راستے میں چھوٹے بھائی کی نیت خراب ہو گئی اُس نے بڑے بھائی کی بیوی کو

ہندوستان کے بادشاہوں میں سکندر لودھی ایک بڑا مشہور اور نیک بادشاہ گزرا ہے۔وہ بڑا خدا ترس، منتظم اور منصف بادشاہ تھا، سترہ بڑے بڑے عالم آدھی رات تک اسکے پاس بیٹھے رہتے تھے۔۔جاری ہے۔

جن سے وہ اسلامی احکام جاننے میں مدد لیتا تھا۔وہ خود بھی عالم تھا اور قرآن و حدیث کے مطالعے جاری رکھتا تھا۔ انصاف کرنے میں وہ کسی کی طرفداری اور رعایت نہیں کرتا تھا اور غریب سے غریب آدمی کو اپنا مقدمہ بادشاہ تک لے جانے میں آسانی ہوتی تھی۔بڑے الجھے ہوئے مقدمات کا فیصلہ وہ بڑی آسانی سے کر دیا کرتا تھا۔ اس کےایک فیصلے سے اس کی ذہانت کا بھی پتہ چلتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس کے زمانہ میں غریب سے غریب آدمی کو انصاف حاصل کرنے میں کتنی آسانی تھی؟ سکندر لودھی کے زمانہ میں گوالیار کے دو غریب بھائی فوج میں بھرتی ہوئے۔۔۔جاری ہے۔

کہیں سے دو لعل اُن کے ہاتھ لگ گئے۔دونوں نے ایک ایک آپس میں بانٹ لیا۔لعل پا کر چھوٹے بھائی نے کہا:” اب میں نوکری نہیں کروں گا، اس کو بیچ کر کوئی تجارت کروں گا اور بچوں کے ساتھ رہوں گا۔” یہ سن کر بڑے بھائی نے کہا”بھیا! میرے حصّے کا لعل بھی لیتے جاؤ،اپنی بھاوج کو دے دینا، میں تو ابھی نوکری نہیں چھوڑوں گا۔” چھوٹا بھائی دونوں لعل لے کر گھر کو چلا۔ راستے میں اس کی نیت خراب ہو گئی۔اس نے بھائی کا لعل بھاوج کو نہیں دیا۔ اپنے پاس ہی رکھ لیا اور اپنے دھندے میں لگ گیا۔ کچھ دنوں بعد بڑا بھائی چھٹی لے کر گھر آیا، بیوی سے کہا:” میں نے بھیا کے ہاتھ لعل بھیجا تھا۔۔جاری ہے۔

تم نے اس کا کیا کیا؟” بیوی لعل کا سُن کر ہکا بکا رہ گئی۔ بولی:” لعل کیسا؟ مجھے تو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔” بیوی نے انکار کیا تو اُس وقت چپ رہا لیکن شام کو چھوٹے بھائی سے کہا تو اس نے صاف جواب دیا کہ “میں نے تمہاری بیوی کو دے دیا تھا۔ وہ اگر انکار کر رہی ہے تو وہ جھوٹی ہے۔”اب جھگڑا بڑھا۔ بات عدالت تک پہنچی، چھوٹا بھائی بڑا چالاک تھا اُس نے دو گواہ حاکم کے سامنے پیش کر دیئے اور مقدمہ جیت لیا۔بڑے بھائی کی بیوی نے مقدمہ کا حال سنا تو بہت پریشان ہوئی۔ وہ جھوٹی بھی بنی اور لعل بھی ہاتھ سے گیا۔وہ راجدھانی کی طرف بھاگی آگرہ پہنچی اور بادشاہ کے یہاں اپیل کر دی۔۔۔جاری ہے۔

بادشاہ نے دونوں بھائیوں اور گواہوں کو بلایا۔مقدمہ شروع ہوا تو گواہوں نے یہاں بھی چھوٹے بھائی کی سکھائی ہوئی بات کہہ دی۔دونوں جھوٹ بول دیئے۔ لیکن سکندر لودھی کو کچھ شک ہو گیا اس نے گواہوں سے کہا” تم نے لعل دیکھا تھا؟”گواہوں نے جواب دیا ” جی ہاں دیکھا تھا” یہ سن کر بادشاہ نے موم منگوایا، تھوڑا تھوڑا دونوں کو دیا اور کہا کہ تم دونوں الگ الگ بیٹھو اور جیسا وہ لعل تھا ،ویسا موم کا بنا کر لاؤ۔” گواہ الگ الگ جا بیٹھے لیکن حیران تھے کہ کس شکل کا بنائیں انہوں نے لعل دیکھا نہ تھا۔ وہ جھوٹی گواہی دینے آئے تھے، اب کیا کرتے، بادشاہ کا حکم تھا،۔۔جاری ہے۔

جس طرح ان کی سمجھ میں آیا لعل بنا لائے۔بادشاہ نے دیکھا کہ موم سے بنے ہوئے دونوں لعلوں میں بڑا فرق ہے۔ اب اس نے گواہوں کو ڈانٹا تو سارا بھید کھلا۔بادشاہ نے لعل بڑے بھائی کو دلوایا اور چھوٹے بھائی اور دونوں گواہوں کو قید کا حکم دیا

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani