وہ لڑکیاں کالج آنے کے بعد لپ سٹک لگا لیتی تھیں

یہ  کے ایک پرائیویٹ ہائی سکول کی سچی کہانی ہے۔ سکول والوں کو مسئلہ ہونا شروع ہو گیا جب بارہ سال کی لڑکیوں نے لپ سٹک لگانی شروع کر دی۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ مخلوط نظام ہونے کی وجہ سے لڑکے لڑکیوں کے درمیان کشش بڑھ رہی تھی۔ مشکل یہ تھی

کہ وہ لڑکیا ں اپنے ہونٹوں پر لپ سٹک لگانے کے بعد واشرومزکے شیشوں پر کسسز کرتی تھیں اور پورے شیشے کس کے نشانوں سے بھر جاتے تھے۔ سکول کی پرنسپل نے بار بار چپڑاسی کی شکایت پر اس بات کا سختی سے نوٹس لیا اور اس نے ایک بہت چالاک اور ہوشیار میڈم کو یہ ذمہ داری سونپی کہ آئندہ لڑکیا ں اس طرح کی کوئی چیپ حرکت کرتے نہ نظر آئیں۔ لڑ کیوں کو لپ سٹک لگانے کی اجازت تھی بس وہ شیشے ایسے گندےشیشے ایسے گندے نہ کرتی پھریں۔ اس میڈم نے ساری لڑکیوں کو ایک ہال میں جمع کیا اور ان کے سامنے اعلان کیا کہ شیشوں کی صفائی سکول کے چپڑاسیوں کے لیے بہت دشوار ہوتی جارہی تھی۔ ایک ایک نشان کو مٹانے میں کتنی محنت درکار تھی، تو لڑکیا ں آئندہ اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آئینے پر کوئی ایسا چیپ نشان نہ ملے۔

اگلے دن چپڑاسی پھر اس میڈم کے پاس گیا جس کی ڈیوٹی لگی تھی کہ لڑکیوں کو اس امر سے باز رکھنا ہے۔ چپڑاسی نے بتایا کہ مس کوئی فرق ہی نہیں پڑا بلکہ آپ خود آکر دیکھ لو آج تو سارے لڑکیوں کے واش رومز کے شیشے لپ سٹکس کے نشانوں سے لدے پڑے ہیں۔ اس میڈم کو بہت تپ چڑھی اور اس نے کافی سوچ بچار کی کہ کیسے لڑکیوں کو ایسے کام کرنے سے روکا جائے۔ اس نے ایک پلین بنایا اور چپڑاسی کو اپنے ساتھ لیا۔ مائیک لے کر ہال وے میں اعلان کیا کہ تمام لڑکیاں پھر سے اوڈیٹوریم میں اکٹھی ہو جائیں۔ بارہ سال کی ساری لڑکیاںہال میں جمع ہو گئیں۔ اس نے بولا کہ آپ لوگوں نے میری کل کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا اس لیے آج میں آپ کے ساتھ واشروم میں جاؤں گی۔ ساری لڑکیا ں میرے ہمراہ چلیں گی اور ہم اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ ایک ایک نشان کو مٹانے مین بیچارہ چپڑاسی کتنی محنت کرتا ہے۔

مجھے یقین ہے کہ اس کے بعد آپ کے دل میں احساس اجاگر ہو گا اور آپ دوبارہ ایسی چیپ حرکت نہیں کریں گی۔ اس میڈم کا اصلی پلین کچھ اور تھا۔ خیر وہ لڑکیوں کو واشروم میں لے گئی۔چپڑاسی کو بولا کہ ذرا یہ نشان صاف کرواور چپڑاسی نے پلین کے مطابق اپنا چھوٹا وائپر نکالا ، اس کو ایک کموڈ کے پانی میں ڈبویا اور شیشے پر زور زور سے پھیرنے لگا۔ لڑکیوں نے دیکھا تو ان کو شدید گھن آنے لگی اور اگلے دن سے کبھی کسی لڑکی کا لپ سٹک پرنٹ کبھی کسی شیشے پر نہیں ملا۔ ٹیچر تو کوئی بھی بن سکتا ہے لیکن استاد میں اور معلم میں بہت فرق ہوتا ہے۔ استاد عام ہو سکتا ہے کہ بس سبق پڑھائے اور چلا جائے لیکن ایک ’ایجوکیٹر‘ ایک معلم ہوتا ہے اور اس کا ہوشیار ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔

اس کے لیے صرف عقلمندی کافی نہیں ہوتی بچوں اور بچیوں کے دماغ میں گھسنا اور ان کی سائیکالوجی سمجھنا اور اس کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔ معلم ہونا ضروری ہے، اگر سب ٹیچرز معلم بننے کی کوشش کریں تو بچوں کو صرف پڑھائیں لکھائیں ہی نہیں بلکہ اپنی پریکٹکل مثال سے ان کی بہتر تربیت بھی کر سکتے ہیں۔ سب سے اچھا ٹیچر وہ ہوتا ہے جس کا کیریکٹر مضبوط ہو کیونکہ انسان آپ کی باتوں سے نہیں آپ کی حرکتوں اور عادات سے قائل ہوتے ہیں۔ بولنا کونسی بڑی بات ہے،

ہر کوئی اچھی اچھی باتیں پڑھ کر سنا سکتا ہے لیکن ہر انسان اچھی اور نیک زندگی بسر کر رہا ہو، یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ کہتے ہیں نا کہ۔۔۔مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔