نواز شریف قادیانیوں کے کہنے پر ختم نبوتؐ قانون میں کیسے ترمیم کروانا چاہتے تھے، ڈیڑھ سال قبل کیا گیا انکشاف سامنےآگیا

نواز شریف نے اپنے لوگوں سے کہا کہ ختم نبوتؐ کا مسئلہ حل کرو، برائے نام رہنے دو مگر اسے قادیانیوں کیلئے بے ضرر بنا دیا جائے، ختم نبوت ؐقانون میں ترمیم کی سوچ نواز شریف کی تھی،۔۔جاری ہے ۔

جس پر انوشہ رحمان نے عملدرآمد کرایا جبکہ زاہد حامد پل کا کردار ادا کرتے رہے اور نہایت باریکی سے یہ سب کام کیا گیا، نجی ٹی وی پروگرام میں شیخ رشید کے انکشافات۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید احمد سے اینکر نے جب سوال کیا کہ ختم نبوتؐقانون میں ترمیم سے متعلق سب سے پہلے آپ نے اس کی نشاندہی کی ، حکومت نے یہ کام کیوں کیا اور اس کے پیچھے کیا سوچ کارفرما تھی ؟۔۔جاری ہے ۔

جس پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ آج سے ڈیڑھ سال قبل میں نے معروف کالم نگار ارشاد عارف کا ایک کالم پڑھا تھا جس میں انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نواز شریف نے اپنے لوگوں سے کہا ہے کہ ختم نبوتؐ کا مسئلہ حل کرو بے شک یہ برائے نام رہے مگر اسے قادیانیوں کیلئے بے ضرر بنا دیا جائے۔ بنیادی طور پر ختم نبوتؐ میں ترمیم کی سوچ نواز شریف کی تھی جس پر انوشہ رحمان نے عملدرآمد کرایا جبکہ زاہد حامد پل کا کردار ادا کرتے رہے اور نہایت باریکی سے یہ سب کام کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سب معاملے کے پیچھے قادیانی موجود ہیں۔۔جاری ہے ۔

اور انہوں نے یورپی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈہ بھی شروع کرا رکھا ہے کیونکہ وہ یورپی ممالک خصوصاََ کینیڈا، برطانیہ اور انڈیا میں بہت مضبوط ہیں اور ان کی لابی ان ممالک میں نہایت مضبوطی سے سرگرم ہے اور ان کا وہاں پر بہت بڑا سیٹ اپ ہے۔ شیخ رشید نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ میں جب کینیڈا گیا تو وہاں قادیانیوں کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو ملا، انہیں میرے کینیڈا آنے پر اعتراض تھا۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہجب حکومت نے ختم نبوتؐ کے قانون میں ترمیم کی تو اس پر میں نے انہیں کہا کہ آپ نے یہ بہت زیادہ کی ہے۔۔جاری ہے ۔

کیونکہ عقیدہ ختم نبوتؐ تمام مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے ، مسلمان اس بات پر تو اختلاف کر سکتے ہیں کہ شلوار کا پائنچہ اونچا ہو یا نیچا کیونکہ یہ فقہی مسائل ہیں مگر ناموس رسالتؐ اور ختم نبوتؐ پر تمام مسلمان اکٹھے اور یک زبان ہیں۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول کریں ۔↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news