وہ اسلامی ملک جہاں لڑکیوں کی شادی زبردستی ان کے باپ سے کی جاتی ہے

اپنے باپ سے شادی ، یہ خبر آپ کے لئے ناقابل یقین ہوگی اور کسی جھٹکے سے کم نہیں ہوگی کیوں کہ کسی بھی معاشرے میں باپ سے شادی کو انتہائی شرمناک سمجھا جاتا ہے لیکن بنگلہ دیش میں ایک ایسا قبیلہ بھی پایا جاتا ہے جہاں لڑکیوں کی شادیاں اپنے باپ سے زبردستی کروا دی جاتی ہیں ان شادیوں میں لڑکی کی اور اس کے باپ کی عمر کا خیال بھی نہیں رکھا جاتا ۔۔۔جاری ہے


بنگلہ دیشی میگزین ”میری کلیری“ کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے پہاڑی قبیلے ” منڈی “ میں اگر کوئی بیوہ شادی کی خواہش کرے تو اسے اپنے ہی قبیلے یا خاندان کے کسی فرد سے شادی کرنا ہوتی ہے ،بیوہ کو اپنی شادی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹی کو بیاہ بھی دوسرے شوہر سے کروانا ہوتا ہے۔اس کی بیٹی کو اپنی ماں کی طرح اپنے دوسرے باپ جو کہ باپ کے ساتھ ساتھ اس کا شوہر بھی ہوتا ہے کی تمام ضروریات اپنی ماں کی طرح پوری کرنا ہوتی ہیں، جن میں لڑکی کو اس کے ساتھ جسمانی تعلقات بھی استوار کرنا پڑتے ہیں،منڈی قبیلے کا خیال ہے کہ ان کی اس رسم کی وجہ سے قبیلے کی نسل میں اضافہ ہوتا ہے کیوں کہ لڑکی سے ان کی نسل پروان چڑھتی ہے ،۔۔جاری ہے

اس کے ساتھ ساتھ ان کے خاندان کی دولت بھی محفوظ ہو جاتی ہے، کیوں کہ اگر بیوہ کا انتقال ہوجاتا ہے تو اس کے بعد اس کی ساری جائیداد کی وارث اس کی بیٹی بن جاتی ہے اور ان کی جائیداد قبیلے یا خاندان سے باہر نہیں جاتی۔ میگزین نے ایسی ہی ایک لڑکی کا انٹرویو بھی کیا ہے جس کی شادی محض 3برس کی عمر میں اس کے باپ سے کر دی گئی تھی۔30سال اورلا دلبوت کا کہنا تھا کہ میرے باپ کا انتقال اس وقت ہوا جب میری عمر صرف تین برس تھی، میری ماں نے بعد ازاں نوتن سے شادی کی، نوتن ایک مسکراتا ہوا اور خوبصورت انسان ہے ، میں اپنی ماں کو دنیا کی خوبصورت ترین انسان سمجھتی تھی اور میری بھی خواہش تھی۔۔جاری ہے

کہ میرا خاوندنوتن جیسا ہو مگر مجھے بعد ازاں انکشاف ہوا کہ میری شادی نوتن کے ساتھ ہوگئی تھی جب میں صرف تین برس کی تھی،میری اور میری ماں کی شادی نوتن کے ساتھ ایک مشترکہ تقریب میں ہوئی تھی،مجھے جب اس عدم اعتقادی پر مبنی رسم کے تحت اپنی شادی کا علم ہوا تو میں نے سوچا کہ میں یہاں سے بھاگ جاﺅں ۔میری ماں 25برس کی عمر میں بیوہ ہوئی تھی اور وہ اکیلا نہیں رہنا چاہتی تھی ، قبیلے کے لوگوں نے اس کی شادی 17سالہ نوتن سے کرائی گئی۔ نوتن سے میری ماں کے دو بیٹے ہیں اور میں چاہتی تھی کہ اپنی مرضی سے شادی کروں ۔میری بھی خواہش ہے کہ دیگر بنگلہ دیشی لڑکیوں کی طرح اپنی زندگی جیوں مگر میں ایسا نہیں کر سکتی، اس وقت میرے تین بچے ہیں، میرے سب سے بڑے بیٹے کی عمر 14سال، ایک بیٹی کی عمر7سال جبکہ سب سے چھوٹی لڑکی کی عمر19ماہ ہے۔۔۔جاری ہے


اورلا دلبوت اپنے خاندان کے ساتھ مٹی سے بنے ہوئی جھونپڑیوں کے درمیان ایک جھونپڑی میں رہتی ہے ، جہاں پر پانی کی نکاسی کا نظام ہے اور نہ ہی دیگر سہولیات۔ اورلا اور اس کی ماں متامونی کی محض چند ایکڑ زمین ہے جس پر وہ انناس اور کیلوں کی فصل تیار کر کے اپنی گزر بسر کرتی ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Viral