہوتی ہے تو یہ ہی مرد اس کے کان میں آزان دیتے ہیں۔ اس کو باپ کے روپ میں سینے سے لگاتے ہیں، بھائی کے روپ میں اسے تحفظ فراہم کرتے ہیں،۔جاری ہے۔

شوہر کے روپ میں اسے محبت دیتے ہیں اور بیٹے کے روپ میں اس کے قدموں سے اپنے لیے جنت تلاش کرتے ہیں۔ واقع ہی بہت حوس کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انکی حوس اتنی بھڑتی ہے کہ اپنی ماں ہاجرہ کی سنت کی پیروی کرتے ہیں اور صفاء و مروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں۔ اسی عورت کے لیے سندھ فتح کرتے ہیں اور اسی عورت کی حفاظت کے لیے اندلس فتح کرتے ہیں۔ مقتولین میں سے 90 فیصد عورت کی عصمت کی حفاظت میں قتل ہو کر موت کی نیند سو گئے۔ واقع ہی سچ کہا آپ نے مردحوس کا پچاری ہے۔ وہ چار روپ میں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حفاظت کرتا ہے۔ لیکن جب کوئی عورت اس کے سامنے بے پردہ آتی ہے،۔جاری ہے۔

اپنے جسم کی خوبصورتی سے متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اپنے سحر میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو پھر مرد مرد نہیں رہتا بلکہ حوس کا پجاری بن جاتاہے۔ اگر گوشت کو کھلا رکھیں گیں اس کو ڈھانپ کر نہیں رکھیں گیں تو کتے بلے تو آئیں گے ہی۔ اب قصور تو کتے بلوں کا ہے کہ وہ گوشت چھوڑ کر گھاس کیوں نہیں کھاتے۔واقع ہی قصور مرد کا ہے، جب اس کی بہن، بیوی بیٹی بے پردہ ہو کر دوسروں کے سامنے جاتی ہے تو اسے غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے روکنا چاہیئے۔۔جاری ہے۔

لیکن جب مرد روکتا ہے تو وہ تنگ نظر ہونے کے طعنے بھی جھیلتاہے اور طرح طرح کی باتیں بھی سنتا ہے۔ مگر آج کی آزاد خیال عورت چاہتی ہے کہ گوشت تو کھلا ہی رہے لیکن بس کتوں اور بلوں پر پابندی لگا دی جائےکہ وہ گوشت کھانا چھوڑ دیں یا پھر ان کے منہ سی دیئے جائیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔