میں نے اس صحافی سے اپنی کمپین کی کوریج کی درخواست کی تو اس نے کھانے پر بلالیا ملنے گئی تو فوراہی کہنے لگا کہ خاتون نے پاکستانی میڈیا کا شرمناک چہرہ بےنقاب کردیا

میڈیا انڈسٹری کو پڑھے لکھے لوگوں کا شعبہ سمجھا جاتا ہے جس سے وابستہ لوگوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کو شعور دیں گے، لیکن اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ شعور دینے والے خود ہی گمراہی کے راستے پر چل پڑیں۔ اگرچہ کالی بھیڑیں ہر جگہ ہوتی ہیں لیکن حال ہی میں سامنے آنے والے انکشافات سے پتا چلتا ہے کہ میڈیا میں ان کی تعداد افسوسناک حد تک زیادہ ہے۔۔۔۔۔جاری ہے۔

اس کی ایک جھلک ویب سائٹ  کی ایک رپورٹ میں کئے جانےوالے شرمناک انکشافات ہیں، جہاں میڈیا سے وابستہ متعدد خواتین نے بتایا ہے کہ انہیں کام کے دوران ہراساں کیا گیا ہے۔ ایک خاتون نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا ”میں نے ایک انتہائی مشہور اور مقبول رپورٹر کو اپنی کمپین کی کوریج کیلئے بلایا۔ اس نے مجھے واٹس ایپ کے ذریعے پراجیکٹ کی معلومات بتانے کو کہا۔ بعد میں اس نے مجھے کال کی اور جب میں اسے پراجیکٹ کی تفصیلات بتارہی تھی تو وہ کہنے لگا ’پہلے تو مجھے یہ بتائیں کہ آپ کی واٹس ایپ تصویر میں کون ہے؟‘ میں نے حیران ہوتے ہوئے کہا کہ وہ میری ہی تصویر ہے، جس پر وہ کہنے لگا ’اگر وہ آپ ہی ہیں تو پھر تو میں آپ سے ضرور ملوں گا۔۔۔۔۔جاری ہے۔

میں نے اس کی ایسی باتوں کا مثبت ردعمل نہیں دیا، لیکن جب ہماری ملاقات ہوئی تو اس نے بات چیت کے دوران اچانک میرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا اور کہنے لگا کہ ’میں نے اتنے پیارے منہ سے کبھی اتنی پیاری آواز نہیں سنی۔‘ اسے پراجیکٹ کے بارے میں بات چیت کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ اس ملاقات کے بعد بھی میرے ساتھ روابط کی کوشش کرتا رہا لیکن میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔“عوامی مقامات پر فرائض سر انجام دینے والی خواتین صحافیوں کی مشکلات بھی کم نہیں۔ انہیں بعض اوقات کیسی بے حیائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا، اس کا اندازہ ایک خاتون رپورٹر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے سے کیا جا سکتا ہے۔ اس خاتون صحافی نے بتایا ”میں ایک میلے کی رپورٹنگ کیلئے۔۔۔۔جاری ہے۔

ایک درگاہ پر گئی تھی۔ یہ رات کا وقت تھا اور وہاں پر لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ اگرچہ میرے ساتھی میری حفاظت کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس کے باوجود ایک شخص میرے جسم کو پیچھے سے چھورہا تھا۔ اس نے ایسا بار بار کیا، یہاں تک کہ میں ایک پتھر اٹھا کر اسے مارنے کیلئے پیچھے مڑی، لیکن وہ باآسانی ہجوم میں غائب ہوگیا اور میں کچھ بھی نہیں کر سکی۔“

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news