ذوالفقار بھٹو کو پھانسی سے بچانے کا منصوبہ بینظیر اور میر مرتضیٰ بھٹو نے کیسے ناکام بنایا؟تاریخ سے دنگ کردینے والا انکشاف

سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور ذوالفقار علی بھٹو کے انتہائی قریبی ساتھی غلام مصطفیٰ کھر کی سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی اپنی کتاب مائی فیوڈل لارڈ میں لکھتی ہیں . مصطفیٰ کھر نے ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی بچانے کے لیے ان دنوں میں لندن سے ایک تحریک شروع کی جب پاکستان میں بھٹو صاحب کا ٹرائل شروع ہو چکا تھا. ۔۔۔جاری ہے۔


ذوالفقار علی بھٹو کا سب سے بڑا بیٹا میر مرتضی ٰبھٹو اس وقت آکسفورڈ میں زیر تعلیم تھا . مصطفیٰ نے اس سے رابطہ کیا اور اسے پڑھائی چھوڑ کر فورا ً لندن پہنچنے کی ہدایت کی . لندن میں مصطفیٰ نے اس نوجوان طالبعلم کو سیاسی رموز سکھانے کا کام شروع کیا .میر مرتضیٰ چیزوں کو بڑی جلدی سے سمجھ جاتا تھا . اگرچہ مصطفیٰ کھر میر مرتضیٰ کے مزاج سے واقف تھا ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے اس بیٹے کا نہ تو کوئی سیاسی مستقبل دیکھتے تھے اور نہ ہی وہ یہ سمجھتے تھے کہ میر مرتضی انکی زندگی بچانے کے لیے کوئی تحریک چلا سکتا ہے . اسے کامیابی سے ہمکنار کرنا تو دور کی بات تھی. بحرحال مصطفیٰ کو یہ فوقیت حاصل ہو گئی تھی کہ بھٹو کا بیٹا اس کے اشاروں پر چلتا ہے جبکہ میر مرتضی اس شخص سے سیاسی گر سیکھ رہا تھا جسے اس کے والد ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا سیاسی وارث اور جانشین قرار دیا تھا . ۔۔۔جاری ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دنیا بھر کے طاقتور حکمرانوں سے ذاتی تعلقات قائم تھے . خاص طور پر اسلامی ممالک کے مشہور اور طاقتور حکمران ان کی بہت عزت کرتے تھے.انہی لوگوں نے کافی عرصہ بھٹو صاحب کے اقتدار کو سہارا دیے رکھا .مصطفیٰ کھر اور مرتضی ٰبھٹو نے ان سربراہان مملکت سے ملنے کا فیصلہ کیا تاکہ نہ صرف انہیں اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ فوجی جنرلوں پر دباؤ ڈالیں اور ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی میں اپنا کردار ادا کریں بلکہ بھٹو کی زندگی بچانے کے لیے تحریک جاری رکھنے کے لیے فنڈز اور مالی امداد بھی کریں . سب سے پہلے مصطفیٰ کھر اور میر مرتضی ٰبھٹو لیبیا گئے اور معمر قذافی سے ملے . مسٹر بھٹو اور معمر قذافی کے درمیان بہت اچھا اور پیار و احترام والا تعلق ہوتا تھا . معمر قذافی نے مخلص دوستوں کی طرح مرتضی بھٹو اور مصطفیٰ کی بات سنی اور اپنے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کروائی. اس نے مرتضی ٰکو اس تحریک کے لیے ایک خطیر رقم بھی دی. اسی طرح سعودی عرب کے شیخ زاید بن سلطان النہیان نے بھی معمر قذافی کی طرح خلوص کی مثال قائم کردی اور بھاری رقم دینے کے ساتھ ساتھ ہر قسم کے تعاون کا ضرورت پڑنے پر یقین دلایا. مصطفیٰ اور مرتضی ٰبھٹو کے پاس اتنی بڑی رقم آئی تو انوکھے اور خوفناک منصوبے بننے لگے ان لوگوں نے یاسر عرفات سے بھی رابطہ کیا . مصطفیٰ کھر نے رازداری کے ساتھ مجھے بتایا کہ یاسر عرفات نے بھٹو کی زندگی بچانے کا ایک جاندار منصوبہ پیش کیا تھا  ۔۔۔جاری ہے۔

جسکے مطابق فلسطینی کمانڈوز کو پاکستان میں اتارا جانا تھا جنہوں نے راولپنڈی جیل پر حملہ کرنا تھا اور ہر قسم کی رکاوٹ کو ختم کرکے مسٹر بھٹو کو قید کی کوٹھڑی سے نکالنا تھا . جسکے بعد ایک اور برادر اسلامی ملک کا طیارہ ان لوگوں کا چکلالہ ائیر بیس پر انتظار کرتا اور ان لوگوں کو لے کر اپنی منزل کی طرف اڑ جاتا . اس طرح بھٹو صاحب لندن میں ہم لوگوں کے ساتھ آ ملتے اور ضیاء الحق کے آمرانہ اقتدار کے خلاف تحریک چلا سکتے. میر مرتضیٰ بھٹو اس منصوبہ کے ضمن میں اپنی خوشی نہ چھپا سکا اور اس نے کراچی فون کرکے اپنی بہن بےنظیر بھٹو کو سارا منصوبہ بتادیا . بینظیر نے بھی کوئی احتیاط کیے بغیر سوال پر سوال کرکے ساری معلومات حاصل کر لیں . مگر افسوس 70 کلفٹن کے ٹیلیفون ان دنوں ایجنسیاں ٹیپ کرتی تھیں . چنانچہ سارا راز فاش ہو گیا اور آرمی و انتظامیہ نے اس قسم کے کسی منصوبہ کو کچلنے کے لیے تمام اقدامات کر لیے اور ہر جانب ریڈ الرٹ کردیا گیا . ۔۔۔جاری ہے۔

اس رات مصطفیٰ کھر بہت مایوس تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ مرتضی اور بے نظیر بھٹو نے اپنی ایک احمقانہ اور بچگانہ حرکت سے ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے . اور ایسے منصوبہ کو ناکام بنا دیا ہے جس پر عمل کرکے بھٹو صاحب کی زندگی بچانا ممکن تھا.

مزید بہترین آرٹیکل پڑھنے کے لئے نیچے سکرول  کریں۔ ↓↓↓۔

کیٹاگری میں : news