حضرت عیسی ؑ ایک جنگل سے گزر رہے تھے کہ ایک مُردے کی کھوپڑی نظر آئی

ابن جوزی نے روائت بیان کی ہے کہ  اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک جنگل سے گزر رہے تھے کہ راستے میں ایک مردے کی کھوپڑی نظر آئی آپ کے ساتھیوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعا فرمائیں۔جاری ہے ۔

کہ اللہ پاک اسے قوت گویائی دے اور یہ کھوپڑی ہمیں گزرے ہوئے عجیب و غریب واقعات سنائے آپ نے دو رکعت نماز ادا کی اور اللہ سے دعا کی کہ اس کھوپڑی کو قوت گویائی مل جائے آپ کی دعا قبول ہوئی اور کھوپڑی بول اٹھی اے االلہ کے نبی پوچھئیے کیا پوچھتے ہیں اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔جاری ہے ۔

کہ میں آپ علیہ السلام کے سوالوں کا جواب دوں آپ علیہ السلام نے پوچھا تو اس دنیا کون سی شخصیت رکھتا تھا کھوپڑی نے جواب دیا میں اس زمین پر ایک بادشاہ تھا ہزار برس زندہ رہا مجھ سے ہزار اولار ہوئی ہزار شہر فتح ہزار لشکروں کو شکست دی اور ہزاروں بادشاہ ہوں کو قتل کیا بلا آخر اس فاتح زمانہ کوموت آگئی مجھے اچھی طرح علم ہوگیا۔جاری ہے ۔

کہ  زاہدوتقویٰ سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں اور حرص اور طمع میں ہلاکت ہی ہلاکت ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہنے میں انسان کی عظمت ع عزت ہے موکا جھٹکا باب

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔