امریکی صدر نے کن مسلمان ممالک کے مشورے سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا؟ تہلکہ خیز خبر نے مسلمانوں کے ہوش اڑا دئیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے پہلے اہم مسلم ممالک سے مشورہ کیا تھا جس کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا،

چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں و سینئر صحافی ضیا شاہد کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں کے چیف ایڈیٹر اور سینئر صحافیضیا شاہد نے نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے پہلے اہم مسلم ممالک سے مشورہ کیا

 
تھا جس کے بعد اس فیصلے کا اعلان کیا،۔ ضیا شاہد نے اسرائیلی ٹی وی کے دعویٰ کے مطابق ان ممالک کا نام بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے سے پہلے جن ممالک سے مشورہ کیا تھا ان میں سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور مصر شامل ہیں۔ضیا شاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سینئر خاتون سیاستدان سیدہ عابدہ حسین نے میرے پروگرام میں کہا تھا کہ امریکہ سے مطالبات منوانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسرائیل پر دبائو ڈالا جائے۔ یورپ سمیت کئی ممالک امریکی صدر کے اس فیصلے کے خلاف ہیں، تیل کی فراہمی معطل اور تجارت اگر بند کر دی جائے تو امریکہ ایک گھنٹے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ سینئر صحافی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے چینل 10کی نشریات میں کہا گیا ہے

کہ امریکہ نے جن مسلمان ممالک کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلے سعودی عرب کا نام آتا ہے، محمد بن سلمان کچھ عرصہ سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر روابط رکھے ہوئے ہیں بلکہ اپنی بادشاہت کو مستحکم کرنے کےلئے کوشش کر رہے ہیں تاکہ اسرائیل سے درپردہ مدد حاصل کر سکیں گے۔ محمد بن سلمان کے علاوہ متحدہ عرب امارات کا بھینام لیا جا رہا ہے کہ یہ بھی مشاورت کیے جانے والے مسلم ممالک میں شامل ہے تیسرے نمبر پر مصر کا نام اسی چینل نے لیا ہے۔ طیب اردگان اگرچہ دنیا میں ممتاز مقام ضرور رکھتے ہیں لیکن ترکی نے بہت عرصہ سے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے۔ ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کوئی اہم کردار ادا کر سکے گا۔

روس اور چین، فلسطینیوں کی حمایت کےلئے نہیں بلکہ امریکہ کی مخالفت پر سامنےآ سکتے ہیں اسے یونی لیٹرل کہتے ہیں۔ یقیناً یہ دونوں ممالک امریکہ کو کلین چٹ نہیں دینے دیں گے اور دونوں مدافعت کریں گے لیکن وہ بھی کسی حد تک،سب مسلمان ملکوں کو اس کا علم تھا مگر انہوں نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ صدر ٹرمپ نے اب اس قانون کے مطابق اعلان کیا ہے جو 1995ءمیں منظور ہوا اور جسے یروشلم ایمبیسی ایکٹ کا نام دیا گیا تھا۔

پاکستانی حکومت ماضی کیطرح بھاگ دوڑ کر کے اگر اسلامی ممالک کو اکٹھا کر دیتی ہے جیسا کہ بھٹو دور میں اور کچھ ضیاءالحق کے دور میں ہوا تھا۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news