200 جوڑوں کے نکاح کروانے والا نکاح خواں جعلی نکلا، دراصل کسی کی شادی ہوئی ہی نہیں بلکہ۔۔۔

بھارتی شہر حیدرآباد میں پولیس نے ایک نکاح خواں کو گرفتار کیا ہے جس نے اب تک 200سے زائد جوڑوں کی شادیاں کروائی تھیں۔ پولیس نے اپنی تفتیش میں اس حوالے سے ایسا انکشاف کیا ہے کہ ان 200سے زائد جوڑوں کی ازدواجی حیثیت پر ہی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔جاری ہے

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ علی عبداللہ رافع نامی یہ قاضی جعلی نکاح خواں ہے اور اس نے جتنی بھی شادیاں کروائی ہیں وہ قانونی نہیں ہیں۔اس نے جتنے بھی سیاہ نامے (شادی کے فارم)جاری کیے تھے وہ سب جعلی تھے۔رپورٹ کے مطابق پولیس قاضی فرید احمد خان نامی ایک اور نکاح خواں سے بھی پوچھ گچھ کر رہی ہے جس کے متعلق پولیس کا کہنا ہے۔۔۔جاری ہے

کہ وہ بھی قاضی علی عبداللہ کا ساتھی ہے اور اسی کی طرح جعلی فارموں پر شادیاں کرواتا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ”وقف بورڈ نے 2014ءسے اب تک علی عبداللہ کو ایک بھی سیاہ نامہ جاری نہیں کیا لیکن اس نے 200سے زائد جوڑوں کی شادیاں کروا دی ہیں۔۔۔جاری ہے

جن کے لیے اس نے کہیں سے جعلی سیاہ نامے حاصل کیے۔ وہ حیدرآباد اور اس کے گردونواح سے کئی کم عمر لڑکیوں کے عرب شہریوں سے بھی نکاح کرواچکا ہے۔“

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔