22 سالہ لڑکی

22 سالہ لڑکی کی ماں رشتے والی آنٹی سےارے بہن ! کیسی ہو، ٹھیک ہو،میری بیٹی بہت خوبصورت اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، کوئی ہینڈ سم اور سمارٹ ڈاکٹر ، انجینئر یا بزنس مین لڑکا تلاش کرو سال بعد 26 سالہ لڑکی کی ماںارے بہن ! کیسی ہو، ٹھیک ہو،میری بیٹی کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا؟ بیٹی کہتی ہے کہ میں نے اتنی تعلیم حاصل کی ہے ، کسی ڈاکٹر، انجینئر یا بزنس مین سے کم سے شادی نہیں کروں گی۔ ۔۔جاری ہے


سال بعد 30 سالہ عورت نما لڑکی کی ماںارے بہن ! کیسی ہو، ٹھیک ہو،میری بیٹی کے لیے کوئی رشتہ تلاش ملا؟ کوئی رنڈوا یا بڑی عمر کا بچے والا مرد ہی تلاش کردو،بیٹی کی عمر گزرتی جارہی ہے اور میں قبر میں پیر لٹکائے بیٹھی ہوں۔ سال بعد ………والدین کے مرنے کے بعدعورت نمالڑکی ، بہن بھائیوں پر بوجھ بن کرزندگی گزارنے پر مجبور……تعلیم اس لیے حاصل کی جاتی ہے کہ انسان میں شعور وآگہی پیدا ہو ۔۔جاری ہے

مگر آج کل لڑکیوں کے والدین بیٹیوں کو تعلیم اس لیے دلواتے ہیں کہ ان کا “سٹیٹس ” اچھا ہواور کسی ڈاکٹر ، انجینئر یا بزنس مین لڑکے کو “پھانسا” جاسکے ۔پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو انسان کو مال ودولت کی لالچ اور ہوس کی طرف لے جائے، نتیجتاً لڑکی اپنے والدین اور بہن بھائیوں پر زندگی بھر کے لیے بوجھ بن جائے۔ لڑکیوں کے والدین کو چاہیے ۔۔جاری ہے

کہ وہ مال ودولت کی لالچ اور ہوس کرنے کی بجائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک احکامات کے مطابق بیٹی کے بالغ ہوتے ہی کسی شریف، خاندانی اور حلال کمانے والے لڑکے ، چاہے بہت کم ہی کماتاہو، سے نکاح کردیں اور فضول کے رسموں،نخروں اور شرائط سے اجتناب کریں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news