کنواری سہاگن

جھے کچھ کام ہے۔ رقیہ نے آٹھ سالہ اکبر کا ہاتھ پکڑ کے اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔ پر جانا کہاں ہے؟ اکبر نے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس سے پوچھا۔بس تو چل نا۔ دیکھ میرے پاس دس کا نوٹ ہے تجھے چاہیے نا؟ رقیہ نے اکبر کو لالچ دیتے ہوئے اپنے دوپٹے کے پلو کی گرہ کھولی اور اس میں سے تڑا مڑا سا دس کا نوٹ نکال کے اس کی آنکھوں کے آگے لہراتے ہوئے کہا۔

اچھا چلتا ہوں۔ اکبر پیسوں کے لالچ میں بستر سے نیچے اتر آیا۔مگر ایک شرط ہے پیسے پہلے دینے ہوں گے۔ بعد میں تم مکر جاؤ گی۔اکبر نے چمکتی آنکھوں سے کہا۔ لے پکڑ اور جلدی کر دیر ہو رہی ہے۔ رقیہ بہت جلدی میں لگ رہی تھی۔دونوں اپنے گوٹھ کے کچی مٹی سے بنے گھر کی چار دیواری سے نکل کرسے نکل کر کھیتوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔شام کافی گہری ہو چکی تھی۔ رقیہ تیز تیز قدم اٹھا کے چل رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پیچھے مڑ مڑ کر اکبر کو دیکھتی تھی کہ وہ آ بھی رہا ہے یا نہیں۔ پھر اسے اپنے سے کچھ فاصلے پر آتا دیکھ کر مطمئن ہو کر چلنے لگ جاتی۔ یہ سلسلہ تھوڑی دیر تک چلتا رہا۔ اکبر کی سانس پھولنے لگی تو وہ رک گیا اور پوچھا اور کتنا آگے جانا ہے؟ میں تھک گیا ہوں اور نہیں چلا جاتا مجھ سے۔ وہ تھوڑا روہانسا ہو کر بولا۔ بس تھوڑا سا ہی آگے جانا ہے۔ ہمت کر لے۔ اچھا چلو دس روپے اور لے لینا۔ رقیہ نے دوبارہ اسکی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔

دس روپے کا نام سن کے اکبر کی ٹانگوں میں بجلی سی آ گئی اور وہ دوبارہ رقیہ کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ تھوڑے فاصلے پر ایک سایہ درخت سے ٹیک لگائے محو انتظار تھا۔ ان دونوں کو دور سے آتے دیکھ کر درخت کی اوٹ میں ہو گیا۔ کچھ دیر بعد درخت کی اوٹ میں ایک نہیں دو سائے تھے۔ تھوڑے فاصلے پر بیٹھا اکبر رقیہ سے ملنے والے بیس روپوں کے بارے میں سوچ سوچ کر خوشی سے نہال ہو رہا تھا۔ رقیہ سولہ سال کی من موہنی صورت کی لڑکی تھی۔ اپنے چچا کے گھر آئے ہوئے لطیف نے اسے دیکھا تو دل ہار بیٹھا۔ اور پانی بھرنے جاتے ہوئے رقیہ نے لطیف کو اسی جگہ ملنے کا وعدہ کر لیا۔ اچھا لطیف میں چلتی ہوں۔ اکبر اکیلا بیٹھا ہے کہیں آ نہ جائے۔ رقیہ نے بے ترتیب ہوا دوپٹہ سر پہ جماتے ہوئے کہا۔تم اپنے بھائی کو اپنے ساتھ نہ لایا کرو۔ مجھے اچھا نہیں لگتا۔ لطیف نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔ بھائی؟؟ رقیہ نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔

ارے پاگل وہ میرا بھائی نہیں میرا گھر والا ہے۔آج سے دو سال پہلے میری اماں کا انتقال ہوا تو ابا نے چاچا رسول بخش کی بیٹی آمنہ کا رشتہ مانگا۔چاچا رسول بخش نے بدلے میں اپنے چھ سالہ بیٹے اکبر کے لئے میرا رشتہ مانگا۔ابا کو بھلا کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ اور ویسے بھی آمنہ جیسی نوجوان لڑکی کے لئے وہ کسی بھی چیز کی قربانی دے سکتے تھے۔ میں چھ سالہ اکبر کے کپڑے بدلتی۔ اس کے ساتھ کھیلتی اسے لوری دے کے سلاتی بھی تھی۔ آخر کو خاوند ہے وہ میرا۔ رقیہ کی آنکھوں سے جھڑی بہہ نکلی۔

دوپٹے سے اپنی آنکھیں اور ناک صاف کر کے اس نے لطیف کے دیے ہوئے پچاس میں سے چالیس دوپٹے کے پلو سے باندھ لئے اور دس روپے اکبر کو دینے کے لئے مٹھی میں پکڑ لئے۔ جاتے جاتے وہ رکی اور لطیف کی طرف مڑ کے پوچھا۔ لطیف ایک بات بتاؤ۔ کیا تم نے کبھی میرے جیسی کنواری سہاگن دیکھی؟؟

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : Kahani