نواز شریف کی سیاسی تربیت آئی ایس آئی کے کن 5 جنرلوں نے کی تھی؟ تہلکہ خیز انکشاف

دانیال عزیز روبرو تھے، کمال ضبط سے انہوں نے خود کو سنبھالا ورنہ آنسو تھے کہ امڈ امڈ آتے تھے۔ کہنے لگے ظلم ہوا، زیادتی کی گئی۔ ہمارے کارکنوں کو گھر سے اٹھالیا گیا، پولنگ اسٹیشنز پر جس ووٹر کے ہاتھ میں شیر کی پرچی تھی، اسے داخل ہونے نہیں دیا گیا۔ راتوں رات نئی پارٹیاں وجود میں لائی گئیں اور انہیں ہمارے ووٹ توڑنے کے لیے استعمال کیا گیا۔۔۔جاری ہے

دانیال عزیز کی بات سنتے ہی مجھے 2002ء کے انتخابات یاد آگئے۔ لاہور کا حلقہ NA-125، رات گئے خبر ملی کہ اکرم ذکی جیت گئے ہیں، اگلی صبح معلوم ہوا کہ نتیجہ روک لیا گیا ہے، دو دن بعد معلوم ہوا کہ ہمایوں اختر خان فاتح قرار پائے ہیں، محض چند سو ووٹوں کے فرق سے۔ کئی اور حلقوں میں بھی ایسا ہی ہوا۔ دانیال عزیز بھی اسی ق لیگ کا حصہ تھے، اور یہ وہی پارٹی تھی جسے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہرانے کے لیے راتوں رات وجود میں لایا گیا تھا اور پورا زور لگا کر جتوایا بھی گیا تھا۔ آج دانیال عزیز کی پارٹی کے ساتھ ان کے بقول زیادتی ہو رہی ہے۔ تب دانیال عزیز کی پارٹی زیادتی کرنے والوں میں شامل تھی اور اسے اسی ادارے کی سرپرستی حاصل تھی جس پر آج الزام لگایا جا رہا ہے۔۔۔جاری ہے


مزید پیچھے چلے جائیے۔ 1990ء کے انتخابات۔ آئی جے آئی وجود میں لائی جا چکی تھی۔ بے نظیر کو ہروانے کے لیے صحیح اور غلط، ہر طرح کے حربے استعمال کیے جا رہے تھے۔ خفیہ فنڈز انتخابی مہم کے لیے لٹائے جا رہے تھے۔ کوشش کامیاب رہی، نوازشریف اقتدار میں لائے گئے، وزیر اعظم بنائے گئے۔ سہرا اسی ادارے کے سر تھا جسے آج سازش کا الزام دے کر آنسو بہائے جا رہے ہیں۔معروف صحافی اظہر سہیل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جنرل حمید گل اور جنرل اسد درانی کی نگرانی میں جو الیکشن ٹیکنالوجی تیار کی گئی، وہ اتنی خوفناک تھی کہ کوئی بھی انتخابی نتیجہ ڈپٹی کمشنر کی منظوری کے بغیر سامنے نہیں آ سکتا تھا اور ڈپٹی کمشنرز کو پوری طرح آگاہ کیا گیا تھا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ نسبتاً ویران علاقوں میں نام نہاد پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے اور ملک کے کسی ایک حلقے میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ اپوزیشن امیدواروں نے اپنے پولنگ ایجنٹوں کو باقاعدہ گنتی کی پکی رسید نہ ملنے کی شکایت نہ کی ہو۔۔۔جاری ہے

ایک ایک حلقے میں کم و بیش بیس بیس ہزار جعلی ووٹوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے انتخابی نتائج کا اعلان کرنے کے لیے جو الیکشن سیل بنایا گیا، اس کا براہ راست حمید گل سے رابطہ تھا، جنہوں نے اپنا الگ کنڑول روم بھی بنا رکھا تھا اور وہیں سے تمام نتائج الیکشن سیل کو فراہم کیے جا رہے تھے۔ یوں پیپلزپارٹی کو شکست دے کر نواز شریف کو اقتدار میں لایا گیا۔ آج شکوہ کرنے والے نواز شریف کو شکر کرنا چاہیے کہ ان کے خلاف ایسی دھاندلی نہیں ہوئی۔نواز شریف کی سیاسی پرورش میں آئی ایس آئی کے پانچ بہترین سربراہوں کی صلاحیتیں صرف ہوئیں۔ جنرل غلام جیلانی نے انہیں تخلیق کیا۔ جنرل اخترعبدالرحمن نے آگے بڑھایا، جنرل حمیدگل نے آئی جے آئی بنا کر راستہ دکھایا، جنرل اسد درانی نے اقتدار تک پہنچانے کے لیے راہ ہموار کی اور جنرل جاوید ناصر ان کے مشیر بنے۔ لہذا یہ پرانا کھیل ہے، وقت بدلا ہے، کھلاڑی بدلے ہیں۔۔جاری ہے

مگر کھیل نہیں۔ دانیال عزیز، طلال چودھری، مریم نواز، اور نواز شریف کو چاہیے کہ پورا سچ بولیں. بتائیں کہ آج جو کچھ ہمارے ساتھ ہو رہا ہے، اس سے بڑھ کر ہم ماضی میں اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ ایسی ہی سازشوں کا ہم حصہ بن کر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے ہیں۔اگر مریم نواز کا یہ الزام درست بھی ہے کہ نامعلوم نمبروں سے ان کے کارکنوں کو فون کر کے ہراساں کیا جاتا رہا اور یہ کہ ان کا مقابلہ اس قوت سے تھا۔۔جاری ہے

جو بار بار منتخب وزیراعظم پر وار کرتی رہی ہے، اور اگر نواز شریف کا یہ الزام درست بھی ہے کہ ان کے چند کارکنوں کو غائب کیا گیا تب بھی حکمت عملی نہایت ناقص ہے۔ نوازشریف اور ان کے ساتھی مسلسل یہ تاثر دے رہے ہیں کہ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ ان کے خلاف ہے اور ان کا سیاسی مستقبل روشن نہیں دیکھنا چاہتی۔ ایسا کرنے سے نواز شریف تذبذب کا شکار ان الیکٹیبلز (Electables) کو بھی پیغام دے رہے ہیں کہ وہ گھبرا کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لیں جو پہلے ہی پارٹی سے وفاداری کی پروا کیے بغیر اگلی پارلیمنٹ میں اپنی سیٹ پکی کرنے کی فکر میں ہیں۔وقت نازک ہے اور مریم نواز کا لہجہ سخت۔ کیسز سر پر ہیں اور نوازشریف حکمت سے عاری حکمت عملی بنائے ہوئے ہیں۔۔۔جاری ہے

اب تک کی حکمت عملی نے پورے خاندان کو ملک سے باہر دھکیل دیا ہے، اس کا تسلسل ان کے ملک سے باہر قیام کو خودساختہ جلاوطنی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ سعد رفیق کی بات سنیے، کہہ رہے ہیں کہ مریم کو محتاط گفتگو کی ضرورت ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news