لاہور میں خوفناک کام شروع ہوگیا گروہ میں شامل خواتین گھروں میں داخل ہو کر خواتین کو میلادکے بہانے ساتھ لے جانے لگیں لیکن دراصل کہاں لے جاتی ہیں آپ بھی اپنے گھر والوں کو خبردار کردیں

اقبال ٹاﺅن ڈویژن میں موٹرسائیکل سوار مرد اور خواتین پر مشتمل گینگ سرگرم، زیور پہننے والی عمر رسیدہ خواتین کو بیہوش اور قتل کرکے لوٹنے کا عمل جاری، خاتون ملزمہ گھروں میں داخل ہو کر محلے میں نئی آئی خاتون ظاہر کرواتے ہوئے میلاد وغیرہ کا کہہ کر ساتھی موٹرسائیکل سوار ملزم کے ہمراہ لیجا کر بیہوش کرتے اور پھر لوٹ لیتے ہیں، ۔۔جاری ہے

چند ماہ کے دوران ایک ہی طرح کے تین سے زائد واقعات، ایک بزرگ خاتون کو قتل کرکے لاش سمن آباد کے علاقہ میں پھینک دی، شہریوں میں شدید خوف و ہراس کی لہر، مرد گھر میں موجود خواتین اور بچوں کو محفوظ کرنے کیلئے گھروں پر تالے لگا کر کام پر جانے لگے۔ معلوم ہوا ہے کہ اقبال ٹاﺅن دویژن کے تھانہ وحدت کالونی، تھانہ سمن آباد، ملت پارک اور اقبال ٹاﺅن کے علاقوں میں گزشتہ چند ماہ سے ایک گروہ متحرک ہے جو بزرگ خواتین کو لوٹتا ہے ۔روزنامہ خبریں کے مطابق وحدت کالونی کے علاقہ الحمد کالونی سلطان باہو روڈ کے رہائشی محمد نیاز نے بتایا ۔۔جاری ہے

کہ میری والدہ صدیقہ بی بی دل کی مریضہ تھیں اور گزشتہ ماہ 28 ستمبر کو گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں کہ اسی دوران ایک نامعلوم خاتون ایک تقریباً 30 سالہ نامعلوم ہنڈا 125 موٹرسائیکل پر سوار لڑکے کے ہمراہ آئی اور کہنے لگی کہ ماں جی میں ساتھ والی گلی میں رہتی ہوں اور حال ہی میں حج کرکے آئی ہوں اور میرے گھ پر محفل میلاد ہے لہذا آپ بزرگ ہیں آپ کے آنے سے میرے گھر میں برکت پڑے گی جس پر میری والدہ نے اسے منع کیا تو وہ ضد کرنے لگی جس پر میری والدہ نے گھر پر موجود میری بیوی کو ساتھ والی گلی میں میلاد کا بتایا اور اس خاتون کے ہمراہ چلی گئیں۔ جاتے ہوئے محلہ داروں نے دیکھا تو اس خاتون کے ساتھ ایک اور خاتون تھی جو ایک موٹرسائیکل سوا کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی اس نے میری والدہ کو ان کے ساتھ بٹھادیا اور خود دوسری طرف چلی گئی۔ محمد نیاز نے روتے ہوئے بتایا کہ جب میری والدہ کافی گھنٹوں تک واپس نہیں آئی تو میں نے ان کی تلاش شروع کردی ۔۔جاری ہے

لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں چلا جس میں نے ریسکیو 1122 کے دفتر رابطہ کرکے اپنی والدہ کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ اس نام کی ایک خاتون کو نیم مردہ حالت میں سروسز ہسپتال پہنچایا گیا ہے جس پر میں اور میرے محلہ دار جب وہاں پہنچے تو وہ وینٹی لیٹر پر آخری سانسیں لے رہی تھیں جو بعد میں دم توڑ گئیں۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے محلہ کے ایک سی سی ٹی وی کیمرے سے اس وقت کی فوٹیج نکلوائی تو اس میں نظر آیا کہ ایک موٹرسائیکل سوار میری والدہ کو پیچھے بیٹھا کر لیجارہا ہے جبکہ میری والدہ کے پیچھے بیٹھی خاتون نے میری والدہ کو پکڑا ہوا ہے۔ بعدازاں لاش سمن آباد ڈونگی گراﺅنڈ کے قریب سے برآمد ہوءی اور جسم پر پہنا ہوا کوئی بھی زیور موجودنہ تھا۔ اپنی جنت کھونے والے محمد نیاز نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے اس کی والدہ کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ۔۔جاری ہے

وحدت کالونی کے رہائشی شہری نیامت علی خان نے بتایا کہ چند ماہ قبل اس کی تقریباً 80 سالہ پھوپھی سلمیٰ بی بی جو کہ بیرون شہر سے ان کے گھر مہمان آئی ہوئی تھی اسے بھی ایک خاتون میلاد کا کہہ کر اپنے ہمراہ لے گئی جہاں انہوں نے بیہوش ہوکر ان سے طلائی زیورات اور نقدی چھین کر قبرستان میں نیم مردہ حالت میں پھینک کر فرار ہوگئے جسے طبی امداد کے بعد بچالیا گیا۔ علاقہ میں اس طرح کی گھناﺅنی وارداتیں کرنے والے گروہ کو کئی ماہ گزرجانے کے باوجود گرفتار نہ کرنے پر شہری پولیس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news