ایک گاؤں میں چار جگری دوست رہتے تھے ایک دن

ایک گاؤں میں چار جگری دوست رہتے تھے، ان کے گاؤں میں قحط پڑ گیا۔ سب لوگ بہت پریشان ہوئے۔ ان چاروں میں سے تین بہت پڑھے لکھے عالم فاضل تھے اور چوتھا ان پڑھ تھا۔

انہوں نے مل کر سوچا کہ کسی اور شہر کا رخ کیا جائے۔ نکل پڑے ، راستے میں ایک جنگل پڑتا تھا۔ جنگل سے گزر رہے تھے کہ ایک کی نظر ایک ڈھانچے پر پڑی، ایک شیر کا ڈھانچہ تھا۔ اس نے باقی چاروں کو اشارہ کر کے دکھایا کہ وہ دیکھو، شیر کی ہڈیاں۔ تینوں دوست جو بہت پڑھے لکھے تھے، بہت خوش ہوئے اور سوچا کیوں نہ اپنے علم کا امتحان لیں۔ ایک نے ہڈیاں ایک ساتھ رکھیں اور اپنے علم کی بدولت ان ہڈیوں کو ٹھیک ٹھیک ترتیب دینے لگ گیا، بہت جلد اس نے ایک ٹھیک ٹھاک ڈھانچہ کھڑا کرڈھانچہ کھڑا کر لیا، پھر دوسرے عالم فاضل دوست نے اپنے علم سے اس کے پٹھے اور گوشت بنائے اور ڈھانچے پر چڑھا دیا۔

اتنے میں تیسرا عالم بولا: اب میری باری ہے میں اس میں اپنے علم سے جان پھونک دوں گا اور اس طرح یہ شیر مکمل ہو جائے گا اور زندہ ہو جائے گا، یہ سب ہماری ہوشیاری کی بدولت ہو گا۔ کیا بات ہے ہماری ہم کتنے عقل مند ہیں، چوتھا دوست جو ان پڑھ تھا، ان کو دیکھ رہا تھا، جلدی سے بولا: یارو کیا کر رہے ہو، پلیز رک جاؤ، اپنے آپ کو اس مصیبت سے بچاؤ۔ یہ بول کر وہ ساتھ ایک درخت پر چڑھ گیا۔ اب صرف باقی تین عالم نیچے کھڑے تھے، آخری دوست نے اس میں جان پھونک دی اورایک آن میں شیر ان تینوں کو کھا گیا۔ کسی کی ایک ہڈی بھی نہ چھوڑی۔

وہ دوست جو ان پڑھ تھا، اوپر درخت پر بیٹھا سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اللہ کا شکر کر رہا تھا کہ اس میں اتنا علم ہی نہیں تھا کہ اپنی انا پرستی میں وہ مستقبل دیکھے بغیر صرف اپنا علم جھاڑنے کے لیے کوئی بھی ایسی بیوقوفی کرتا۔ اکثر زیادہ علم بھی ایک مصیبت بن جاتا ہے، کسی بھی چیز کی زیادتی ہمارے لیے انتہائی زہریلی ہوتی ہے۔ ایسا علم جو انسان میں تکبر پیدا کر دے، وہ ایسے ہے کہ باقی تمام انسانیت کی بربادی کا ذریعہ۔ ایسا علم جو عاجزی پیدا کرے وہ انمول ہے اور جو علم غرور پیدا کرے وہ انسان کے دماغ کے لیے ایک ناسور ہوتا ہے۔ ہمیشہ پہلے سوچنا چاہیے

اور پھر کوئی بھی قدم اٹھانا چاہیے ہے۔ اگر ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سوچ لیں تو بعد میں کم پچھتائیں۔ جلد بازی اور غرور کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani